بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Monday, 06 July 2026 | پاکستان: 22 محرم 1448

ظلم و بے حسی کی تاریخ اور چیتے کا جگر

Monday, 6 July, 2026

انسانی تاریخ نے ظلم کی اتنی بے رحمانہ تاریخ نہیں دیکھی ہو گی، مظلوموں کی بے بسی کی اور نہ عالمی اداروں کی اتنی بے حسی کی۔ پوری دنیا بشمول بعض مسلم ممالک نے اسرائیل کو جارحانہ و توسیع پسندانہ عزائم کے تکمیل کی غیر اعلانیہ چھٹی دے رکھی ہے۔ پہلے فلسطین پھر غزہ اور اب لبنان۔ ظالم اتنا خود سر کہ اب اوآئی سی اور اقوام متحدہ روایتی مذمتی اجلاس بلانے کی بے سود زحمت بھی نہیں کرتے۔ اسرائیل اپنے سرپرست امریکہ کے سر پر عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتا پھرتا ہے مگر اسے کوئی لگام ڈالنے کو تیار نہیں۔عالمی ادارے کی غزہ پر رپورٹ پر کلیجہ منہ کو آتا ہے اور ندامت بلکہ بے ضمیری پر روح شرمندہ ہوتی ہے کہ غزہ میں 21 ہزار بچوں کو براہ راست گولیاں ماری گئیں جن میں 450 بچوں کی عمریں 6 ماہ سے کم۔ غزہ میں اسرائیلی بربریت سے ہلاکو تو شرمندہ ہو گا مگر تاریخ انسانی حقوق کے علمبرداروں اور مسلم دنیا کی بے حسی کا نوحہ بھی لکھے گی۔ کہیں مفادات کی زنجیروں نے ممالک کو ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے سے روک رکھا ہے تو کہیں جرم ضعیفی پاوں کی بیڑیاں۔ شیطان یاہو اور درندے مودی کی دوستی یونہی نہیں دونوں انسانیت کے قاتل اور مسلم دشمنی میں اندھے۔ یہ کہنا کتنا تلخ ہے کہ تاریخ اگر بے رحم اسرائیل اور قاتل مودی پر لعنت بھیجے گی تو ظلم و بربریت پر خاموشی کے جرم سے مسلم بھی تو نہیں بچ پائیں گے۔ کیا غزہ، فلسطین اور کشمیر میں قتل ہونے والے معصوم بچوں کا ہاتھ روز قیامت طاقتور ریاستوں کے حکمرانوں بالخصوص جو اس سب کے باوجود بھارت اور اسرائیل سے دوستی کے دم بھرتے ہیں، کے گریبانوں پہ نہیں ہو گا ؟۔انسانی تاریخ نے اتنی قتل و غارت اور ظلم بربریت کبھی نہیں دیکھی ہو گی۔ اسرائیل کی خود سری دیکھیے کہ باوجود امریکہ کے منع کرنے کے اس نے مذاکرات کے دوران ایرانی وفد کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ مگر پاکستان کے حفاظتی اقدامات اور اسرائیل کو ایسی غلطی پر پاکستانی جواب کے پیغام نے اسے بل میں گھسنے پر مجبور کیا۔
چیتے کا جگر چاہئیے شاہیں کا تجسس
جی سکتے ہیں بے روشنی دانش افرنگ
پاکستان نے کٹھن ترین حالات میں برادر اسلامی ملک کے ساتھ کھڑے ہو کر حق دوستی ادا کیا۔ رہبر معظم کے جنازہ اور آخری رسومات میں دنیا بھر میں سب سے بڑا نمایاں اور اعلی ترین وفد پاکستان کا ہی رہا۔ کچھ ممالک کےلئے یہ موقع تھا کہ وہ غم کے ان لمحات میں ایرانی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر دل جیتے۔ سعودی عرب اس کی بہترین مثال کہ جس نے اس موقع پر ذمہ دارانہ کردار ادا کیا کہ باوجود دعوت نہ ہونے کے انہوں نے آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کی۔ جبکہ امریکہ خلیجی ممالک کو اس میں عدم شرکت کا بالواسطہ پیغام بھی بھجوا چکا تھا۔ بھارت نے بھی موقع گنوایا جبکہ افغان طالبان کے وفد کی سبکی دنیا نے دیکھی اس کے مقابل احمد شاہ مسعود کے بیٹے کو سرکاری طور پر پذیرائی دی گئی۔ شہید کی موت کو قوم کی حیات میں بدلنے کا نظارہ ایران میں جاری کہ صدر ٹرمپ جیسے لاابالی اور متلون مزاج شخص کو بھی آیت اللہ خامنہ ای سے عوامی محبت و عقیدت کے اظہار پر اظہار تعجب کرنا پڑا۔ یقینا عزم و استقامت کا ایک عہد تمام ہوا۔ آخری رسومات میں شریک برادرم امجد حسین نقوی نے بتایا کہ ” اہل ایران ہی نہیں دنیا بھر کے 70 ممالک کے وفود رہبر معظم کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہیں جبکہ پاکستانی اعلی سطحی وفد ان سب میں نمایاں اور تاریخ علی خامنہ ای کے جنازہ کے تاریخی مناظر کو یادوں کے دریچوں میں ہمیشہ محفوظ رکھے گی “کہتے ہیں دولت کی طاقت تھی ہے اور رہے گی۔ مگر دولت ہر کامیابی کی کنجی نہیں۔ ایسا ہوتا تو خلیجی ممالک بے پناہ دولت سے حفاظت، عظمت اور عزت خرید سکتے۔ مگر دنیا طاقت کی زبان سمجھتی ہے جیسے معاشی طور پر کمزور شمالی کوریا کی للکار پر امریکہ بھی چپ سادھ لیتا ہے۔ ایران امریکہ ابتدائی مسودہ طے ہونے پر دوحہ کو مذاکرات کا مرکز بنانے کی کوشش کی گئی تا کہ اس کی حیثیت برقرار رہے مگر فیلڈ مارشل کے بغیر قطر دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں ناکام رہا اور ایران امریکہ مذاکرات کا سلسلہ آگے نہ بڑھ سکا۔ اب شنید یہ کہ اگلا دور اسلام آباد میں ہو گا گو کہ پاکستانی ذرائع نے ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی مگر قرائن بتاتے ہیں کہ معاملہ یہیں آنے سے ہی طے ہو گا۔ گرچہ بھارت اسرائیل اور ان کے ہمدرودں کو یہ منظور نہیں مگر اپنے بدخواہوں کو قدرت کے فیصلوں پر شاکر رہنا سیکھنا ہو گا۔ادھر اسرائیل سعودی عرب کی زیر قیادت تشکیل کے مراحل میں مسلم نیٹو سے خائف اور پریشان کہ ان ممالک کو ایک طرف جرات مند پاکستان کی ایٹمی چھتری میسر تو دوسری طرف جدید بحری و فضائی ٹیکنالوجی کا حامل ترکییہ بھی اس کا حصہ۔ کہا جاتا ہے کہ وزیر اعظم کا نیٹو اجلاس سے قبل دورہ اہمیت کا حامل ہے۔ اسرائیلی دفاعی اتحاد کی کوششیں ماند پڑتی نظر آتی ہیں اور اسرائیل کو اہنی تاریخ میں پہلی بار امریکہ سمیت یورپ میں اپنی ساکھ کی بقا کی فکر لاحق۔ موساد کہ جو اپنے دشمنوں کو قتل کرنے میں شہرت رکھتی ہے چین سے بیٹھنے کی نہیں۔ پہلے اس نے کس طرح رابطے کے محفوظ ذریعہ ‘ پیجرز ‘کے ذریعے حزب اللہ کی قیادت کو نشانہ بنایا تو ایران میں اپنے مضبوط نیٹ ورک کے ذریعے علی خامنہ ای سے لیکر ان کی عسکری قیادت کو۔ شنید یہ بھی ہے کہ اسرائیل دل کے آپریشن میں استعمال ہونےوالے سٹنٹس کو بھی بطور ہتھیار استعمال کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ ایسے بدطینت اور دشمنی میں پاگل عفریت سے نمٹنا کوئی آسان نہیں کہ جب اسے دنیا بھر میں سامان حرب و ضرب کی منڈی دستیاب، یورپی ممالک کی درپردہ تو کہیں کھلی حمایت اور طاقتور ممالک میں اس کا معاشی، سیاسی اور معاشرتی نیٹ ورک موجود جبکہ بڑے میڈیا گروپس کی معاونت بھی۔ ایسے میں امریکہ کے پالتو اسرائیل کو صرف بھڑکوں، دعووں اور بیانات سے قابو میں نہیں لایا جا سکتا۔ اس کےلئے فولادی عزم، چیتے کا جگر اور شاہین کی پرواز درکار۔ الحمدللہ پاکستان اس مقام پر ہے کہ جو اپنے بلکہ اپنے دوستوں کی طرف بڑھتے شیطانی ہاتھ کو روک بھی سکے اور کاٹ بھی سکے۔پاکستان پائندہ باد !

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *