بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 15.2°C
Tuesday, 27 October 2026 | پاکستان: 17 جمادی الاول 1448

مکہ معاہدے سے بد ر معاہدے تک

Tuesday, 27 October, 2026

قطر کے دارالحکومت دوہا میں پاکستان، انڈونیشیا، ترکیہ اور قطر کے درمیان ایک مفاہمتی پادداشت یعنی میمورنڈم آف انڈر سٹینڈنگ طے پایا ہے جس کے تحت چاروں اسلامی ممالک دفاعی ٹیکنالوجی، ریسرچ، پروڈکشن اور مشترکہ مشقوں کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے اور مزید کوئی ممالک اس میں شریک ہونا چاہیں تو طے شدہ اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔قبل ازیں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ “مکہ معاہدہ” کے نام سے ہوا ہے جس کے تحت ایک ملک پر حملہ معاہدے کے باقی فریقین پر حملہ تصور ہوگا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون گزشتہ کئی دہائیوں سے بے مثال ہے۔ پاکستانی حرمین شریفین کے دفاع کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ مکہ اور مدینہ کی مقدس سرزمین کا دفاع ہماری جانوں سے عزیز ہے۔ یمن کے حوثی باغیوں کی طرف سے سعودی سرزمین پر ہونے والے حملوں کی وجہ سے پاکستانیوں کے دل سعودی بھائیوں کے حق میں دھڑک رہے ہیں ۔ دوحہ میں ہونے والے چار ملکی دفاعی معاہدے کو “بدر معاہدے” کا نام دیا گیا ہے۔ بدر عربی میںفل مون یا عرف عام میں چودھویں کے چاند کو کہتے ہیں۔ یعنی چاربڑے اسلامی ممالک کے درمیان یہ معاہدہ پوری تابناکی کے ساتھ چمکے گا۔ پاکستانی حکومت امریکہ ایران جنگ کے بعد سے سفارتی محاذ پر پے در پے کامیابیاں سمیٹ رہی ہے۔ اسلام آباد معاہدہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پایا تھا جس میں پاکستان تیسرا فریق تھا۔ اس کے تحت اگرچہ خطے سے جنگ کے بادل چھٹے نہیں ہیں مگر وقتی طور پر جنگ بندی عمل میں آ چکی ہے۔ دونوں فریق اپنی اپنی شرائط پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ امریکی صدر اسرائیلی انتخابات اور امریکی وسط مدتی انتخابات کی وجہ سے کوئی بڑا فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ ایران کی شرائط تسلیم کرنے کی وجہ سے ان پر شکست کھانے کا الزام نہ لگ جائے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو جنگی جرائم کے عدالتی فیصلے سے بچنے کیلئے انتخابات جیتنے کو زندگی موت کا مسئلہ بنائے ہوئے ہیں، اگرچہ اسرائیل کی عوام اکثریت جنگ نہیں چاہتی۔ مشرقِ وسطی کے خطے میں منڈلانے والے جنگ کے بادل متعلقہ ریاستوں کو اپنے دفاعی نظام اور معاہدوں پر نظر ثانی پر مجبور کر رہے ہیں۔ مکہ معاہدہ سعودی عرب کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کی طرف ایک قدم ہے۔ اس معاہدے کی تفصیلات منظرِ عام پر آنے سے قبل چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں مگر ترکیہ کی پارلیمنٹ میں اس معاہدے کو منظوری کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ ترکیہ کے وزیرِ خارجہ نے اس معاہدے کو ڈیفینسو معاہدہ قرار دیا ہے نہ کہ افینسو معاہدہ۔ یعنی یہ معاہدہ شریک ممالک کے دفاع کے لیے کیا گیا ہے نہ کہ کسی ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ ہے۔ یہ دفاعی معاہدہ تینوں مسلم ممالک پر دفاعی تر جیحات طے کرتا ہے۔پاکستان اس معاہدے کا اہم ملک ہے۔پاکستان کے فوجی ترجمان کے مطابق مکہ معاہدہ پر عمل شروع ہو چکا ہے اور سعودی عرب کا دفاع کرنے کے لئے پاکستان موجود ہے۔ اس معاہدے کو قطعی طور پر ایران کے خلاف نہیں سمجھنا چاہئے کیونکہ پاکستان ایران کا برادر ہمسایہ ملک ہے اور وہ کبھی بھی ایران کے خلاف کسی معاہدے میں شامل نہ ہوگا۔ ترکیہ کی دفاعی انڈسٹری جس میں بحری جہازوں کی تیاری، ڈرون ٹیکنالوجی اور ٹینکوں کی تیاری شامل ہے وہ اس معاہدے میں شامل ممالک کی مدد کیلئے دستیاب ہوگی۔ اسی طرح پاکستان کی افرادی قوت، ڈیفنس ٹیکنالوجی جس میں جے ایف تھنڈر طیاروں کی تیاری اور آرڈینینس ایکویپمنٹ شامل ہے وہ اس معاہدے میں شامل ممالک کیلئے دستیاب ہوگی۔ سعودی عرب کی طرف سے مالی امداد اور دفاعی سازوسامان کی خریداری کیلئے دستیاب وسائل اس معاہدے میں شامل ممالک کی معاونت کر سکتے ہیں۔ لہٰذا ان وجوہات کی وجہ سے معاہدے میں شریک ممالک ایک دوسرے کے بہتریں معاونت کر سکتے ہیں۔ دس سالہ مدت کیلئے ہونیوالا مکہ معاہدہ دوسرے ممالک کیلئے بھی شرکت کا راستہ کھولتا ہے لہٰذا دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ دوحہ میں ہونیوالے بدر معاہدے کے مندرجات اور تفصیلات مکہ معاہدہ سے سے مختلف دکھائی دیتی ہیں اس میں زور دفاعی پروڈکشن، ٹیکنالوجی میں تعاون اور مشترکہ مشقوں پر ہے تاکہ دفاعی سازوسامان کے استعمال میں مہارت حاصل کی جاسکے. اس سلسلے میں ترکیہ اور پاکستان کو دوسرے ممالک پر سبقت حاصل ہے. ترکیہ کی دفاعی پروڈکشن کی برتری اور پاکستان کی ٹیکنالوجی کے میدان میں سبقت بد ر معاہدے میں شامل ممالک کی مددگار ہوگی اور ان ممالک کے افرادنی ٹیکنالوجی اور سازو سامان سے متعارف ہو سکیں گے. مکہ معاہدہ اور بدر معاہدہ مسلمان ممالک کا دوسرے ممالک پر انحصار ختم کرکے آپس میں تعاون کو فروغ دینے کا ذریعہ بنے گا. اس سلسلے میں پاک فوج کے سپہ سالار کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے، جو دوسرے ممالک کے ساتھ ملٹری سفارت کاری کو اپنی ذاتی کاوشوں سے بام عروج پر لے گئے ہیں. مسلمان ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور معاہدہ جات خود انحصاری اور امت مسلمہ کی مضبوطی کیلئے اہم کردار ادا کریں گے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *