یہ جماعت اسلامی والے بھی عجیب چیز ہیں۔ یہ کیسی سیاست کرتے ہیں۔ ساری سیاسی پا رٹیاں کے ممبران توکروڑ لگائو اور الیکشن جیت کے اربوں کمائے والی سیاست کرتے ہیں۔ اورجماعت اسلامی والے اس کرپشن کی سیاست سے دور دور رہتے ہیں۔ سیاست کو عبادت سمجھتے ہیں ۔ سالوں سے اسی مشن پر لگے ہوئے ہیں۔الخدمت فائونڈیشن بنائی ہوئی ہے، جسے براعظم ایشیاء کی سب سے بڑی این جی او مانا جانا جاتاہے۔اس نے غزہ جنگ میں غزہ کے مظلومین مدد کر کے توکمال کر دیا۔ ملک میں زلزلہ یا سیلاب آتاہے تو عوام کی خدمت کرنے سب سے پہلے پہنچ جاتے ہیں ۔ ملک کیادنیا میں کہیں بھی مسلمانوںپر کوئی مشکل آتی ہے تو جماعت والے ان کی مدد کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے ان کے لیے یہ بات مشہور ہو گئی ہے سارے جہاں کادرد ہمارے جگر میںہے۔ ان خدمات کو ایک طرف رکھو تو بھی حکومت کے غلط کاموں کے پیچھے بھی پڑھ جاتے ہے۔ پہلے آئی پی پیز انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسر، یعنی آزاد بجلی گھریا نجی کمپنیاں ہیںجو حکومت پاکستان کو بجلی فروخت کرتی ہیں کا مسئلہ اُٹھا دیا تھا۔ کئی روز راولپنڈی لیاقت باغ روڈ پردھرنا دیا۔اب پٹرولیم پرلیوی بھتہ ٹیکس کے خلاف پاکستان میں ایک ماہ سے چاروں صوبوں کے گورنر ہائوسز کے سامنے اور اب ملک کے چالیس شہروں میںدھرنے اور بیس ستمبر ٢٠٢٦ء کو اسلام آباد مارچ کاامیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے گجرانوالہ شہرکی تاریخ کے سب سے بڑے جلسے میں اعلان کر دیا ہے۔ سارے پاکستان میں جگہ جگہ جاکر عوام کو اسلام آبادمارچ کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ نعیم الرحمان نے اعلان کردیا ہے کہ جب تک حکومت پٹرولیم پر لیوی بھتہ ٹیکس واپس نہیں لیتی جماعت اسلامی پاکستان کے عوام کو ساتھ لیے اسلام آبادپُر امن طریقے سے بیٹھی رہے گی۔ اگر بے نظیربھٹو حکومت١٩٩٦ء والا رویہ رکھا تو پھر وہ خود ذمہ دار ہو گی۔ اب دیکھتے ہیں پہلے جو آئی پی پیز کا مسئلہ جواُٹھایا تھا وہ کیا ہے؟ ۔ حکومت نے بجلی بنانے والی کمپینیوں سے عجیب وغریب معاہدے کئے ہیں۔بجلی کمپنیاں اگر حکومت پاکستان کو بجلی نہ بھی دیں، تب بھی ان کو کیپسیٹی چارجز کے مدد میں پیسے ادا کرے گی۔ اس طرح حکومت پاکستان کو کھربوں سالانہ مستقل نقصان ہو رہا تھا۔ جماعت اسلامی نے یہ مسئلہ اُٹھایاتو حکومت نے جان بچانے کیلئے کہا کہ اس سے تو ملک بدنام ہوجائے گا۔سرمایہ دار ہمارے ملک میں سرمایا نہیںلگائیں گے وغیرہ وغیرہ۔جماعت اسلامی نے احتجاج کیا اور کہایہ کہاں کا انصاف ہے کہ کمپنیاں حکومت پاکستان کو بجلی نہیں دے رہیں اورسالوں سے مفت میں کیپیسٹی چارجز کے نام پر کھروں روپے عوام کے خزانے سے وصول کر رہے ہیں۔ ان بے انصافی کے معاہدوں کو ختم کرکے نئے معاہدے کرو۔ جس سے عوام کاپیسے بچیں اور ملک سے مہنگاہی ختم ہو۔حکومت پاکستان کو جماعت اسلامی نے احتجاج کر کے مجبور کیا۔ حکومت نے معاہدوں پر نظر ثانی کرائی ۔ جماعت اسلامی کے احتجاج سے غریبوں کے خزانے کوکھربوں کا فاہدہ پہنچایا ۔اب جماعت اسلامی نے حکومت سے کہا کہ آپ نے پٹرولیم پرجو یہ لیوی کے نام سے بھتہ ٹیکس لگایا ہوا ہے، یہ عوام پر حکومت ظلم کررہی ہے۔ اس کا ا ثر کسی پیسے والے پر نہیں ،بلکہ موٹرسائیکل چلانیوالے، بائیکیا والے، رکشہ والے اور آٹھ سو سی سی گاڑیوں والوںپر پڑتاہے۔اس بھتہ لیوی ٹیکس کو حکومت ختم کرے ۔ حکومت کہاں مانتی ہے جب تک عوام بھرپور احتجاج نہ کرے ۔ جماعت اسلامی نے ملک کے تین گورنر ہائوسز اور لاہور کی پارلیمنٹ کے سامنے دھرنے شروع کیے، تو حکومتی وفد منصورہ تشریف لایا مذاکرات ہو ئے۔ دھرنے ختم کرنے کا کہا جماعت اسلامی کے امیر نہیں مانے، کہا کہ جب تک لیوی بھتہ ٹیکس ختم نہیں ہوتا دھرنے ختم نہیں ہوں گے۔جماعت اسلامی کا احتجاج جاری رہے گا۔ دوبارہ حکومتی وفد نے ملاقات کی۔تیسری ملاقات کے لیے حکومت نے وقت مانگاہے جومنگل ١٥ستمبرکو ہونی ہے۔ جماعت اسلامی کے اس احتجاج پر حکومت نے موٹر سائیکل رکشا اور آٹھ سو سی سی تک گاڑیوں پرپٹرول پر سو روپے فی لیٹر ریلیف کا اعلان کر دیا ہے ۔جماعت اسلامی کے پڑھے لکھے، حالات پر کڑی نظر رکھنے والے لوگ ہیں۔ وہ عوام کو ذلیل کر کے کہیں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ،یا اب مریم نواز یا دیگر سیاسی لوگوں کے نام سے ریلیف پرگروموں کو سمجھتے ہیں۔ یہ اپنے کارکنوں کو رشوت دے کر ووٹ لینے کے بہانے ہیں اور رشوت دینے کے پروگرام ہیں ۔ عوام کو پریشان کرنیوالے طریقے ہیں۔جیسے حکومتی اہل کاروںکے بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام میں کرپشن کے اسکینڈل سامنے آئے۔ اس اسکیم کا بھی وہی حال ہوگا۔ اس سے عوام کو بچاناہے۔ اس اسکیم میں بھی عوام کی رجسٹریشن ہو گی۔(reg) لکھ کر شاختی کارڈ نمبر (٩٧٧١)پر بھیجیں ، گاڑی نمبر، صوبائی کوڈ اور رجسٹریشن تاریخ بھی درج کرنا ہو گی۔دھکوں کی ماری عوام کو اس لکھت پڑھت میں ڈالنے کے بجائے سیدھے طریقے لیوی بھتہ ٹیکس ختم کرو۔ ورنہ جماعت اسلامی ایسے باتوں سے پیچھے ہٹنے والی نہیں ہے۔ پورے پاکستان میں جماعت اسلامی کے منظم کارکنوں اورعوام کو اسلام آباد مارچ میں شریک کروانے کے انٹظامات میں جھٹ گئے ہیں۔ جماعت اسلامی حلقہ اسلام آبادجو اس مارچ کی میز بان ہے۔ اسلام آباد میں ایک میٹنگ میں انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔مختلف کاموں کو سرانجام دینے کیلئے بیس ستمبر کے اسلام آباد مارچ کیلئے پورے ملک سے آئے مہمانوں کی دیکھ بال کیلئے بیس کمیٹیاں قائم کر دیں ہیں۔ اسی طرح پورے ملک سے خبریں آرہی ہیں کہ ملک میں قائم جماعت اسلامی کا ہر ایک یونٹ اپنے طور پر اسلام مارچ میں شریک ہونے کیلئے انتظامت میں لگے ہوئے ہیں۔راقم ایک صحافی اور جماعت کا ایک کارکن ہونے کی وجہ سے اور مارچوںمیں بھر پورشرکت کی وجہ سے اور سابق امیر جماعت اسلامی مرحوم قاضی حسین احمدکی زیر کمان ١٩٩٦ء کا اسلام آباد مارچ کا تجربہ اور معلومات سے آشنا ہے ۔اسی دھرنے کی وجہ سے مرحوم بے نظیر صاحبہ کی حکومت ختم ہوئی تھی۔لہٰذاحکومت وقت کو ایک نظریاتی ،کرپشن فری ،بہادر اور ملک وملت کی حفاظت کیلئے جان کی بازی لگانے والے جماعت اسلامی سے معاملہ کرنے میں احتیاط برتنے کا مشورہ دیتاہوں۔ جماعت اسلامی اپنی جماعت یا اپنے کارکنوں کیلئے ریلیف نہیں مانگ رہی ہے۔جماعت اسلامی پورے ملک کے عوام کیلئے ریلیف چاہتی ہے۔ اس جائز مطالبہ کو جلد مان کر لیوی بھتہ ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان، مثل مدینہ ریاست کی حفاظت فرمائے ۔آمین






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں