بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 24.5°C
Monday, 17 August 2026 | پاکستان: 6 ر بیع الاول 1448

مداری اور معمار

Monday, 17 August, 2026

یوتھیا بن کر بندہ نہ سوچے تو کیا بن کر سوچے، پاکستانی سیاسی کارکن کے پاس اب کیا چوائس ہے؟۔اس جملہ میں پاکستان کی پوری سیاسی تاریخ کا المیہ چھپا ہے۔ ہم نے سوچنے کے تمام زاویوں کو گالیوں میں بدل دیا ہے۔ یوتھیا گالی، پٹواری گالی، جیالا طعنہ۔ اب ایک عام سیاسی شعور رکھنے والا کارکن جب سوچنا چاہتا ہے تو اسے ڈر لگتا ہے کہ اسے کس خانے میں ڈال دیا جائے گا۔پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ جسے ہم یوتھیا سوچ کہتے ہیں، وہ ہے کیا۔2011 سے پہلے سیاست کا ایک طے شدہ فارمولا تھا۔ دو خاندان، چند الیکٹیبل، اور اوپر والوں کی آشیرباد۔ کارکن کا کام صرف نعرہ لگانا تھا۔ خان نے اس فارمولے کو بے نقاب کیا۔ اس نے متوسط طبقے کے نوجوان کو کہا کہ تم صرف ووٹر نہیں، تم اسٹیک ہولڈر ہو۔ اس نے کرپشن کو اخلاقی مسئلہ بنایا۔ اس نے سوال اٹھایا کہ کیا وزیراعظم لندن کے فلیٹوں کا جواب نہیں دے گا؟یہ سوال اتنا طاقتور تھا کہ اس کا جواب آج تک نہیں دیا جا سکا۔ اسی لیے اس سوچ سے جان چھڑانا مشکل ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کوئی اس سوچ سے اختلاف کرے تو اس کے پاس راستہ کیا ہے؟میرے نزدیک آج کارکن کے پاس چار راستے ہیں۔ پہلا راستہ مزاحمت کا ہے، جسے یوتھیا کہا جاتا ہے۔ اس کی طاقت اس کا جنون ہے، وہ جیل جاتا ہے، لاٹھی کھاتا ہے، لیکن پیچھے نہیں ہٹتا۔ اس کی کمزوری یہ ہے کہ یہ شخصیت پرست ہے۔ دوسرا راستہ مفاہمت کا ہے، ن لیگ، پیپلز پارٹی والا۔ اس کا فلسفہ ہے کہ سسٹم سے لڑ کر آپ اپنے گھر کی نالی بھی نہیں بنا سکتے، سسٹم میں رہ کر فنڈ لے سکتے ہیں۔ اس کی طاقت اس کی بقا ہے، اس کی کمزوری یہ ہے کہ یہ اب نظریہ نہیں، خاندان ہے۔ تیسرا راستہ نظریاتی متبادل کا ہے، جماعت اسلامی یا قوم پرست جماعتوں والا، جو سب سے صاف ہے لیکن انتخابی نظام اسے جیتنے نہیں دیتا۔ اور چوتھا راستہ جو اب بن رہا ہے، وہ غیر جماعتی، ایشو بیسڈ کارکن کا ہے، جو کسی پارٹی کا جھنڈا نہیں، اپنے علاقے کا مسئلہ اٹھاتا ہے۔اب آتے ہیں اس سوچ کے سب سے بڑے لیڈر کی طرف۔ عمران خان کیا تھا؟ یہ سچ ہے کہ وہ بھی کسی کی مدد سے آیا۔ 2018 میں اسے وہی سہولت کاری ملی جو 1990 میں نواز شریف کو ملی تھی۔ پاکستان میں آج تک کوئی وزیراعظم ان کی رضامندی کے بغیر نہیں بنا۔یہ بھی سچ ہے کہ اس کے پاس احتساب کے علاوہ کوئی واضح معاشی نظریہ نہیں تھا۔ احتساب کا نعرہ ضیا نے بھی لگایا، مشرف نے بھی، نواز اور بینظیر نے بھی ایک دوسرے کے خلاف لگایا۔ عمران نے اسی پرانے نعرے کو سوشل میڈیا کے نئے ریپر میں بیچا۔اور سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ اس نے اپنے نظریاتی کارکن کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ 2011 سے 2013 تک جو لڑکے پولیس سے ڈنڈے کھا رہے تھے، 2018 میں ٹکٹ ان کو نہیں ملا۔ ٹکٹ ملا ان الیکٹیبلز کو جو کل تک ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں تھے۔ نظریاتی کارکن ایم این اے کے ڈیرے پر پانی پلاتا رہ گیا۔یو ٹرن، آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا دعوی کر کے جانا اور پھر معاہدہ توڑ دینا، بزدار جیسے نااہل وزیراعلی کو پنجاب پر مسلط کرنا، مہنگائی کو 4 فیصد سے 12 فیصد پر لے جانا، اور پھر مقبولیت گرنے پر سائفر کا کھیل کھیلنا، یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہے۔ اس نے خود کو دیوتا بنا کر پیش کیا اور اپنے اردگرد خوشامدی ٹولہ جمع کیاتو کیا وہ صرف ایک مداری تھا؟ نہیں۔ یہیں پر تصویر مکمل ہوتی ہے۔سیاستدان دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک مداری اور ایک معمار۔ مداری کے تین ہتھیار ہوتے ہیں۔ نعرہ، تماشہ اور شخصیت پرستی۔ وہ مسئلے کا حل نہیں، مسئلے کا مجرم بتاتا ہے ۔ وہ ہر روز نیا تماشہ لگاتا ہے تاکہ ہجوم اسکے پاس رہے۔ وہ کہتا ہے میرے بعد اندھیرا ہے ۔ مداری مقبول بہت ہوتا ہے، لیکن اس کے جانے کے بعد صرف نعرہ رہ جاتا ہے۔معمار کے بھی تین ہتھیار ہوتے ہیں۔ ادارہ، پالیسی اور تسلسل۔ وہ کہتا ہے ادارے کو توڑو نہیں، ٹھیک کرو۔ وہ کہتا ہے میں 50 لاکھ گھر دوں گا نہیں، بلکہ قانون کیسے بدلے گا یہ بتاتا ہے۔ اس کی بات بورنگ ہوتی ہے، تالی نہیں بجتی، لیکن اس سے گھر بنتا ہے۔ معمار مقبول نہیں ہوتا کیونکہ وہ جھوٹی امید نہیں بیچتا۔ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں ووٹ مداری کو ملتا ہے، معمار کو نہیں۔ اس لیے ہر سیاستدان پیدائشی طور پر مداری ہوتا ہے، معمار بننا اس کی اپنی چوائس ہوتی ہے۔بھٹو شروع میں معمار تھا، اس نے آئین دیا، بعد میں مداری بن گیا۔ نواز شریف شروع میں مداری تھا، جنرل ضیا کا پیدا کردہ، بعد میں اس نے موٹروے اور ایٹمی دھماکے جیسے معمار والے کام کیے۔ عمران خان شروع میں معمار لگتا تھا، شوکت خانم اور ورلڈ کپ لیکن اقتدار میں آ کر وہ بھی مداری بن گیا ، کیونکہ مداری بن کر زندہ رہنا آسان ہے۔وہ بیک وقت تینوں تھا۔ جلسے کا مداری بھی، مایوس قوم کی امید بھی، اور نااہل حکمران بھی۔ اسی لیے وہ اتنا متنازعہ ہے۔تو نچوڑ کیا نکلا؟ یوتھیا، پٹواری، جیالا یہ سب مداریوں کی دی ہوئی شناختیں ہیں تاکہ آپ کو ایک ڈبے میں بند رکھا جا سکے۔سیاستدان کو اس سے نہ پرکھیں کہ وہ کتنا بڑا جلسہ کرتا ہے۔ اس سے پرکھیں کہ اس کے جانے کے بعد کیا باقی رہا۔ جس کے جانے کے بعد صرف نعرہ اور فین کلب رہ جائے، وہ مداری تھا۔ جس کے جانے کے بعد کوئی سکول، کوئی ہسپتال، کوئی قانون، کوئی آزاد ادارہ رہ جائے، وہ قوم کا خادم تھا ۔ پاکستان کو آج کسی نئے مداری کی ضرورت نہیں، چاہے اس کا نام عمران ہو یا نواز ۔ پاکستان کو ایک معمار کی ضرورت ہے۔ اور معمار تب تک نہیں آئے گا جب تک کارکن خود مداری کا تماشہ دیکھنا بند نہیں کریگا۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *