حلقہ احباب سردار خان نیازی کالم

فخر ہوتا ہے قبیلے کا سدا ایک ہی شخص

ایس کے نیازی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ، فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب کی بار بار جو تعریف کر رہے ہیں یہ بے سبب نہیں ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واقعی اپنا آپ منوایا ہے۔ انہوں نے وہ کر دکھایا ہے جو حیران کن ہے، جس کا موجودہ حالات میں زمینی حقائق کی روشنی میں تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ کہاں وہ پاکستان جو تنہا کھڑا تھا اور کہاں یہ پاکستان جو دنیا میں امن کا استعارہ بن چکا ہے۔ آپریشن بنیان المرصوص سے جو سفر شروع ہوا کامران بشارتوں جیسا وہ سفر جاری ہے۔

اس وقت میں جب یہ سطور لکھ رہا ہوں ، امن کے لیے پاکستان کے قائدانہ کردار کی گونج خبروں میں سنائی دے رہی ہے۔

ایک طرف یہ خبر ہے کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں وفد ایران میں موجود ہے جو امریکہ اور ایران میں جنگ بندی کے حوالے سے کچھ چیزیں ایرانی قیادت کے سامنے رکھے گا اور یوں بات آگے بڑھتی رہے گی۔

دوسری وزیراعظم شہباز شریف صاحب ہیں وہ سعودی عرب میں موجود ہیں جس کے بعد وہ قطر اور ترکیہ کے دورے پر روانہ ہو نگے۔

تیسری طرف ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ پاکستان کے وزیر خارجہ کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ اور مستقبل کی صف بندی ہو رہی ہے۔ سعودیہ سے دفاعی معاہدہ ہو چکا ہے ا ور پاکستانی فوجی دستے وہاں پہنچ چکے۔ ترکی بھی خواہاں ہے کہ اسے بھی شامل کر لیا جائے۔

پاک ایران ازبکستان ٹرانزٹ روٹ عملی شکل ا ختیارکر چکا ہے ا ور ایرا ن کے راستے سے تجارتی قافلہ روانہ ہو چکا ہے۔ گوادرا ور کراچی سے وسط ایشیا کے راستے ۔

یعنی ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان اگر ایک سپر پاور نہیں تو ایک علاقائی بہت بڑی طاقت ہے جو سب کو ساتھ لے کر چل رہی ہے ، جس کا سب کے یہاں احترام ہے جو سب سے بات کر سکتی ہے جو امن کا استعارہ ہے جس نے ایک بہت بڑی جنگ کو بچا لیا ہے ۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا ہی ایک ٹویٹ دیکھیے جس میں انہوں نے کہا کہ ایک رات میں ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی اگر اسی ٹویٹ کو ہی ذہن میں رکھیں تو یہ جنگ جب پاکستان نے اپنی شاندار ڈپلومیسی سے ٹال دی اور جنگ کا خطرہ ختم ہوا اور مذاکرات شروع ہوئے سیز فائر ہوا تو گویا آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان نے ایک پوری تہذیب بچا لی۔

اس وقت بھی اگرچہ مذاکرات کا پہلا عمل کسی اعلامیہ تک نہیں پہنچا لیکن آپ اسے ناکام نہیں کہہ سکتے۔ مذاکرات کا پہلا دور ناکام بالکل بھی نہیں ہے۔ مذاکرات کے پہلے دور کے نتیجے میں برف پگھل گئی ہے۔ مذاکرات کے پہلے دور کے نتیجے میں کچھ چیزیں آگے بڑھی ہیں اور اس کے بعد بات چیت جاری ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر پاکستان میں آ کر مذاکراتی عمل میں امریکہ کی شرکت کی بات کی ہے۔ اسی طرح ایران ہے، ایران کی قیادت بھی پاکستان آ کر

مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے اور اس پر آمادگی کا اظہار کر چکی ہے ۔ گویا پاکستان پر دونوں ملکوں کو اعتماد ہے۔

پاکستان جو کر چکا جو کر رہا ہے وہ شاندار ہے۔ پاکستان جس طریقے سے دنیا کو امن کی طرف لے کے جا رہا ہے وہ حیران کن ہے۔ اور پاکستان جس انداز سے امن کی قوتوں کے خوابوں کی تعبیر تلاش کر رہا ہے یہ منظر بھی ہماری آنکھیں تو پہلی بار دیکھ رہی ہیں ۔

بلاشبہ اس کا کریڈٹ وزیراعظم کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اسحاق ڈار کو اور ان کی ساری ٹیم کو جاتا ہے لیکن جیسے کہتے ہیں نا کہ : فخر ہوتا ہے قبیلے کا سدا ایک ہی شخص، تو اس سارے سفرِ شوق میں جو قبیلے کا فخر ہے وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ہے

قیس کا سر پھر کوئی اٹھا نہ بنو عامر میں
فخر ہوتا ہے قبیلے کا سدا ایک ہی شخص

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے