جب سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی صاحب نے چارچ سنبھالا ہے سپریم کورٹ کے حالات بہتر سے بہتر ہو رہے ہیں۔ اس سال سپریم کورٹ میں فائلنگ والے دفاتر، اے او آر کا افس اور صحافیوں کے آفس کو سپریم کورٹ کی بلڈنگ سے باہر پارکنگ ایریا میں منتقل کیا۔ سپریم کورٹ بار کو مزید وسیع خوبصورت بنانے میں چیف جسٹس صاحب نے اہم کردار ادا کیا۔ایسا کرنے سے اب نے سپریم کورٹ کی بلڈنگ کو محفوظ بنایا جا رہا بے ایک روز چیف جسٹس صاحب کے ہمراہ اس فیسلٹیشن سینٹر جانے اور دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ مجھے خود اس سنٹر کی معلومات دیں اس سینٹر کی انچارج خاتون سے تعارف کرایا اسے کہا کہ اس سنٹر کے بارے میں انہیں مزید معلومات فراہم کرنا تاکہ یہ کالم لکھ سکے لیکن اس محترمہ نے سنی اَن سنی کر دی۔ اس کے کچھ عرصے بعد چیف جسٹس صاحب اپنی ٹیم کے ہمراہ سپریم کورٹ بار میں وکلا کے سوالوں کے جواب کیلئے تشریف لائے۔ کاش آپ کی سپریم کورٹ کے وکلا کو دی گئی بریفنگ میڈیا پر دکھائی جاتی جیسے آئی ایس پی آر کے ڈی جی کا پروگرام تمام میڈیا پر برائے راست دکھایا جاتا ہے۔ ایسا کرنے سے عوام کو پتہ چلتا ہے کہ ادارہ کیا کچھ کر رہا ہے۔ چیف جسٹس صاحب عوام کی بہتری کیلیے کام کرتے رہتے ہیں۔ سپریم کورٹ بار میں اپنے ٹیکنیکل اسٹاف ہمراہ تشریف لائے وکلا کے سوالوں کو سنا اور انہیں جواب سے مطمئن کراتے رہے۔ چیف جسٹس صاحب کی یہ محنت رائیگاں نہیں جائے گی اس سینٹر پر کالم لکھنا اسی سلسلے کی کڑی ہے کہ یہ تبدیلی عوام تک پہنچے۔ رجسٹرار سپریم کورٹ صاحب شانہ بشانہ اپنی محنت لگن سے وکلا کی مشکلات خود ہر روز گیارہ بارہ بجے اسی سنٹر میں وکلا کے مسائل نہ صرف سنتے ہیں بلکہ فوری حل بھی کرتے ہیں۔ہمارے سابق جج لاہور ہائیکورٹ عباد الرحمن لودھی صاحب کے ساتھ اسی سنیٹر میں رجسٹر صاحب سے ملے۔ شکایت کو نہ صرف سنا بلکہ خوش اخلاقی سے پیش اتے ہوئے تفصیل سے بتایا کہ کب یہ کیس لگ سکتا ہے۔ خوشگوار ماحول میں مل بیٹھنے سے خوشی ہوئی۔ وہی اس سنٹر کی انچارچ خاتون سے ملا کہا میڈم مجھے آپ اس سینٹر کے بارے میں لکھی گئی معلومات دیں ،کہا آج تو مصروف ہو کل آجائیں۔ میں نے انہیں مزید دو دن دیئے۔ آج جب ان سے دو دن بعد اس سنیٹر کے بارے میں معلومات لینے پہنچا تو مجھے اپنا ایک انگریزی میں لکھا گیا کالم دیا۔کہا کیا مجھے مزید معلومات لکھی ہوئی مل سکتی ہیں ۔ کہا اپنے کیمرے سے دیواروں پر لکھی گئی معلومات کی فوٹو بنا لیں۔ میں نے محترمہ سے کہا کوئی اردو میں لکھا گیا مواد دیں تاکہ اردو میں کالم لکھ سکوں۔ طنزیہ لہجے میں جواب میں کہا کیوں نہ میں ہی یہ کالم آپ کو لکھ دوں۔ اس بدتمیزی پر خاموشی سے چلا آیا۔ دوسری طرف رجسٹرار صاحب کا رول دیکھ کر خاموش رہنا مناسب سمجھا۔ لگ یہی رہا تھا کہ اسے گمان ہے کہ میں کام کروں یا نہ کروں میرا کوئی بگاڑ نہیں سکتا۔ ایسے سٹاف سے اس سینٹر بنانا کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا لہذا اسے بتایا جائے اور سکھایا جائے کہ پوچھنے پر یہ نہ بتایا جائے کہ دیواروں پر لکھا گیا پڑھ لیں۔ اس رویہ کو ختم کرناضروری ہی نہیں بہت ضروری ہے۔ سپریم کورٹ کے موجودہ رجسٹرار صاحب روز گیارہ بجے اس سینٹر میں بیٹھ کر وکلا اور سائل کو نہ صرف خود سنتے ہیں بلکہ فوری شکایات کا ازالہ بھی کرتے ہیں۔ کالم کیلئے آپ کی اور چیف جسٹس صاحب کی معلومات کی روشنی میں آج کا یہ کالم ہے ۔ ہمیں اس سینٹر میں سپریم کورٹ کے رجسٹرار جیسے کام کرنیوالے سٹاف کی ضرورت ہے۔ یاد رہے سپریم کورٹ عدالت صرف فیصلے سنانے کا ادارہ نہیں، بلکہ عام شہری کے لیے انصاف تک رسائی کا دروازہ بھی ہے۔ اگر ایک سائل کو عدالت میں داخل ہونے کے بعد یہ معلوم ہی نہ ہو کہ اس کا مقدمہ کہاں ہے، درخواست کہاں جمع ہوگی، مصدقہ نقل کہاں سے ملے گی، فیس کیسے ادا ہوگی اگلی سماعت کب ہے تو انصاف کا عمل مشکل اور پیچیدہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ اسی مسئلے کو سامنے رکھتے ہوئے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس سنیٹر کو قائم کیا ہے، جو ایک ون ونڈو سسٹم کی طرزِ کا ہے۔ جولائی 2026 میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے وزٹ کے دوران بتایا کہ مرکز مکمل طور پر اب فعال ہوچکا ہے اور اس وقت یہ سینٹر 23 مختلف خدمات فراہم کر رہا ہے، جن کی تعداد 35تک بڑھانے کا منصوبہ بھی ہے اس مرکز کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ سائل کو سپریم کورٹ کے مختلف دفاتر اور کونٹر کے درمیان بھٹکنے کے بجائے ایک مرکزی مقام پر متعدد بنیادی سہولتیں میسر ہوں۔ ان میں سے بہت سی خدمات ویب سائٹ اور موبائل اپلیکیشن کے ذریعے بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔یہ معمولی تبدیلی نہیں۔ ایک عام شخص جو اسلام آباد سے باہر رہتا ہے، اگر صرف اپنے مقدمے کی معلومات یا کسی درخواست کی پیش رفت معلوم کرنے کے لیے اسلام آباد آنے پر مجبور نہ ہو تو اس کا وقت اور خرچ دونوں بچتے ہیں۔ مقدمے کی معلومات گھر بیٹھے اپنے مقدمے کی تفصیلات اور اس کی حیثیت دیکھ سکتا ہے۔ اسی طرح لیگل فیس کی ادائیگی کے لیے آئن لائن بھی اس سینٹر میں دستیاب ہے۔ یہ سہولت عدالتی نظام میں ٹرانسپرنسی کی طرف ایک اہم قدم ہے، کیونکہ سائل کو اپنے مقدمے کی بنیادی معلومات کے لیے غیر ضروری طور پر کسی دفتر یا شخص پرانحصار کم کرنا پڑتا ہے۔ فیس جمع کرانے کا آسان طریقہ ایک اہم اصلاح کورٹ فیس کے سلسلے میں بھی کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے مطابق اب چلان اس سنٹر سے تیارکیا جاسکتا ہے اور کورٹ فیس، آن لائن بنکنگ اور موبائل، بنکنگ کے ذریعے بھی ادا کی جا سکتی ہے۔ یہ سہولت خاص طور پر ان سائلین کے لیے اہم ہے جو دور دراز علاقوں سے آتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی تصدیقِ شدہ کاپی حاصل کرنا مقدمے کے فریق کے لیے بنیادی ضرورت ہوتی ہے۔اس سنیٹر میں اس عمل کو بھی ایک مرکزی نظام کے تحت لایا گیا ہے۔ اسی طرح اگر کسی مقدمے میں فوری سماعت کی ضرورت ہو تو درخواست جمع کرانے کی سہولت بھی موجود ہے۔ پاکستان کے عدالتی نظام میں ایک حقیقی سٹرکچرل ریفارم یہ سنٹر ثابت ہوسکتا ہے۔میری رائے میں اس ماڈل کو صرف سپریم کورٹ تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ یہی نظام تمام ہائی کورٹ اور ڈسٹرک کورٹس بھی موثر انداز میں قائم کیا جانا چاہیے۔ہر ضلع کی عدالت میں ایک ون ونڈو سنٹر ہونا چاہیے۔ سپریم کورٹ کے پاس پہلے بھی عوامی سہولت کے لیے انفارمیشن ڈیسک موجود تھا، جو مقدمات کے بارے میں معلومات فراہم کرتا اور مصدقہ نقل کی درخواستیں وصول کرتا تھا۔ نیا فیسلیٹیشن سنیٹر دراصل اسی تصور کو زیادہ منظم، جدید اور ڈیچیٹل شکل دینے کی کوشش ہے۔یاد رہے عدالت کی عظمت صرف اس کی شاندار عمارت، بڑے بڑے مقدمات یا تاریخی فیصلوں سے نہیں ہوتی۔ عدالت کی اصل عظمت اس وقت سامنے آتی ہے جب ایک عام شہری، جو نہ طاقتور ہے نہ بااثر، عدالت کے دروازے پر آکر یہ محسوس کرے کہ یہ ادارہ میری بات سننے اور مجھے انصاف پہنچانے کیلئے ہے۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، یحییٰ آفریدی کا اسی سوچ کی طرف ایک اہم قدم ہے۔اگر یہ مرکز شفافیت، رفتار، آسانی سے رسائی حاصل کرنے کی سہولت اور جوابدہی کے اصولوں پر مسلسل آگے بڑھتا رہا تو یہ صرف ایک انتظامی فرائض کی سہولت نہیں رہے گا بلکہ پاکستان کے عدالتی نظام میں انصاف کی دہلیز کی بنیاد بن سکتا ہے۔یہی اس مرکز کا اصل امتحان بھی ہے اور اصل کامیابی بھی۔ویلڈن چیف جسٹس یحییٰ آفریدی صاحب۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں