پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور تشدد کے خلاف طویل اور مشکل جدوجہد کی ہے۔ اس جدوجہد میں ہماری افواج، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سیاسی قیادت، علما، صحافیوں، اساتذہ، نوجوانوں اور عام شہریوں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کی قربانیوں کو قومی یکجہتی کی مضبوط بنیاد بنایا جائے اور انتہا پسندی و تشدد کے خلاف ایک ایسا وسیع قومی اتحاد تشکیل دیا جائے جو ریاستی اداروں اور معاشرے کے تمام طبقات کو ایک مشترکہ مقصد پر متحد کرے۔ انتہا پسندی کسی ایک طبقے، جماعت یا علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے امن، ترقی اور مستقبل سے متعلق چیلنج ہے۔ جب اختلافِ رائے دشمنی میں تبدیل ہو جائے، برداشت کی جگہ نفرت لے لے اور مکالمے کے بجائے طاقت کو مسائل کے حل کا ذریعہ سمجھا جانے لگے تو معاشرتی امن متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے انتہا پسندی کا مقابلہ صرف انتظامی یا سکیورٹی اقدامات سے نہیں بلکہ فکری، تعلیمی، سماجی اور معاشی سطح پر بھی کرنا ہوگا۔قومی اتحاد کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ تمام سیاسی و سماجی حلقے تشدد کو کسی بھی صورت میں مسائل کے حل کا ذریعہ تسلیم نہ کریں۔ اختلافِ رائے جمہوری معاشرے کی خوبصورتی ہے، مگر اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنا کسی طور مفید نہیں۔ سیاسی اختلافات کو پارلیمنٹ، مذاکرات، عدالتوں اور دیگر آئینی و قانونی فورمز کے ذریعے حل کرنے کا کلچر مضبوط کیا جائے تو معاشرے میں برداشت، رواداری اور باہمی احترام فروغ پا سکتا ہے۔علما کرام اور مذہبی رہنماں کا کردار بھی اس سلسلے میں انتہائی اہم ہے۔ اسلام امن، اعتدال، انسانیت، عدل اور برداشت کا درس دیتا ہے۔ مساجد، مدارس اور مذہبی اجتماعات کو معاشرے میں امن، بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے فروغ کا مثر ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ مذہبی تعلیمات کی درست اور متوازن تشریح نوجوان نسل کو انتہا پسندانہ سوچ اور نفرت انگیز بیانیے سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔تعلیمی ادارے بھی قومی اتحاد کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بچوں اور نوجوانوں کو صرف کتابی تعلیم دینے کے بجائے انہیں برداشت، اختلافِ رائے کا احترام، قانون کی پاسداری، انسانی حقوق اور ذمہ دار شہری ہونے کا شعور دینا ضروری ہے۔ نوجوان پاکستان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ اگر انہیں مثبت سوچ، تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی نسل ملک کی ترقی اور امن کی سب سے مضبوط قوت بن سکتی ہے۔سوشل میڈیا کے موجودہ دور میں انتہا پسندانہ سوچ اور نفرت انگیز مواد تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ جعلی خبریں، اشتعال انگیز پوسٹس اور گمراہ کن معلومات معاشرے میں بے چینی پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ اس چیلنج کا مقابلہ ذمہ دارانہ صحافت، مثر ڈیجیٹل آگاہی اور عوامی شعور کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ ہر شہری کو معلومات آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تصدیق کی عادت اپنانا ہوگی۔ میڈیا کو بھی سنسنی کے بجائے ذمہ داری، تحقیق اور قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد بھی قومی اتحاد کی بنیاد ہے۔ قانون کا یکساں اور شفاف نفاذ، شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور شکایات کے ازالے کے مثر نظام سے عوام کا ریاست پر اعتماد مزید مضبوط ہوتا ہے۔ جہاں انصاف، مساوات اور قانون کی بالادستی موجود ہو وہاں تشدد اور انتہا پسندی کے لیے جگہ کم ہوتی جاتی ہے۔معاشی محرومی اور بے روزگاری بھی بعض اوقات نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ اس لیے امن کے ساتھ ساتھ روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو بھی قومی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔ ترقی کے ثمرات اگر معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچیں تو احساسِ محرومی کم ہوگا اور قومی یکجہتی مزید مضبوط ہوگی۔انتہا پسندی کے خلاف قومی اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ تمام لوگ ہر مسئلے پر ایک جیسی رائے رکھیں۔ حقیقی اتحاد کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود سب آئین، قانون، امن اور انسانی جان کے احترام پر متفق ہوں۔ ایک مہذب معاشرے میں مختلف خیالات رکھنے والے افراد ایک دوسرے کو برداشت کرتے ہیں، دلیل سے بات کرتے ہیں اور مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کرتے ہیں۔پاکستان کے عوام نے بارہا ثابت کیا ہے کہ مشکل حالات میں قوم متحد ہو سکتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہدا کی قربانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ امن کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ ہم نفرت، تعصب اور تشدد کے بجائے اتحاد، برداشت اور مکالمے کو فروغ دیں۔آج پاکستان کو ایک نئے قومی عزم کی ضرورت ہے۔ حکومت، اپوزیشن، پارلیمنٹ، عدلیہ، فوج، پولیس، علما، میڈیا، تعلیمی ادارے، سول سوسائٹی، کاروباری برادری اور عوام اپنے اپنے دائر کار میں امن کے فروغ کے لیے کردار ادا کریں۔ ہمیں نئی نسل کو ایسا پاکستان دینا ہے جہاں اختلاف کو دشمنی نہ سمجھا جائے، جہاں دلیل کو طاقت پر فوقیت حاصل ہو اور جہاں ہر شہری کو محفوظ مستقبل کی امید ہو۔انتہا پسندی اور تشدد کے خلاف سب سے مثر جواب قومی اتحاد، قانون کی بالادستی، تعلیم، برداشت اور مسلسل مکالمہ ہے۔ اگر پوری قوم ایک واضح اور مثبت مقصد کے ساتھ متحد ہو جائے تو پاکستان نہ صرف دہشت گردی اور انتہا پسندی کے چیلنجز پر قابو پا سکتا ہے بلکہ ایک پرامن، مستحکم، ترقی یافتہ اور روشن مستقبل کی طرف بھی مضبوط قدم بڑھا سکتا ہے۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں