امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کا فرانس کے فسادات کے تناظر میں یہ موقف کہ مغربی ممالک نے تنوع اور ہمدردی کے نام پر تیسری دنیا کے لوگوں کو اپنے معاشروں میں آباد کرکے خود اپنے مسائل میں اضافہ کیا ہے، بظاہر تلخ اور تھپڑ کی طرح محسوس ہوتا ہے لیکن کیا یہ بیان حقیقت کی مکمل ترجمانی کرتا ہے؟ کیا فرانس کے فسادات کا بنیادی سبب تارکینِ وطن ہیں، یا اس بحران کی جڑیں مغرب کی اپنی معاشی پالیسیوں، تاریخی فیصلوں اور سماجی ناہمواریوں میں بھی پیوست ہیں؟ اس سوال کا جواب جذبات کے بجائے تاریخ اور شواہد کی روشنی میں تلاش کرنا چاہیے۔دوسری جنگِ عظیم کے بعد فرانس سمیت متعدد یورپی ممالک کو تباہ شدہ معیشتوں کی تعمیرِ نو اور صنعتی ترقی کیلئے بڑی تعداد میں کارکن درکار تھے۔ مقامی افرادی قوت کی کمی پوری کرنے کیلئے شمالی افریقہ، ترکی اور جنوبی ایشیا سے لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے۔ فرانس کے الجزائر، مراکش اور تیونس کیساتھ نو آبادیاتی تعلقات نے بھی اس نقل مکانی کی بنیاد فراہم کی ۔ اس تاریخی حقیقت کو نظرانداز کرکے یہ کہنا کہ مغرب نے محض انسانی ہمدردی کے تحت تارکینِ وطن کو قبول کیا، معاشی تاریخ کے ایک اہم پہلو سے چشم پوشی ہوگی۔صنعتی ترقی، افرادی قوت کی قلت اور کم اجرت والے شعبوں میں کارکنوں کی ضرورت امیگریشن کے بنیادی محرکات میں شامل تھے۔ تعمیرات، زراعت، صفائی، ہوٹلوں، ریستورانوں اور نگہداشت کے شعبوں میں تارکینِ وطن نے نمایاں خدمات انجام دیں۔بہت سے افراد نے طویل اوقاتِ کار میں محنت کرکے اپنے خاندانوں کا مستقبل سنوارا اور میزبان ممالک کی معیشت کو سہارا دیا۔ بعض شعبوں میں ان کی محنت نے کاروباری اخراجات کم رکھنے اور خدمات کی فراہمی جاری رکھنے میں مدد دی۔ تاہم یہ کہنا بھی درست نہیں کہ تمام تارکینِ وطن کم اجرت پر کام کرتے ہیں یا ان کی آمد لازما مہنگائی کم کرتی ہے؛ ان کے معاشی اثرات کا انحصار شعبے، مہارت، اجرت، رہائش اور حکومتی پالیسیوں پر ہوتا ہے۔وقت گزرنے کیساتھ فرانس کے صنعتی مراکز کے گرد ایسے مضافاتی علاقے وجود میں آئے جہاں تارکینِ وطن اور ان کی دوسری اور تیسری نسل کے افراد بڑی تعداد میں آباد تھے۔ ان علاقوں میں بے روزگاری، معیاری تعلیم تک محدود رسائی، نسلی امتیاز، رہائشی مسائل اور پولیس کیساتھ کشیدہ تعلقات جیسے مسائل نمایاں ہونے لگے۔ 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں بھی فرانس کے بعض مضافات میں شہری بدامنی کے واقعات سامنے آئے۔ یہ مسائل کسی ایک دن پیدا نہیں ہوئے تھے، بلکہ ان کا تعلق کئی دہائیوں پر محیط سماجی اور معاشی تبدیلیوں سے تھا۔اکتوبر 2005 میں دو نوجوانوں کی پولیس سے بچنے کی کوشش کے دوران ہلاکت کے بعد فرانس کے مختلف علاقوں میں شدید فسادات پھوٹ پڑے۔ تقریبا تین ہفتے جاری رہنے والے ان فسادات میں گاڑیاں جلائی گئیں، املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور حکومت کو ہنگامی اقدامات کرنا پڑے۔ ان واقعات نے تارکینِ وطن کے انضمام، نسلی امتیاز، پولیس کے طرزِ عمل اور مضافاتی علاقوں میں معاشی محرومی کے سوالات کو قومی بحث کا موضوع بنا دیا لیکن کیا اس بحران کو صرف امیگریشن کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا تھا؟ اگر ایسا ہوتا تو طویل عرصے سے موجود بے روزگاری، تعلیمی عدم مساوات اور اداروں پر عدم اعتماد کی وضاحت کیسے کی جاتی؟نومبر 2018 میں فرانس کی یلو ویسٹ تحریک نے ایک اور حقیقت واضح کر دی۔ ایندھن کی قیمتوں، ٹیکسوں، قوتِ خرید میں کمی اور حکمران طبقے سے دوری کے خلاف شروع ہونے والی یہ تحریک بڑی حد تک مقامی آبادی کی معاشی شکایات سے عبارت تھی۔ اس میں یہ پیغام نمایاں تھا کہ ترقی یافتہ معیشتوں میں بھی معاشی ترقی کے ثمرات کی غیر مساوی تقسیم عوامی بے چینی اور احتجاج کو جنم دے سکتی ہے۔ اس تحریک کے شرکا کو محض تارکینِ وطن کے مسائل کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا تھا، کیونکہ ان کی شکایات کا تعلق ریاستی پالیسیوں اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے تھا۔جون اور جولائی 2023 میں نوجوان ناہیل مرزوق کی پولیس فائرنگ سے ہلاکت کے بعد فرانس میں دوبارہ شدید فسادات ہوئے۔ دکانیں لوٹی گئیں، گاڑیاں جلائی گئیں اور سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ ان واقعات نے پولیس کے احتساب، ریاستی اداروں پر اعتماد اور نوجوانوں کے احساسِ محرومی کے سوالات کو پھر سے زندہ کر دیا۔ تاہم، کسی نوجوان کی موت پر انصاف کا مطالبہ کرنا اور بے گناہ دکانداروں کی املاک جلانا دو الگ معاملات ہیں۔ جائز احتجاج کسی کو تشدد، لوٹ مار یا عوامی املاک کی تباہی کا حق نہیں دیتا۔اکتوبر 2026 میں فرانس میں جاری احتجاج اور بدامنی کو بھی اسی تاریخی تسلسل میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مہنگائی، روزمرہ اخراجات، عوامی خدمات کے مسائل اور تعلیمی نظام سے متعلق شکایات نے مختلف حلقوں میں بے چینی پیدا کی۔ طلبہ کی تحریک میں تعلیمی وسائل کی کمی، اساتذہ کی قلت اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی جیسے مسائل بھی شامل رہے۔ بعض مقامات پر احتجاج تشدد میں تبدیل ہوا، دکانوں کو لوٹا گیا اور سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ ان جرائم کی مذمت ضروری ہے، لیکن موجودہ بحران کو صرف تارکینِ وطن سے منسوب کرنا ان معاشی اور سیاسی عوامل کو نظرانداز کرنا ہوگا جنہوں نے عوامی بے چینی کو بڑھایا۔یہاں ایڈورڈ سعید کے تصورِ اورینٹلزم کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ سعید نے واضح کیا تھا کہ مغرب نے طویل عرصے تک مشرق کو ایک یکساں، پسماندہ اور غیر عقلی معاشرے کے طور پر پیش کیا۔ جے ڈی وینس کے بیان میں بھی جب تیسری دنیا کو ایک ہی زمرے میں رکھ کر اسے مغربی معاشروں کے مسائل کی بنیادی وجہ قرار دیا جاتا ہے، تو مختلف قوموں، ثقافتوں اور افراد کی حقیقی شناختیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ یہ طرزِ فکر پیچیدہ سماجی مسائل کو ایک سادہ تہذیبی تقسیم میں تبدیل کر دیتا ہے۔ تاہم، اورینٹلزم پر تنقید کا مطلب تارکینِ وطن کے مسائل یا ذمہ داریوں سے انکار نہیں ہونا چاہیے۔قانون کی خلاف ورزی، مذہبی یا سیاسی انتہاپسندی، مخالفین کو ہراساں کرنا اور میزبان معاشرے کے بنیادی اصولوں کی دانستہ خلاف ورزی قابلِ مذمت ہیں۔ پاکستانیوں سمیت تمام تارکینِ وطن کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جس ملک میں وہ روزگار حاصل کرتے ہیں، اس کے قوانین اور شہریوں کا احترام ان کی ذمہ داری ہے۔ بیرونِ ملک سیاسی اختلاف کے نام پر دھمکیاں دینا، تشدد کرنا یا عوامی مقامات کا تقدس پامال کرنا کسی صورت قابلِ دفاع نہیں۔ لیکن ایسے واقعات کی ذمہ داری متعلقہ افراد پر عائد ہونی چاہیے، پوری قوم یا کسی مذہب کے ماننے والوں پر نہیں۔فرانس کا تاریخی تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ معاشرتی بحرانوں کی وجوہات عموما ایک سے زیادہ ہوتی ہیں۔ جے ڈی وینس نے سماجی انضمام اور قانون کی پاسداری کے ایک اہم سوال کو اٹھایا ہے، لیکن اسے ‘تیسری دنیا کی درآمد’ کے بیانیے میں محدود کرکے مسئلے کی پیچیدگی کم کر دی ہے۔ مغربی معیشتوں نے تارکینِ وطن کی محنت سے فائدہ اٹھایا ہے؛ اب انہیں تعلیم، رہائش، مساوی مواقع اور سماجی انضمام کے لیے بھی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ دوسری طرف تارکینِ وطن کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ معاشی حقوق کے ساتھ شہری فرائض وابستہ ہیں۔ایک منصفانہ معاشرہ کسی شخص کو اس کی قومیت یا مذہب کی بنیاد پر مجرم نہیں سمجھتا، لیکن کسی جرم کو شناخت کے نام پر معاف بھی نہیں کرتا۔ فرانس کے فسادات کا حل نہ اجتماعی مذمت میں ہے، نہ اندھی حمایت میں۔ قانون کی غیر جانب دار حکمرانی، معاشی انصاف، اداروں کی جواب دہی، شہری ذمہ داری اور باہمی احترام ہی وہ اصول ہیں جن پر ایک مستحکم معاشرہ تعمیر ہو سکتا ہے۔ تہذیبوں کے درمیان حقیقی مکالمہ الزام تراشی سے نہیں، بلکہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے اور دوسروں کو انصاف کے ساتھ سمجھنے سے شروع ہوتا ہے۔




تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں