وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ حالیہ اعلیٰ سطحی اجلاس ملکی معیشت اور علاقائی جغرافیائی سیاست کے نازک موڑ پر ایک انتہائی اہم اور بروقت پیشرفت ہے۔ خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور عالمی تجارتی گزرگاہوں کو درپیش سیکیورٹی خطرات کے تناظر میں، ملکی معیشت پر ان کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا وقت کی اہم ترین ضرورت تھی ۔ وزیراعظم کا یہ بیان کہ خطے کی صورتحال میں غیر یقینی برقرار ہے اور ہمیں ہر ممکنہ چیلنج سے نمٹنے کیلئے تیار رہنا ہوگا موجودہ حالات کی سنگینی کا ایک حقیقت پسندانہ اعتراف ہے۔ پاکستان جو پہلے ہی ایک طویل عرصے سے معاشی بحالی اور استحکام کیلئے کوشاں ہے، عالمی یا علاقائی سطح پر آنے والے کسی بھی نئے معاشی جھٹکے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔پاکستان کی معیشت کا عالمی مارکیٹ اور علاقائی استحکام سے گہرا اور حساس تعلق ہے۔ جب بھی خطے میں جنگی بادل منڈلاتے ہیں یا سیاسی عدم استحکام جنم لیتا ہے تو اس کے براہِ راست اثرات پاکستان پر کئی طریقوں سے مرتب ہوتے ہیں۔ ان میں سب سے بڑا چیلنج توانائی کا بحران اور درآمدی بل میں اضافہ ہے چونکہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات، بالخصوص پٹرولیم مصنوعات کا ایک بہت بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی کشیدگی سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں یکدم بڑھ جاتی ہیں، جس سے پاکستان کا تجارتی خسارہ قابو سے باہر ہونے لگتا ہے اور ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان جنم لیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عالمی بحری راستوں میں کشیدگی کی وجہ سے مال برداری کے اخراجات اور انشورنس کے نرخ بڑھ جاتے ہیں جس کے نتیجے میں درآمدی خام مال مہنگا ہو جاتا ہے اور ہماری برآمدات عالمی منڈیوں میں مسابقت کی دوڑ سے باہر ہونے لگتی ہیں۔ مزید برآں، خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں پاکستانی تارکینِ وطن کی نوکریاں اور ان کی طرف سے بھیجی جانیوالی ترسیلاتِ زر بھی علاقائی جیو پولیٹیکل دبائو کی زد میں آ سکتی ہیں جو ملکی معیشت کیلئے کسی بڑے جھٹکے سے کم نہیں ہوگا۔اس پیچیدہ صورتحال میں سادگی اور کفایت شعاری مہم کا نفاذ ایک ناگزیر ضرورت بن جاتا ہے۔ اجلاس کے دوران پیش کی گئی رپورٹ اور وزیراعظم کی جانب سے اس مہم میں عوام کے بھرپور کردار پر ان کا شکریہ ادا کرنا خوش آئند ہے کیونکہ پاکستانی عوام نے ہمیشہ قومی بحرانوں میں بڑھ چڑھ کر قربانی کی مثال قائم کی ہے۔ تاہم یہاں یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ محض عوام پر قربانی کا بوجھ ڈالنا یا چند معمولی انتظامی اخراجات کم کر دینا طویل مدتی حل نہیں ہے۔ حقیقی سادگی اور کفایت شعاری کا آغاز ہمیشہ حکومتی اشرافیہ اور ریاست کے اعلیٰ ترین عہدوں سے ہونا چاہیے۔ شاہانہ سرکاری اخراجات میں نمایاں کٹوتی، غیر ضروری محکموں کا خاتمہ، اور بیوروکریسی کی مراعات میں کمی وہ اقدامات ہیں جو عوام کا حکومت پر اعتماد بحال کرتے ہیں۔ جب عوام یہ دیکھیں گے کہ ریاست کے حکمران بھی انھی کی طرح سادگی اختیار کر رہے ہیںتو وہ قومی دفاع اور معاشی بقا کیلئے ہر مشکل فیصلے کا ہنسی خوشی خیر مقدم کریں گے۔جہاں تک وزیراعظم کی جانب سے ہر ممکنہ چیلنج سے نمٹنے کیلئے ایک جامع لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت کا تعلق ہے، تو اس کی کامیابی کیلئے حکومت کو روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر ہنگامی بنیادوں پر چند بنیادی اقدامات کرنے ہوں گے۔ مزید برآں ملک کے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا فروغ بے حد ضروری ہے تاکہ گندم، دالوں اور خوردنی تیل کی مقامی پیداوار بڑھا کر ان کی درآمد پر ضائع ہونیوالے قیمتی زرمبادلہ کو بچایا جا سکے۔علاقائی غیر یقینی صورتحال جہاں ایک بڑا چیلنج ہے، وہیں یہ پاکستان کیلئے اپنی معاشی پالیسیوں کو مستقل بنیادوں پر خود کفالت کی طرف موڑنے کا ایک بہترین موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ وزیراعظم کا بروقت اجلاس بلانا اور پیشگی تیاری کی ہدایت کرنا بلاشبہ ایک تعمیراتی قدم ہے لیکن اس کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ان فیصلوں پر کاغذات سے نکل کر کتنی تیزی اور سنجیدگی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ عارضی اور ہنگامی پالیسیوں کے بجائے ایک ایسا مستحکم معاشی ڈھانچہ تیار کیا جائے جو پاکستان کو کسی بھی بیرونی معاشی طوفان کے سامنے ایک مضبوط اور محفوظ ریاست کے طور پر کھڑا رکھ سکے۔
میئرصادق خان کا ایک اور اعزاز
لندن کے نامور میئر صادق خان نے برطانوی سیاسی تاریخ میں ایک اور سنہری باب کا اضافہ کر دیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے اپنے عہدے سے رخصت ہونے سے قبل 26 اہم شخصیات کو تاحیات لارڈ شپ دینے کا اعلان کیا ہے جن میں سب سے نمایاں نام صادق خان کا ہے ۔ یہ برطانوی سیاست میں ان کی طویل اور بے مثال خدمات کا ایک شاندار اعتراف ہے، جس نے انھیں ہائوس آف لارڈز کا تاحیات رکن بننے کا حقدار ٹھہرایا ہے۔صادق خان کا سیاسی سفر محنت، عزم اور عوامی خدمت کی ایک لازوال داستان ہے۔ ایک عام بس ڈرائیور کے بیٹے سے لیکر لندن جیسے عالمی شہر کے پہلے مسلم میئر بننے تک کا سفر ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔ حال ہی میں وہ تیسری مرتبہ لندن کے میئر منتخب ہوئے جو کہ اپنے آپ میں ایک تاریخی ریکارڈ ہے۔ اب انھیں تاحیات لارڈ بنانے کا فیصلہ نہ صرف برطانوی سیاست میں ان کے قد کاٹھ کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ محنت اور عوامی جذبے کے بل بوتے پر برطانوی معاشرے میں کس طرح اعلی ترین اعزازات حاصل کیے جا سکتے ہیں۔برطانوی آئینی اور سیاسی نظام میں “تاحیات لارڈ شپ” کا اعزاز حاصل کرنا انتہائی معتبر سمجھا جاتا ہے۔ اس کے تحت نامزد شخصیت برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالامیں تاحیات نشست حاصل کر لیتی ہے۔ صادق خان کی ہائوس آف لارڈز میں شمولیت سے برطانوی لیبر پارٹی کو ایوانِ بالا میں مزید مضبوطی ملے گی۔ اب وہ میئر کے فرائض کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر قانون سازی، حکومتی پالیسیوں کی نگرانی اور ملکی و بین الاقوامی مسائل پر بحث و مباحثے میں براہِ راست حصہ لے سکیں گے ۔ صادق خان کی یہ کامیابی صرف ان کی ذات تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ برطانیہ میں مقیم تارکین وطن، اقلیتوں اور بالخصوص مسلم برادری کیلئے فخر کا باعث ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر نسل پرستی اور اسلامو فوبیا جیسے چیلنجز سر اٹھا رہے ہیں، ایک مسلمان کا برطانوی اشرافیہ کے اعلیٰ ترین ایوان میں تاحیات رکن مقرر ہونا یہ پیغام دیتا ہے کہ قابلیت اور محنت کا کوئی متبادل نہیں۔ یہ اعزاز آنیوالی نسلوں کیلئے ایک مشعلِ راہ ثابت ہوگا کہ وہ محنت کے ذریعے برطانیہ کے بلند ترین آئینی اور سیاسی عہدوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ برطانوی سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ صادق خان اپنے اس نئے کردار میں بھی اسی لگن اور شفافیت کے ساتھ کام کریں گے جس کیلئے وہ ہمیشہ سے جانے جاتے ہیں۔
یورپی منڈی میں پاکستان کی مضبوط ہوتی پوزیشن
یورپی کمیشن کی تازہ جی ایس پی پلس جائزہ رپورٹ پاکستان کیلئے محض ایک تجارتی دستاویز نہیں بلکہ عالمی سطح پر ملک کی معاشی اور ادارہ جاتی پیش رفت کا اہم اعتراف بھی ہے۔ رپورٹ میں پاکستان کو بدستور اس اسکیم سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک قرار دیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ یورپی منڈی تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی مضبوط ہوئی ہے۔ 2024 میں 7.5 ارب یورو کی برآمدات، 95.1 فیصد رعایتی سہولت کے استعمال اور تقریبا ً732 ملین یورو کی ٹیرف بچت پاکستان کی برآمدی معیشت کیلئے حوصلہ افزا اشاریے ہیں۔ رپورٹ کی اہمیت صرف تجارت تک محدود نہیں۔ انسانی حقوق، اقلیتوں کے تحفظ، خواتین کے حقوق، محنت کشوں کی فلاح، بچوں سے مشقت کے خاتمے، ماحولیاتی تحفظ اور گورننس کے شعبوں میں پاکستان کی قانون سازی اور ادارہ جاتی اصلاحات کو بھی مثبت انداز میں تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی برادری اب صرف قوانین کے نفاذ ہی نہیں بلکہ ان پر موثر عملدرآمد کو بھی اہمیت دے رہی ہے۔تاہم اس کامیابی کو منزل نہیں بلکہ ایک ذمہ داری سمجھنا چاہیے۔ آئندہ مدت میں بھی یہ مراعات برقرار رکھنے کیلئے پاکستان کو اصلاحات کے تسلسل، شفاف حکمرانی، انسانی حقوق کے تحفظ اور برآمدی شعبے کی مسابقت بڑھانے پر مسلسل توجہ دینا ہوگی۔ اگر یہ رفتار برقرار رہی تو یورپی منڈی پاکستان کی معاشی ترقی، روزگار کے فروغ اور پائیدار اقتصادی استحکام میں مزید موثر کردار ادا کر سکتی ہے۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں