دنیا بھر میں ایک کروڑ سے زیادہ افراد جیلوں میں قید ہیں اور بعض ملکوں میں مکمل معلومات دستیاب نہیں، اس لیے دنیا بھر کے قیدیوں کی ایک حتمی تعداد بتانا مشکل ہے۔ اسی طرح 70 سال یا اس سے زیادہ عمر کے قیدیوں اور شدید بیمار قیدیوں کی عالمی مجموعی تعداد بھی کسی ایک مستند اور تازہ جدول میں دستیاب نہیں۔ تاہم مختلف ممالک کے اعداد و شمار یہ ضرور بتاتے ہیں کہ عمر رسیدہ اور بیمار قیدیوں کا مسئلہ اب عالمی سطح کا مسئلہ بن چکا ہے۔بڑھاپے کی عمر میں پہنچنے والے قیدیوں کا مسئلہ کسی ایک غریب یا ترقی پذیر ملک تک محدود نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی موجود ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ دنیا اس مسئلے کو محض جیل انتظامیہ یا قیدیوں کی فلاح کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے انسانی حقوق کا عالمی مسئلہ قرار دے۔میری رائے میں 70 سال یا اس سے زیادہ عمر کے قیدیوں اور شدید نوعیت کے امراض میں مبتلا قیدیوں کے لیے عالمی سطح پر ایک ایسا قانون اور اصول ہونا چاہیے جس کے تحت ایسے افراد کو ہر صورت جیل سے رہائی دی جائے۔ عدالت ضرورت کے مطابق طبی نگرانی، الیکٹرانک نگرانی، سفر کی پابندی یا دوسری مناسب قانونی شرائط عائد کر سکتی ہے لیکن کسی 70 سالہ یا اس سے زائد عمر کے شخص اور کسی شدید بیمار انسان کو جیل کی سخت فضا میں زندگی کے آخری حصے تک رکھنے کو معمول نہیں ہونا چاہیے۔ستر سال کی عمر زندگی کا ایسا مرحلہ ہے جہاں انسان جسمانی کمزوری، مختلف بیماریوں، تنہائی اور مستقل طبی ضرورتوں کا زیادہ شکار ہو سکتا ہے۔ اگر وہ معاشرے کے لیے خطرہ نہیں رہا تو اسے باقی زندگی خاندان اور علاج کے درمیان گزارنے کا موقع دینا انصاف کے خلاف نہیں ہے۔اسی طرح شدید بیمار قیدی کے معاملے میں عمر کی شرط بھی ختم ہونی چاہیے۔ اگر کسی شخص کو کینسر، آخری درجے کے گردوں کے مرض، شدید دل کے مرض، فالج، جگر کے سنگین مرض، تپ دق یا کسی دوسری جان لیوا بیماری کا سامنا ہے تو ریاست کو اس کی رہائی یا جیل سے باہر طبی نگہداشت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔اقوام متحدہ کے نیلسن منڈیلا قواعد بھی قیدیوں کے انسانی وقار اور مناسب طبی سہولتوں کے بنیادی اصول کو تسلیم کرتے ہیں۔ ان قواعد میں قیدیوں کی صحت کی ضروریات، جسمانی و ذہنی بیماریوں اور خصوصی ضروریات رکھنے والے افراد کے لیے مناسب طبی سہولتوں پر زور دیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ رکن ممالک کے لیے ایک عالمی فریم ورک تیار کرے جس میں 70 سال یا اس سے زیادہ عمر کے قیدیوں کی لازمی رہائی کا اصول شامل ہو۔ شدید نوعیت کی بیماری میں مبتلا قیدیوں کے لیے بھی لازمی انسانی بنیادوں پر رہائی کا نظام بنایا جائے۔ اس عالمی فریم ورک میں یہ اصول واضح ہو کہ ریاست کسی ایسے عمر رسیدہ یا شدید بیمار شخص کو جیل میں رکھنے کے بجائے مناسب متبادل نگرانی، علاج یا رہائش کا انتظام کرے۔ اقوام متحدہ ، عالمی ادارے منشیات و جرائم، عالمی ادارہ صحت، اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا نظام، علاقائی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور دیگر عالمی ادارے اس قانون سازی کی تیاری میں مشترکہ کردار ادا کر سکتے ہیں۔بین الاقوامی اور مقامی غیر سرکاری تنظیمیں بھی اس جدوجہد میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں جیلوں کا آزادانہ معائنہ کریں، عمر رسیدہ قیدیوں کا ریکارڈ مرتب کریں، شدید بیمار قیدیوں کی طبی حالت کا جائزہ لیں، حکومتوں کو سفارشات دیں، عدالتوں میں قانونی معاونت فراہم کریں اور پارلیمانوں کے سامنے قانون سازی کیلئے مسودے پیش کریں ۔ این جی اوز کو تحقیق، قانونی معاونت، طبی معائنہ، قیدیوں کے خاندانوں سے رابطہ، عدالتی پیروی اور عالمی سطح پر آگاہی پیدا کرنے کیلئے منظم مہم چلانی چاہیے۔ دنیا میں ایک بھی ایسا شدید بیمار انسان موجود ہو جسے مناسب علاج کے بجائے جیل میں مرنے کیلئے چھوڑ دیا جائے تو انسانی حقوق کی عالمی بحث ادھوری رہ جاتی ہے۔مقامی سطح پر بھی سول سوسائٹی کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ پاکستان، بھارت، امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور دوسرے ممالک میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اپنی اپنی حکومتوں سے مطالبہ کریں کہ 70 سال کی عمر کو پہنچنے والے ہر قیدی کی رہائی کا عمل خودکار بنایا جائے۔ شدید بیماری کی صورت میں عمر کی شرط ختم کی جائے اور طبی بنیادوں پر فوری رہائی کا نظام قائم کیا جائے۔اس نظام میں ایک آزاد طبی بورڈ انتہائی اہم ہوگا۔ جیل کا ڈاکٹر اپنی رپورٹ دے لیکن آخری فیصلہ صرف جیل انتظامیہ کے ہاتھ میں نہ ہو۔ آزاد ڈاکٹر، ماہر نفسیات، قانونی ماہر اور انسانی حقوق کا نمائندہ قیدی کی حالت کا جائزہ لیں۔ اگر بیماری شدید ہے تو فیصلہ مقررہ مدت کے اندر ہو۔ کسی مریض کو مہینوں یا برسوں تک کاغذی کارروائی میں نہ رکھا جائے۔دنیا کو عمر رسیدہ قیدیوں کے بارے میں بھی یہی اصول اپنانا چاہیے۔ کسی قیدی کی عمر 70 سال پہنچنے سے قبل اس کی رہائی کا عمل خودکار طور پر شروع ہو۔ عدالت اور متعلقہ ادارے اس بات کا تعین کریں کہ رہائی کے بعد نگرانی کس طریقے سے ہوگی۔ کسی قیدی کی انسانی بنیادوں پر رہائی کا مطلب متاثرہ شخص کے دکھ کو فراموش کرنا نہیں بلکہ سزا کے طریقے کو انسانی بنانا ہے۔ عمر رسیدہ قیدیوں کو چلنے پھرنے میں دشواری، بینائی، سماعت، دل، شوگر، بلڈ پریشر، گردوں اور ہڈیوں کے مسائل عام ہو سکتے ہیں۔ جیلیں اگر اس عمر کے افراد کے لیے خصوصی سہولتیں فراہم نہ کریں تو قید خود ایک اضافی جسمانی اذیت بن سکتی ہے۔اسی لیے 70 سال کی عمر کو رہائی کا بنیادی انسانی حق بنایا جانا چاہیے۔ عمر رسیدہ اور شدید بیمار افراد کے لیے متبادل نظام نہ صرف انسانی بلکہ انتظامی ضرورت بھی ہے۔ جیلوں کا بوجھ کم ہوگا، طبی اخراجات بہتر انداز میں منظم ہوں گے اور ایسے افراد کو خاندان کے ذریعے نگہداشت کا موقع ملے گا۔ جیل قانون سازی کا مرکزی کردار اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں کو ادا کرنا چاہیے۔ دنیا کو ایک بین الاقوامی معاہدے یا عالمی اعلامیے کی طرف بڑھنا چاہیے جس میں چند بنیادی اصول واضح ہوں۔ 70 سال یا اس سے زیادہ عمر کا قیدی جیل سے لازما باہر ہو۔ شدید اور جان لیوا بیماری میں مبتلا قیدی کو لازما انسانی بنیادوں پر رہائی ملے۔ ہر رہائی کا طریقہ قانونی اور شفاف ہو۔ آزاد طبی بورڈ فیصلہ کرے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو جیلوں کے معائنے کی اجازت ہو۔ ہر ملک عمر اور بیماری کے لحاظ سے قیدیوں کا مستند ریکارڈ مرتب کرے۔اس عالمی اصول کا مقصد مجرموں کو سزا سے بچانا نہیں بلکہ سزا کی نوعیت کو انسانی بنانا ہے۔دنیا بھر کی حکومتوں، پارلیمانوں، عدالتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں، ڈاکٹروں، وکلا، صحافیوں اور سول سوسائٹی کو اس مسئلے پر ایک مشترکہ آواز بننا چاہیے۔ اقوام متحدہ اس مہم کی قیادت کرے، عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں قانونی مسودے تیار کریں، مقامی این جی اوز زمینی حقائق سامنے لائیں اور پارلیمانیں اسے قومی قانون کا حصہ بنائیں۔جرم کی سزا ضروری ہے، قانون کی بالادستی ضروری ہے، متاثرین کو انصاف ضروری ہے مگر انسانیت بھی ضروری ہے۔دنیا کو ایسا عالمی قانون بنانا ہوگا جس میں 70 سال یا اس سے زیادہ عمر کے قیدیوں اور شدید نوعیت کے بیمار قیدیوں کو جیل کی قید سے ہر صورت نکالنے کا اصول موجود ہو۔ ان کی رہائی کو جرم کی معافی نہیں بلکہ قید کے متبادل انسانی انتظام کے طور پر دیکھا جائے۔ ضرورت ہو تو گھر میں نگرانی ہو، خاندان کے سپرد کیا جائے یا عدالت کی مقرر کردہ دوسری حفاظتی شرائط عائد کی جائیں۔ ستر سال کی عمر اور شدید بیماری کو جیل کی آخری منزل نہیں بلکہ انسانی رہائی کا آغاز بنانا ہوگا۔یہ انسانی حقوق کا تقاضا ہے اور یہ ایک مہذب دنیا کی ذمہ داری ہے۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں