لاہور (کاشف شمیم صدیقی ) : سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشیٹوز (سی پی ڈی ائی) پنجاب انفارمیشن کمیشن میں چیف انفارمیشن کمشنر محبوب قادر شاہ،انفارمیشن کمشنرز ڈاکٹر عارف مشتاق اور چوہدری شوکت علی کو ان کے عہدوں سے غیر قانونی طور پر ہٹانے کی شدید مذمت کی ہے۔ مذکورہ افسران کو محکمہ اطلاعات و ثقافت کے نوٹیفیکیشن کے ذریعے پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے دفعہ 5(8) کے تحت ہٹایا جاناشفافیت کے فروغ اور شہریوں کے معلومات تک رسائی کے حق کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔
سی پی ڈی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مختار احمد علی نے اس بات پر زور دیا کہ کمشنروں کو کسی مبینہ بدانتظامی کی وضاحت کا مناسب موقع فراہم کیے بغیر ہٹانا،پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے دفعہ 8 کی ذیلی شقوں 9، 10، اور 11 کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کی مذکورہ شقوں میں واضح طور پر یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ حکومت کمشنرز کو اپنی پوزیشن پیش کرنے کا موقع فراہم کرے، اور اگر مطمئن نہ ہو تو کیس کو پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کو کھلی انکوائری کے لیے بھیج سکتی ہے۔پنجاب اسمبلی کے تحلیل ہونے کی صورت میں پنجاب اسمبلی کا سپیکر ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے گا اور ایسی خصوصی کمیٹی نئی صوبائی اسمبلی کے انتخاب تک صوبائی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے اختیارات استعمال کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب انفارمیشن کمیشن ایک زمہ دار،قانونی اور خود مختار ادارے کے طور پر پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے نفاذ کیلئےاہم کردار ادا کرتا ہے۔ مقررہ طریقہ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انفارمیشن کمشنرز کی برطرفی صوبے کے اندر شہریوں کے معلومات تک رسائی کے بنیادی حق کیلئے خطرہ ہے۔
کمشنر کو غیر قانونی طور پر ہٹانے کے بجائے حکومت پنجاب کو نئے چیف انفارمیشن کمشنرز کی تقرری کا عمل شروع کرنا چاہیے کیونکہ غیر قانونی طور پر ہٹائے گئے چیف انفارمیشن کمشنر کی میعاد مئی 2024 میں مکمل ہونے والی ہے۔ یہ مقصد ایک ریسرچ کمیٹی تشکیل دے کر حاصل کیا جا سکتا ہے۔
سی پی ڈی آئی حکومت پنجاب سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے، کمشنروں کو بحال کرنے اور پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمدکرنے کی اپیل کرتا ہے۔ سی پی ڈی آئی، پنجاب انفارمیشن کمیشن کی آذادی اور شفافیت کو یقینی بنانے اور شہریوں کے معلومات کے حق کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کرتا ہے جس کی ضمانت آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 اے میں دی گئی ہے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں