مولانا عبیداللہ سندھی ایک متفکر عالم، قرآن و سنت کے حکیم اور معاشرتی اصلاح کے نظریہ ساز تھے۔ ان کی فکری پہچان اس حقیقت پر مبنی تھی کہ قرآنِ حکیم صرف ماضی کی شخصیات یا واقعات کا بیان نہیں بلکہ ہر دور کیلئے ایک زندہ منشور ہے۔
موسی و فرعون شبیر و یزید
ایں دو قوت ازحیات آید پدید
(ازل سے نیکی و بدی ایک ساتھ چلتی ہے، بلکہ باہم دست و گریباں ہیں)
ان کے نزدیک فرعون، قارون اور سامری جیسے کردار کسی مخصوص زمانے یا قوم تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ ایسے نظامی کردار ہیں جو ہر دور میں نئی شکلیں اختیار کر کے ظلم و استحصال کے نئے روپ میں سامنے آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ مولانا سندھی بار بار اس بات پر زور دیتے تھے کہ اصل معرکہ فرد سے نہیں بلکہ نظام سے ہوتا ہے۔آج کے حالات پر غور کریں تو یہ حقیقت پوری شدت کے ساتھ واضح ہو جاتی ہے کہ ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں فرعونی اور قارونی نظام پوری قوت کے ساتھ موجود ہیں آج کا فرعون کوئی تخت نشین حکمران نہیں بلکہ وہ ریاستی، عسکری اور ادارہ جاتی طاقت ہے جو قانون، میڈیا اور طاقت کے بل پر عوام کو خاموش رکھتی ہے۔ یہ وہ فرعون ہے جو عوامی مطالبات کو دبانے،حقائق چھپانے اور اپنی مرضی کے فیصلے نافذ کرنے میں مہارت رکھتا ہے وہ عوام کو بظاہر جمہوریت اور سلامتی کے نام پر قابو میں رکھتا ہے مگر حقیقت میں وہ خودساختہ طاقت کے ذریعے معاشرے پر حکمرانی کرتا ہے۔دوسری طرف آج کا قارون وہ سرمایہ دارانہ نظام ہے جو قومی وسائل، زمین، صنعت، بینکنگ اور تجارت پر قابض ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی کے نزدیک قارون محض ایک دولت مند شخص نہیں بلکہ وہ نظام ہے جو دولت کو چند ہاتھوں میں سمیٹ دیتا ہے اور اکثریت کو محرومی، غربت اور احساسِ کمتری کا شکار بناتا ہے۔ آج یہی نظام سود، قرضوں، بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور عالمی سرمایہ کاری کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ یہ قارون نہ صرف اقتصادی طاقت کا مظہر ہے بلکہ سیاسی نظام کے اندر چھپی طاقت کا بھی محافظ ہے ۔ مولانا سندھی اس بات کو بارہا واضح کرتے تھے کہ ظلم کی سب سے خطرناک شکل وہ ہوتی ہے جو اپنی ہی قوم کے اندر سے جنم لے۔ حضرت موسیٰ کو جس طرح فرعون کے ساتھ ساتھ قارون کا سامنا کرنا پڑا بالکل اسی طرح آج بھی اصل خطرہ بیرونی طاقتوں سے زیادہ اندرونی استحصالی طبقے سے ہے جو عوام کے نام پر اقتدار اور دولت دونوں پر قابض ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو اپنی زمین، وسائل اور صنعت پر قبضہ کرتا ہے اور اسی کے ذریعے معاشرے میں محرومی اور ناہمواری کو برقرار رکھتا ہے۔آج کے عالمی منظرنامے میں بھی مولانا سندھی کا نقطہ نظر اپنی اہمیت کھو نہیں گیا۔ دنیا میں طاقتور قومیں اور ادارے جس طرح کمزور ممالک کے وسائل پر قبضہ کرتے ہیں وہ بالکل اسی قارونی نظام کی ایک عالمی شکل ہے۔ وسائل کا ارتکاز اور غربت کا پھیلا دنیا بھر میں جاری ہے اور یہ نظام آج بھی کمزور طبقے کی محرومی کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی کے نزدیک ایسی صورتحال میں سب سے اہم قدم شعور بیدار کرنا ہے کہ ظلم صرف باہر سے نہیں بلکہ اندرونی نظام سے بھی آتا ہے۔قارونی نظام کی بنیاد دولت کے ارتکاز پر ہے جہاں معاشرے کے وسائل چند ہاتھوں میں سمٹ جاتے ہیں اور اکثریت محرومی، غربت اور احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایسے معاشرے میں محنت بے وقعت ہو جاتی ہے اور دولت خود ایک استحصالی ہتھیار بن جاتی ہے۔ آج پاکستان میں ایک چھوٹے طبقے کے ہاتھ میں صنعتیں، بینک، زمین اور سرمایہ جمع ہو کر باقی عوام کو محنت کے ذریعے بھی اپنے حقوق سے محروم رکھتا ہے۔ یہی وہ قارونی نظام ہے جس کے خلاف مولانا سندھی نے قرآن کی روشنی میں جدوجہد کرنے کی ضرورت بیان کی۔مولانا عبیداللہ سندھی یہ بھی واضح کرتے تھے کہ جب تک عوام کو یہ شعور نہیں دیا جاتا کہ ان کا اصل دشمن کون سا نظام ہے محض چہرے بدلنے سے کچھ نہیں بدلے گا۔ آج بھی ہم یہی غلطی دہرا رہے ہیں۔ ہم صرف حکمرانوں کی تنقید کرتے ہیں، مگر نظام کو چیلنج کرنے کی ہمت نہیں کرتے حقیقت یہ ہے کہ اگر فرعونی سیاسی طاقت اور قارونی اقتصادی قوت کو ایک ساتھ نہ چیلنج کیا جائے تو ظلم اور استحصال کی جڑیں مضبوط رہیں گی۔مولانا سندھی کی تعلیمات کے مطابق اسلام کا معاشی تصور نہ سرمایہ داری ہے اور نہ اشتراکیت، بلکہ ایک ایسا عدلِ اجتماعی نظام ہے جو وسائل کی گردش، انصاف کی فراہمی اور محروم طبقوں کی حفاظت پر مبنی ہے۔ آج کے معاشرے میں جب چند خاندان اور کارپوریشن پوری معیشت پر قابض ہوں جب سیاست دولت کی لونڈی بن جائے اور عوام صرف ووٹ دینے تک محدود ہوں تو یہ مولانا سندھی کے بیان کردہ قارونی نظام کی واضح مثال ہے۔مولانا عبیداللہ سندھی کا نظریہ یہ بھی تھا کہ نظام کا استحصالی کردار کسی ایک فرد یا خاندان سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ یہ نظام خود کو برقرار رکھنے کیلئے تمام ذرائع استعمال کرتا ہے سیاسی قوت، میڈیا، مذہب اور معیشت یہی وجہ ہے کہ آج بھی معاشرے کے اندر ناانصافی، غربت اور محرومی کے مسائل جڑ پکڑ چکے ہیں۔ مولانا سندھی ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ صرف حکمران یا بیرونی طاقت کے خلاف آواز اٹھانے سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ نظام کی بنیاد بدلنی ہوگی تاکہ انصاف اور مساوات قائم ہو سکے۔یہی وہ پیغام ہے جو مولانا سندھی آج کے معاشرے کیلئے دیتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم فرعون اور قارون کو نہ صرف ماضی کے قصے سمجھیں بلکہ انہیں آج کے اداروں، سیاستدانوں، سرمایہ دار طبقے اور معاشرتی ڈھانچوں میں پہچانیں۔ قرآن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ظلم کا خاتمہ صرف اس وقت ممکن ہے جب معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی نظام سب کے لیے یکساں اصولوں پر قائم ہوں، اور ہر فرد اپنی محنت اور استعداد کے مطابق محفوظ اور مساوی حقوق حاصل کرے۔مولانا عبیداللہ سندھی کی فکر ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ عوامی شعور اور تعلیم وہ سب سے بڑی قوت ہے جو فرعونی طاقت اور قارونی دولت کے اتحاد کو کمزور کر سکتی ہے۔ جب قومیں اپنے حقوق، وسائل اور عدل کے بارے میں بیدار ہوں گی تو ظلم کے تمام نظام خود بخود ڈھیر ہو جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا سندھی قرآن کو محض مذہبی کتاب نہیں بلکہ نظام عدل، شعور اور اجتماعی فلاح کا منشور سمجھتے تھے۔آخر میں، آج بھی اگر ہم تاریخ اور قرآن کی روشنی میں غور کریں تو یہ بات واضح ہے کہ فرعون ہمیشہ ڈوب جاتے ہیں، قارون زمین میں دھنستے ہیں مگر حق اور عدل کا پیغام ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی ہمیں یہ باور کراتے ہیں کہ نجات افراد کے بدلنے میں نہیں بلکہ نظام کے بدلنے میں ہے۔ آج کے پاکستان اور دنیا کیلئے یہی سب سے بڑا سبق ہے ظلم اور استحصالی قوتوں کے خلاف شعور، عدل اور اجتماعی نظام کی جدوجہد سب سے موثر ہتھیار ہیں۔بقول علامہ محمد اقبال
وہی فرعون و قارون، وہی دارا و سکندر
ہوا ہے قافلہ انسان پھر وہیں جا کر







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں