بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 25°C
Saturday, 08 August 2026 | پاکستان: 25 صفر 1448

سیاست کے شور میں خاموش عوام اور معیشت کا کڑا امتحان

Saturday, 8 August, 2026

قوموں کی زندگی میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب وقت صرف گزر نہیں رہا ہوتا بلکہ تاریخ لکھی جا رہی ہوتی ہے۔ یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب فیصلے محض آج کے حالات نہیں بدلتے بلکہ آنے والی نسلوں کے راستے متعین کرتے ہیں۔ پاکستان بھی اس وقت ایک ایسے ہی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف سیاسی بحثوں کا ہجوم ہے، بیانات کی گونج ہے، اقتدار کی کشمکش ہے، جبکہ دوسری طرف ایک خاموش اکثریت ہے جو مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بلوں، علاج کے اخراجات اور بچوں کے مستقبل کی فکر میں مبتلا ہے۔یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ سیاست کسی بھی جمہوری نظام کا بنیادی جزو ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کی خوبصورتی ہے، مگر مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سیاست عوامی مسائل پر پردہ ڈال دے۔ جب ایوانوں میں ہونے والی بحثیں عام آدمی کے گھر کے چولہے کی تپش کو محسوس نہ کر سکیں تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ ریاست کی ترجیحات کیا ہیں عوام کو سیاسی نعروں سے زیادہ اپنے مسائل کے حل کی ضرورت ہے۔ انہیں یہ جاننا ہے کہ روزگار کے دروازے کب کھلیں گے، مہنگائی کا بوجھ کب کم ہوگا اور ان کے خوابوں کو حقیقت کا راستہ کب ملے گا۔معیشت کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ کمزور معیشت صرف اعداد و شمار کو متاثر نہیں کرتی بلکہ انسانوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ایک تنخواہ دار شخص جب مہینے کے اختتام سے پہلے ہی اخراجات کے پہاڑ تلے دب جائے، ایک مزدور جب روزگار کی تلاش میں دروازے کھٹکھٹاتا پھرے، ایک نوجوان جب تعلیم مکمل کرنے کے بعد مواقع کا منتظر رہے، تو یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ایک سماجی چیلنج بن جاتا ہے۔پاکستان کی اصل طاقت اس کے عوام ہیں، لیکن عوام کی طاقت اسی وقت کارآمد بنتی ہے جب انہیں مواقع، تحفظ اور اعتماد حاصل ہو۔ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ تقریروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے مضبوط ہوتا ہے۔ جب پالیسیوں کے اثرات عام آدمی کی زندگی میں نظر آئیں گے، تب ہی ترقی کے دعوے حقیقت کا روپ دھار سکیں گے۔پاکستان کے معاشی مسائل کا حل صرف وقتی اقدامات میں نہیں بلکہ طویل المدتی منصوبہ بندی میں پوشیدہ ہے۔ ہمیں ایسی سوچ درکار ہے جو آنے والے دس، بیس اور تیس سالوں کی ضروریات کو سامنے رکھ کر فیصلے کرے۔ دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو بحرانوں کو مواقع میں تبدیل کرنے کا ہنر جانتی ہیں۔زراعت پاکستان کی معیشت کا وہ ستون ہے جس کے بغیر مضبوط مستقبل کا تصور ممکن نہیں۔ ہمارے کھیت صرف فصلیں پیدا نہیں کرتے بلکہ ملک کے کروڑوں لوگوں کے لیے زندگی کا سامان مہیا کرتے ہیں۔ لیکن آج کسان کئی مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ مہنگے بیج، کھاد، زرعی ادویات، پانی کی کمی اور جدید مشینری تک محدود رسائی نے کسان کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔کسان کو صرف امداد نہیں بلکہ ایک مکمل معاشی منصوبے کی ضرورت ہے۔ اگر ہر علاقے میں زرعی سہولیات، جدید مشینری، بہتر بیج، سائنسی رہنمائی اور مناسب مارکیٹ تک رسائی فراہم کی جائے تو زراعت پاکستان کی معیشت کو نئی قوت دے سکتی ہے۔ ایک خوشحال کسان صرف اپنے گھر کا چراغ روشن نہیں کرتا بلکہ پوری قوم کے معاشی نظام کو توانائی فراہم کرتا ہے۔کسی بھی ملک کی معاشی ترقی صرف بڑے منصوبوں، بلند عمارتوں اور شاہراہوں سے نہیں ہوتی بلکہ اس کا اصل پیمانہ وہ چھوٹا کاروباری شخص ہوتا ہے جو اپنی محدود سرمایہ کاری سے اپنے خاندان کا سہارا بنتا ہے اور دوسروں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے ۔ پاکستان میں دکاندار، ہنرمند، چھوٹے صنعتکار اور کاروباری افراد معیشت کے خاموش سپاہی ہیں، لیکن یہ طبقہ بھی مشکلات کی چکی میں پس رہا ہے۔ بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات، مہنگی فنانسنگ، پیچیدہ قوانین اور کم ہوتی قوتِ خرید نے ان کیلئے کاروبار جاری رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو قومی معاشی پالیسی کا مرکز بنایا جائے ۔آسان قرضوں کی فراہمی، کاروباری تربیت ، جدید ٹیکنالوجی تک رسائی اور غیر ضروری رکاوٹوں کا خاتمہ وہ اقدامات ہیں جو لاکھوں خاندانوں کے حالات بدل سکتے ہیں۔ ایک چھوٹا کاروبار صرف ایک دکان نہیں ہوتا بلکہ اسکے پیچھے کئی خواب، کئی خاندانوں کی ضروریات اور کئی افراد کا مستقبل وابستہ ہوتا ہے۔
پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی نوجوان آبادی ہے۔ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں، لیکن یہ سرمایہ اسی وقت طاقت بنتا ہے جب اسے تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ آج کا نوجوان صرف ملازمت کا منتظر نہیں بلکہ وہ اپنے اندر صلاحیت، تخلیقی سوچ اور آگے بڑھنے کی خواہش رکھتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم کو روزگار سے جوڑا جائے، فنی تربیت کو فروغ دیا جائے اور نوجوانوں کو جدید معیشت کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جائے۔دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، جدید زراعت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ پاکستان کو بھی اپنی نوجوان نسل کو ان شعبوں کیلئے تیار کرنا ہوگا تاکہ ہمارے نوجوان عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کر سکیں۔ ایک ہنر مند نوجوان صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پورے ملک کیلئے معاشی ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے ۔ اسی طرح ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ریاست کو اپنے وسائل بڑھانے کے لیے ایک منصفانہ اور شفاف نظام تشکیل دینا ہوگا۔ صرف موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھانا مسئلے کا حل نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ معیشت کے تمام شعبوں کو مناسب طریقے سے دستاویزی بنایا جائے اور ہر وہ شخص جو ملکی وسائل سے فائدہ اٹھا رہا ہے، اپنی ذمہ داری پوری کرے۔مضبوط معیشت کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی پیداوار میں اضافہ کرے، برآمدات کو فروغ دے اور مقامی صنعتوں کو سہارا دے۔ قرضے کسی بھی ملک کے لیے مستقل حل نہیں ہوتے۔ اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب ایک قوم اپنے وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرتے ہوئے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی صلاحیت پیدا کرے۔گڈ گورننس بھی معاشی ترقی کی بنیادی شرط ہے۔ ایک ایسا نظام جہاں فیصلے شفاف ہوں، ادارے مضبوط ہوں اور عوام کو اپنی آواز مؤثر طریقے سے پہنچانے کا موقع حاصل ہو، وہی نظام دیرپا ترقی کی بنیاد رکھتا ہے۔ مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانا بھی اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے، کیونکہ عوامی مسائل کا بڑا حصہ گلی، محلے اور مقامی سطح سے تعلق رکھتا ہے۔ اگر اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں تو عوامی خدمت کا معیار بہتر ہو سکتا ہے۔ریاست کی اصل کامیابی اس وقت ہوتی ہے جب ایک عام شہری کو یہ احساس ہو کہ وہ اس ملک کا اہم حصہ ہے۔ ایک مزدور کی خوشحالی، ایک کسان کا اطمینان، ایک تاجر کا اعتماد اور ایک نوجوان کی امید دراصل قومی ترقی کے اصل پیمانے ہیں۔پاکستان کو آج سب سے زیادہ ضرورت قومی اتفاقِ رائے کی ہے۔ ہمیں ایسے فیصلوں کی ضرورت ہے جو وقتی سیاسی فائدوں کے بجائے آنے والی نسلوں کے مستقبل کو سامنے رکھ کر کیے جائیں۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر قومی مفاد سب سے بلند ہونا چاہیے۔ کوئی بھی جماعت، ادارہ یا فرد اکیلا پاکستان کو ترقی کی منزل تک نہیں پہنچا سکتا۔ یہ سفر پوری قوم کے مشترکہ عزم سے ہی ممکن ہوگا۔تاریخ ان قوموں کو یاد رکھتی ہے جو مشکلات کے باوجود امید کا دامن نہیں چھوڑتیں۔ پاکستان کے پاس وسائل بھی ہیں، نوجوان طاقت بھی،زرخیز زمین بھی ، زرعی صلاحیت بھی ، د ریا، سمندر، پہاڑ، سارے موسم بھی ، معدنی وسائل بھی اور آگے بڑھنے کے بے شمار مواقع بھی۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اپنی توانائیاں تقسیم کرنے کے بجائے تعمیر کے راستے پر لگائیں۔جب سیاست کا شور کم ہوگا اور عوامی خدمت کی آواز بلند ہوگی، جب فیصلوں کا مرکز اقتدار نہیں بلکہ عوامی بہبود ہوگی، تب پاکستان ایک نئے سفر کا آغاز کرے گا۔ کیونکہ کسی بھی ملک کی حقیقی ترقی اس وقت شروع ہوتی ہے جب عام آدمی کے چہرے پر اطمینان، دل میں امید اور مستقبل کیلئے اعتماد پیدا ہو جائے۔یہی اعتماد پاکستان کی اصل طاقت ہے، اور یہی طاقت اسے ترقی، استحکام اور خوشحالی کی منزل تک لے جا سکتی ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *