اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیش کش کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت سنجیدگی کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتی ہے تو مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور ملک میں امن و استحکام کے لیے ان کا کردار قابل تعریف ہے۔سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری پشاور میں تاجروں سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کے دوران رکن قومی اسمبلی اسد قیصر نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیش کش کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت سنجیدگی کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتی ہے تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم ماضی میں مذاکرات کے حوالے سے تجربات زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ چارٹر آف ڈیموکریسی کی روح کے مطابق عمل درآمد کیا جائے اور سیاسی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔اسد قیصر کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں اور پاکستان میں امن و استحکام کے لیے ان کا کردار قابل تعریف ہے، ملک میں امن کے قیام کے لیے انجام دی جانے والی خدمات کو ہمیشہ سراہا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی بزنس کمیونٹی کو درپیش مسائل اس وقت تک مکمل طور پر حل نہیں ہو سکتے جب تک افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارتی راستے فعال نہیں کیے جاتے، صوبے کی معیشت کا بڑا انحصار سرحد پار تجارت پر ہے اور بارڈر بندشوں کے باعث کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مختلف سطح پر تجارتی اور کاروباری روابط مکمل طور پر ختم نہیں کیے گئے تو افغانستان کے ساتھ تجارت پر غیر ضروری پابندیاں عائد کرنے کا جواز سمجھ سے بالاتر ہے، معاشی سرگرمیاں محدود ہوں گی تو ترقی کا عمل بھی متاثر ہوگا اور روزگار کے مواقع کم ہوں گے۔





