وزیراعظم شہباز شریف نے فوج میں اعلی ترین تقرریوں کے معاملے پر وضاحت دے دی ۔
تفصیلات کے مطابق میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیان جاری کیا کہ اس معاملے پر ہم نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ، ان کا کہنا تھا کہ صحیح وقت آنے اس اہم معاملہ پر فیصلہ پر غور کیا جائے گا ۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزارت دفاع سے بھی ایسی کوئی نشاورت نہیں موصول ہوئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ آرمی چیف کی تقرری وزیر اعظم کا استحقاق ہے ، تاہم، حکمران جماعت اور اس کی اتحادی جماعتوں میں آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے عہدوں تقرری کے حوالے سے غیر رسمی مشاورت ہوئی ہے۔
اگرچہ مجاز منصب صرف وزیراعظم پاکستان ہیں لیکن وہ ان تقرریوں کے معاملے میں کسی سے بھی مشاورت کر سکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم کی میاں نواز شریف کے ساتھ مشاورت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ تقرری کے اعلان سے قبل، توقع ہے کہ وزیراعظم اپنے اتحادی شراکت داروں کو اعتماد میں لیں گے۔
ن لیگ کے رہنماؤوں کا کہنا ہے کہ اس بار سینارٹی کو بھی مد نظر رکھا جا سکتا ہے، بحر حال یہ ضروری نہیں ان کا مزید کہنا تھا کے اس حوالہ سے سبکدوش ہونے والے آرمی چیف سے بھی مشورہ لیا جا سکتا ہے ۔





