بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Thursday, 27 August 2026 | پاکستان: 16 ر بیع الاول 1448

پاک سعودی دوستی، خطے کے امن و استحکام کی ضمانت

Thursday, 27 August, 2026

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض دو ریاستوں کے درمیان سفارتی روابط کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسے تاریخی، مذہبی، تہذیبی اور عوامی رشتے کی عکاسی کرتے ہیں جس کی جڑیں دونوں ممالک کے عوام کے دلوں میں گہری پیوست ہیں۔ سعودی عرب میں پاکستان کے لاکھوں شہری روزگار اور کاروبار سے وابستہ ہیںجبکہ پاکستان کے عوام حرمین شریفین سے اپنی والہانہ عقیدت کے باعث سعودی عرب کو ایک خصوصی احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی اہمیت روایتی سفارت کاری سے کہیں بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی کی سفارتی ذمہ داریوں کی تکمیل پر وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وزیراعظم ہائوس اسلام آباد میں ہونے والی الوداعی ملاقات اسی دیرینہ تعلق کی ایک اہم کڑی ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے سعودی سفیر کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا اس امر کا اعتراف ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں سفارتی نمائندوں کا کردار محض رسمی نہیں ہوتا بلکہ وہ اعتماد سازی، باہمی مفاہمت اور مشترکہ مفادات کے فروغ میں ایک اہم پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کے دورِ سفارت کے اختتام پر وزیراعظم نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے برادرانہ اور تزویراتی تعلقات کے استحکام کیلئے ان کی خدمات کو سراہا۔ یہ اعتراف اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات میں روایتی دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ تزویراتی شراکت داری کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورت حال، جنوبی ایشیا کے بدلتے ہوئے حالات، عالمی معاشی چیلنجز اور مسلم دنیا کو درپیش متعدد مسائل ایسے عوامل ہیں جو پاکستان اور سعودی عرب کو ایک دوسرے کے مزید قریب آنے کی ضرورت کا احساس دلاتے ہیں ۔ پاکستان نے ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو خصوصی اہمیت دی ہے اور سعودی قیادت کی جانب سے بھی پاکستان کیلئے مسلسل حمایت کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے سعودی عرب کی مسلسل حمایت اور فراخدلانہ معاونت کو سراہنا اسی باہمی اعتماد کی علامت ہے۔ مشکل معاشی حالات میں پاکستان کیلئے دوست ممالک کی معاونت اہمیت رکھتی ہے، تاہم اس تعلق کو صرف مالی تعاون کے زاویے سے دیکھنا بھی مناسب نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی، زراعت، ٹیکنالوجی، افرادی قوت اور سیاحت سمیت کئی شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ اگر دونوں ممالک کی ضروریات اور صلاحیتوں کو مربوط حکمت عملی کے ذریعے یکجا کیا جائے تو باہمی تعاون ایک نئی معاشی جہت اختیار کر سکتا ہے۔اس سلسلے میں پاکستان کو بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سیاسی و معاشی استحکام، پالیسیوں میں تسلسل، شفافیت، بہتر انتظامی نظام اور کاروبار دوست ماحول بنیادی شرائط ہیں۔ محض سرمایہ کاری کی دعوت دینا کافی نہیں، بلکہ سرمایہ کاروں کو ایسا ماحول فراہم کرنا ضروری ہے جہاں وہ طویل المدتی بنیادوں پر اپنے منصوبے تشکیل دے سکیں۔ سعودی سرمایہ کاری کے لیے خصوصی مراعات یقینا اہم ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم اعتماد کا وہ ماحول ہے جو مستقل اور قابلِ پیش گوئی پالیسیوں سے پیدا ہوتا ہے۔وزیراعظم کی جانب سے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کیلئے نیک تمنائوں کا اظہار بھی دونوں ممالک کے درمیان اعلی سطح کے باہمی احترام کی عکاسی کرتا ہے۔ سعودی قیادت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دینا اور پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کی علاقائی و عالمی کوششوں کی حمایت دونوں ملکوں کے تعلقات کی مضبوط بنیاد ہیں۔خطے میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے سعودی عرب کا کردار بھی قابلِ توجہ ہے۔ مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والے بحرانوں کے تناظر میں سعودی عرب کی سفارتی اور سیاسی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان بھی ہمیشہ مسلم دنیا میں امن، مذاکرات اور تنازعات کے سیاسی حل کی حمایت کرتا آیا ہے۔ دونوں ممالک اگر اپنی سفارتی قوت اور اثر و رسوخ کو تعمیری مقاصد کیلئے بروئے کار لائیں تو علاقائی امن کیلئے ان کی مشترکہ کوششیں مثر ثابت ہوسکتی ہیں۔سعودی سفیر کا پاکستان کی جانب سے ملنے والی گرمجوشی، تعاون اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرنا بھی اس تعلق کے عوامی پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ پاک سعودی دوستی ایک آزمودہ رشتہ ہے۔ موجودہ دور کا تقاضا یہ ہے کہ اس دوستی کو نئے مواقع، نئی سرمایہ کاری اور نئی نسل کی ترقی سے جوڑا جائے۔ اگر دونوں ممالک باہمی اعتماد کو عملی تعاون میں ڈھالنے میں کامیاب رہے تو یہ تعلق پورے خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کیلئے بھی ایک مثبت مثال قائم کرسکتا ہے۔
سانحہ پمز،شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی ضرورت
اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں آتش زدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت ایک ایسا المناک سانحہ ہے جس نے پورے معاشرے کو سوگوار اور کئی بنیادی سوالات کو زندہ کردیا ہے۔ یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ اسپتالوں میں مریضوں، بالخصوص نومولود اور انتہائی نگہداشت کے محتاج بچوں کی حفاظت کے انتظامات پر سنجیدہ غور کا تقاضا کرتا ہے۔ جن خاندانوں نے اپنے بچوں کو علاج اور زندگی کی امید کے ساتھ اسپتال میں داخل کرایا تھا، ان کیلئے یہ سانحہ ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔نرسری جیسے حساس شعبے میں آگ لگنے کے بعد اتنی بڑی تعداد میں اموات اس امر کی متقاضی ہیں کہ واقعے کی وجوہات، حفاظتی انتظامات اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے طریقہ کار کا غیر جانب دارانہ اور جامع جائزہ لیا جائے۔ نومولود بچے خود اپنی حفاظت کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ انہیں فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کرنا بھی تربیت یافتہ عملے، مناسب آلات اور واضح ہنگامی منصوبہ بندی کا تقاضا کرتا ہے۔ اس لیے تحقیقات میں صرف یہ معلوم کرنا کافی نہیں کہ آگ کیسے لگی، بلکہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آگ لگنے کے بعد اسے بروقت قابو کیوں نہ کیا جاسکا اور بچوں کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنے میں کیا رکاوٹیں پیش آئیں۔وزیراعظم کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کیلئے پانچ رکنی کمیٹی کا قیام ایک ضروری قدم ہے، لیکن اس کمیٹی کی اصل اہمیت اس کی رپورٹ کے نتائج اور ان پر عمل درآمد سے متعین ہوگی۔ ایسے سانحات میں اکثر تحقیقات تو شروع ہوجاتی ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ معاملہ فائلوں اور رسمی کارروائیوں تک محدود ہو جاتا ہے۔ اس بار ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ تحقیقاتی کمیٹی کو اپنی رپورٹ میں ذمہ داری کا تعین، حفاظتی خامیوں کی نشاندہی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے واضح سفارشات پیش کرنی چاہیئں۔ابتدائی رپورٹ اگر سامنے آچکی ہے تو اسے بھی محض رسمی دستاویز کے بجائے تحقیقات کے ابتدائی مرحلے کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔ حتمی حقائق سامنے آنے تک کسی فرد یا ادارے کو پیشگی قصوروار قرار دینا مناسب نہیں، تاہم انتظامی غفلت یا حفاظتی معیار کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔ شفاف تحقیقات کا بنیادی مقصد کسی کو قربانی کا بکرا بنانا نہیں بلکہ اصل وجوہات تک پہنچنا اور آئندہ انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔یہ سانحہ پاکستان کے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی اور ایمرجنسی رسپانس کے نظام کی مجموعی حالت پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ اسپتالوں میں آگ بجھانے کے آلات، الارم سسٹم، ہنگامی راستوں، بجلی کے نظام، آکسیجن سپلائی، عملے کی تربیت اور باقاعدہ فائر ڈرلز کی موجودگی صرف کاغذی تقاضا نہیں ہونی چاہیے۔ خصوصا نرسری، آئی سی یو اور دیگر حساس شعبوں کیلئے ایسے حفاظتی انتظامات لازم ہیں جہاں مریض فوری طور پر اپنی مدد آپ کے قابل نہیں ہوتے۔ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ملک بھر کے بڑے سرکاری اور نجی اسپتالوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کرایا جائے۔ اگر کسی اسپتال میں حفاظتی خامیاں موجود ہیں تو انہیں دور کرنے کے لیے واضح مدت مقرر کی جائے اور غفلت کی صورت میں متعلقہ انتظامیہ کو جواب دہ بنایا جائے۔ حفاظتی نظام کی خرابی اس وقت سامنے آئے جب کوئی سانحہ رونما ہوچکا ہو، اس کے بجائے اس کا باقاعدہ معائنہ اور پیشگی تدارک ہونا چاہیے۔پمز جیسے بڑے اور اہم اسپتال میں پیش آنیوالے اس سانحے کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات نہ صرف متاثرہ خاندانوں کا حق ہے بلکہ پورے معاشرے کی ضرورت بھی ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *