بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 19.8°C
Monday, 12 October 2026 | پاکستان: 2 جمادی الاول 1448

عالمی برادری کی ذمہ داری

Monday, 12 October, 2026

حالات اور بدلتی ہوئی صورتحال کے چیلنجوں کے باوجودایماندار ثالث کے طور پر پاکستان کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ حیثیت کو برقرار رکھنے کا سہرا یقینا پالیسی سازوں اور حکمت عملی مرتب کرنے والوں کے سر جاتا ہے۔انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ غیر جانبداری ایمانداری سے جنم لیتی ہے اور پاکستان نے اپنے تمام شراکت داروں اور دوستوں کے سامنے اپنے موقف کو واضح رکھا ہے۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان مشرقِ وسطی کے تنازع میں مزید شدت نہیں چاہتا اور پرامن اور مذاکرات کے ذریعے حل کے عزم پر قائم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی امن و استحکام میں پاکستان کا مفاد وابستہ ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جو ایک ایماندار ثالث کے طور پر کردار ادا کرنے کی اس کی کوششوں کی وضاحت کرتی ہے۔پاکستان نے ایران پر حملے اور اس کی اعلیٰ قیادت کے خاتمے کی مذمت کرنے میں کوئی لگی لپٹی نہیں رکھی اور ساتھ ہی ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے ردعمل میں پڑوسی خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی بھی مذمت کی۔یہ وہی متوازن نقطہ نظر تھا جس نے پاکستان کو ایک قابلِ قبول ثالث بنایا اور ملک جنگ کو رکوانے اور پھر تاریخیاسلام آباد معاہدہکروانے میں کامیاب رہا۔پاکستان غیر جانبداری کی اس پالیسی پر کاربند رہا جبکہ جنگ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر پھیل رہی تھی اور اسلام آباد کا یہ موقف رہا کہ اس کا پھیلائو کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی اچانک سرگرمیوں کے باعث پاکستان کیلئے یقینا پیچیدہ صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب پاکستان کا قریبی ترین اتحادی ہے اور پاکستان اپنی سلامتی اور خودمختاری کو درپیش خطرات کی صورت میں مملکت کے دفاع کو مضبوط بنانے میں مدد کرنے کا پابند ہے۔دوسری جانب،یہ عام تاثر پایا جاتا ہے کہ حوثی ایران کے اشارے پر کارروائیاں کر رہے تھے۔اسی پس منظر میں پاکستان نے پہلے تو تنازع کو محدود کرنے کی بھرپور کوشش کی اور پھر ایران کو مشورہ دیا کہ وہ حوثیوں کو قابو میں رکھے ۔ تاہم اطلاعات کے مطابق تہران کی جانب سے پاکستان کو یہ جواب ملا کہ حوثیوں پر اس کا کوئی اختیار نہیں ہے۔لہٰذا اگر پاکستان دوطرفہ اور سہ فریقی دفاعی معاہدوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے سعودی عرب کے دفاع پر مجبور ہوتا ہے تو ایران اس پر کوئی شکایت نہیں کر سکتا۔مکہ معاہدے پر پاکستان کے موقف کی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور فوجی ترجمان کی جانب سے بارہا وضاحت کی گئی ہے اور دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے بھی اس کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان،ترکی اور سعودی عرب کے درمیان مکہ دفاعی اتحاد کا مقصد جارحیت کے خلاف ان تینوں ممالک کا دفاع کرنا تھا اور اتحادی افواج یمن کے اندر حملے نہیں کریں گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ تینوں ممالک’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کے تحت اپنے اجتماعی دفاعی عزم کو عملی جامہ پہنانے پر متفق ہو گئے ہیں اور انہوں نے عسکری تیاری،انضمام اور باہمی رابطے کو مضبوط بنانے کے اقدامات کی منظوری دی ہے۔اس فیصلے میں طے شدہ فوجی دستے اور صلاحیتیں فراہم کرنے اور منظور شدہ انتظامات اور تینوں ممالک کے قومی قوانین کے مطابق سعودی عرب میں ان کی فوری تعیناتی کو یقینی بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔ترجمان نے ان اطلاعات کو بھی سختی سے مسترد کر دیا کہ پاکستانی لڑاکا طیارے سرحد پار کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں اور انہیں بے بنیاد قرار دیا۔ان تمام باتوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پاکستان پھیلتے ہوئے تنازع میں براہِ راست فریق نہیں بنے گالیکن وہ سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ اور سہ فریقی معاہدوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے اور وعدوں کی پاسداری کرنے میں ہرگز ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کریگا ۔ چونکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکی مندوب نے نشاندہی کی ہے کہ حوثیوں کی سرگرمیاں علاقائی استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہیں،سمندری نقل و حمل کیلئے خطرہ بن رہی ہیں اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا رہی ہیں،اس لیے عالمی برادری کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ اس خطرے کا موثر اور فوری طور پر سدِ باب کرے۔
اصلاحات، نہ کہ مزید مراعات
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں نئے مستقل اراکین کی شمولیت کی مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے،اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ پاکستان،’یونائٹنگ فار کنسنسس’ گروپ اور دیگر ہم خیال ممالک کے ساتھ ملکرایک ایسی اصلاح شدہ کونسل کی وکالت کر رہا ہے جس میں زیادہ نمائندگی موجود ہو۔اصلاحات کا مطالبہ وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ ہے،لیکن مراعات یافتہ مستقل زمرے کو وسعت دینے سے کونسل کی بنیادی کمزوریوں کا حل نہیں نکل سکتا۔اس کے برعکس،اس سے وہی مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے جسے اصلاحات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے:یعنی بین الاقوامی فیصلہ سازی کا ایک غیر مساوی اور اکثر مفلوج نظام۔سلامتی کونسل کا بنیادی مسئلہ محض یہ نہیں ہے کہ بہت کم ممالک کے پاس مستقل نشستیں ہیں۔بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ مستقل رکنیت نے ایک ایسا ڈھانچہ تشکیل دیا ہے جس میں چند ریاستیں پوری عالمی برادری کو متاثر کرنیوالے معاملات پر غیر معمولی اثر و رسوخ رکھتی ہیں ۔ پانچ مستقل اراکین کے ویٹو کے اختیار نے بارہا بڑے تنازعات اور انسانی بحرانوں پر موثر کارروائی کی راہ میں رکاوٹ ڈالی ہے۔اس مراعات یافتہ کلب میں مزید ممالک کو شامل کرنے سے کونسل کو زیادہ جمہوری، نمائندہ اور جوابدہ بنانے کے بجائے تعطل کے مزید مواقع پیدا ہونے کا خدشہ ہوگا۔جیسا کہ سفیر احمد نے بجا طور پر کہا،”کسی بھی نئے انفرادی مستقل رکن کا اضافہ مسئلے کو مزید بڑھا دے گا۔ مسئلہ خود حل نہیں ہو سکتا۔”کونسل کو زیادہ نمائندہ بنانے کیلئے،’یونائٹنگ فار کنسنسس’گروپ کی جانب سے تجویز کردہ زیادہ منطقی طریقہ کار یہ ہے کہ منتخب رکنیت کو بڑھایا جائے اور وقتا فوقتا ہونے والے انتخابات کی بنیاد پر درمیانی مدت کی،باری باری ملنے والی نشستیں متعارف کرائی جائیں۔اس طرح کا انتظام ممالک کی ایک وسیع تعداد کو خاص طور پر ترقی پذیر، درمیانے درجے کی اور علاقائی طاقتوں کو مستقل مراعات کا ایک اور طبقہ بنائے بغیر بین الاقوامی امن و سلامتی میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل بنائے گا۔اس سے یہ بھی یقینی بنایا جا سکے گا کہ نمائندگی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی حقیقتوں کی عکاسی کرے،نہ کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے طاقت کے ڈھانچے کو مستقل طور پر مستحکم کرے۔اس معاملے میں ایک عملی پہلو بھی شامل ہے۔چند مخصوص اضافی ممالک کو مستقل نشستیں دینے سے لامحالہ دیگر ممالک میں عدم اطمینان پیدا ہوگا۔سوال یہ ہے کہ کن ممالک کو اس کا اہل قرار دیا جائے اور کس بنیاد پر–آبادی، معاشی طاقت، عسکری صلاحیت، علاقائی اہمیت یا اقوام متحدہ کیلئے مالی تعاون؟کوئی بھی فارمولا متضاد دعوئوں اور علاقائی رقابتوں کو جنم دے سکتا ہے۔خاص طور پر ایشیا،افریقہ اور لاطینی امریکہ میں ،ایک ملک کو دوسرے پر ترجیح دینا بذاتِ خود سفارتی کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے ۔ لہٰذامستقل بنیادوں پر توسیع سے نمائندگی کا ایک مسئلہ ختم ہو کر دوسرے مسئلے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔گردشی ماڈل کہیں زیادہ منصفانہ ہوگا۔وہ ممالک جو امن کے قیام،تنازعات کی روک تھام اور تنازعات کے حل میں کردار ادا کرنے کی سفارتی صلاحیت اور عزم رکھتے ہوں،وہ وقتاً فوقتاً ہونیوالے انتخابات کے ذریعے کونسل میں نشستیں حاصل کر سکتے ہیں۔درمیانی مدت کیلئے منتخب ہونیوالی نشستیں مستقل استحقاق دیے بغیر تسلسل برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔کونسل میں پاکستان کاتجربہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بین الاقوامی امن و سلامتی میں بامعنی کردار ادا کرنے کیلئے ممالک کو مستقل حیثیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔سلامتی کونسل میں اصلاحات کی یقینا ضرورت ہے لیکن عالمی برادری کو اس رجحان سے بچنا چاہیے کہ وہ دوسری جنگ عظیم کے فاتحین کی طرف سے قائم کردہ فرسودہ درجہ بندی کو بڑے پیمانے پر دوبارہ تشکیل دے۔اصلاحات کا مطلب وسیع تر نمائندگی، زیادہ احتساب اور جمہوری شمولیت ہونا چاہیے،نہ کہ محض ان لوگوں کی تعداد میں اضافہ کرنا جو مستقل استحقاق سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔غیر مساوی نظام کا حل مزید مستقل طاقت کا حصول نہیں،بلکہ گردش کا ایک ایسا منصفانہ نظام ہے جس میں زیادہ سے زیادہ ممالک کو خدمت کا بامعنی موقع مل سکے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *