بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 23.8°C
Tuesday, 01 September 2026 | پاکستان: 20 ر بیع الاول 1448

مصر پنجہ یہود میں

Tuesday, 1 September, 2026

مصر میں صدیوں تک فرعون کی حکومت رہی جو کسی مذہب کے پیروکار نہ تھے وہ لادنییت کا شکار تھے۔ پھر مصر رومن امپائر کے تسلط میں آیا کافی عرصہ روسیوں کے تسلط میں رہا۔ سب سے پہلے حضرت عمرو بن العاصں نے مصر کو فتح کیا ۔اس وقت سرکاری مذہب عیسائیت تھا مگر عیسائیت بھی بہت سے حصوں میں بٹ چکی تھی۔پھرصلاح الدین ایوبی کے دور میں مصر (شام، فلسطین،بیت المقدس) فتح ہوا۔ اس کے بعد مصر میں صحیح معنوں میں اسلامی شریعت کا نفاذ ہوا۔ صلاح الدین ایوبی کی آخری جنگ جنرل رچرڈ سے ہوئی تو اس کے الفاظ تھے ”صلاح الدین تم کب تک زندہ رہو گے تمہارے بعد ہم مسلمانوں کو حصوں میں بانٹ دیں گے۔ ہر برائی ہم ان میں پیدا کردیں گے۔” اور ایسا ہی ہوا۔مصر کے زوال کا دور اس وقت شروع ہوا جب جمال عبدالناصر نے اقتدار سنبھالا۔ کیونکہ وہ مکمل طور پر ایک لادین شخص تھا لہذا خلافت کا خاتمہ کردیا گیا ۔ اس وقت اس نے اخوان المسلمین کے ارکان کو چن چن کر شہید کیا۔ اس کے بعد انور سادات کا دور آیا اس نے مزید فحاشی پھیلائی اس کے بعد ایک لمبے عرصے تک حسنی مبارک برسراقتدار رہا یہ سارا گروہ لادین طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ یہ سیکولر طبقہ تھا۔ بالآخر حسنی مبارک کے خلاف تحریکیں شروع ہوگئیں جس کے نتیجے میں جمہوریت بحال ہوئی اور اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مرسی دو تہائی اکثریت سے صدر بنے ۔ انہوں نے آئین میں اسلامی شقیں داخل کرنی شروع کیں تو لادین طبقے سے یہ برداشت نہ ہوا ان کا جینا دوبھر ہوگیا۔ اس طرح مصر میں دو طبقے ہوگئے اخوان المسلمین اور لادینی طبقہ ۔ ان دونوں گروہوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی شروع ہوگئی جس کا فائدہ امریکا اور یہودیوں نے اٹھایا۔امریکا نے مصر کی فوج جو کہ لادینیت کا شکار تھی ، کو آلہ کار بنانے کا فیصلہ کیا اور فوج کے سربراہ نے صدر مرسی اور اخوان المسلمین کے چیدہ چیدہ لیڈرز کو گرفتار کرلیا۔ اس پر اخوان نے جگہ جگہ دھرنے دینے شروع کردیے۔ مْرسی کو چھ سال قید میں رکھا گیا اور پھر کورٹ میں پیشی کے دوران مْرسی بے ہوش ہو گئے اور اْنہیں جیل ہسپتال لے جایا گیا، وہاں دل کا دورہ پڑنے سے اْن کی موت کا اعلان کر دیا گیا۔ عوام نے احتجاج کرنے کی کوشش کی لیکن بڑی سختی سے عوامی احتجاج کو دبا دیا گیا۔ مصری فوج کے جنرل سیسی نے اقتدار سنبھال لیا۔ جس کی اصلیت یہ ہے کہ وہ ایک یہودی خاتون کا بیٹا ہے جس کا نام ملیکہ تیتانی تھا۔1958ء میں اْس نے مصر کی شہریت اختیار کی۔اس پر مستزاد یہ کہ اس کا بھائی عوری صباغ اسرائیل کا وزیر تعلیم رہا ہے ۔ صرف مصری فوج کا جنرل ہی نہیں بلکہ ا س کا نامزد کردہ صدر بھی مسلمان نہیں ہے۔صدر عدلی منصور عیسائیوں کے اس فرقہ سے جو بقول عیسائی یہودیوں کی شاخ ہے۔ مصر میں جنرل سیسی کی کامیابی کسی بھی یزید کیلئے ایک راستہ ہے جو ہر یزید اپنانا چاہے گا۔ آج جنرل سیسی مصر میں 13 سال سے حکومت کر رہا ہے۔ مْحمد مْرسی کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد اسلامی ممالک میں سے صرف ترکیہ، ایران، تیونس اور قطر نے احتجاج کیا جبکہ سعودی عرب، کویت، یو اے ای نے جنرل سیسی کی حمایت کا اعلان کیا۔ آج جنرل سیسی امریکہ اور اسرائیل کا مشرق وسطیٰ میں سب سے اہم مْہرہ ہے۔ اسی لیے میں ایران کی حمایت کرتا ہوں کہ اسرائیل اور امریکہ نے پورا عالم اسلام اس طرح فتح کر لیا کہ ہر ملک میں اپنی مرضی کا رجیم لگا دیا یا جہاں اپنی مرضی کا رجیم نہ لگا سکے تو ایسے رجیم کو اپنے ساتھ کر لیا، لیکن ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی پیش قدمی روک دی، جب امریکہ اور اسرائیل گریٹر اسرائیل کی فائنل سٹیج پر پہنچ گئے تھے اور اسلامی ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تیاری کر رہے تھے، ایران نے کربلا کی قْربانی کو زندہ کیا اور دو سْپر پاورز کو شکست دے دی۔ جنرل سیسی کی کہانی ایک ایسے یزید کی کہانی ہے جسے کوئی بھی آج کا یزید اپنا سکتا ہے۔ جنرل سیسی کا 13 سالہ اقتدار کسی بھی یزید کیلئے ایک کامیابی کا سفر بن چکا ہے۔ محمد مْرسی کی کہانی حسینیت پر چلنے کا واقعہ ہے۔ یزید ضرور جیتا تھا لیکن تاریخ میں عبرت کا بد ترین نشان بن گیا اور یہی حال ہر یزید کا ہو گا۔ مسلمانوں کو سوچنا ہو گا، کیا کربلا کی طرح افسوس اور سوگ ہی منانا ہے یا یزید کو شکست بھی دینا ہے۔ ایک یزید کو شکست دیکر حسینیت کے راستے کو جلا بخشنا ہو گا ۔ ایران نے حسینیت کے راستے پر یزیدیوں کو شکست دیکر ایک نئے راستے کا آغاز کر دیا ہے ۔ ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے ۔ابو الفتح اسیسی نے پھر سارے یہ کام کیے اور تمام اخوان المسلمین اور مسلم غیرت رکھنے والے مسلمان مار دیے گئے۔ اور مصر اندرون خامہ اسرائیلی ریاست بن گیا۔ جس کیلیے وہ فالس فلییگ آپریشنز کا طریقہ اختیار کرکے پھر فوج سے ہی ان کو مرواتا رہا۔ جنرل سیسی نے اقتدار میں آتے ہی چار سے پانچ ہزار اخوان قتل، پچیس ہزار زخمی کر دیئے جن میں بہت سے معذور ہو چکے ہیں، دس ہزار گرفتار کر لئے اور کئی ہزار لاپتہ ہیں۔ ان سب کا گناہ یہ تھا کہ وہ راسخ العقیدہ مسلمان تھے اور جنرل سیسی یہودی۔ لہٰذا اس نے نہ صرف 45ہزار علمائے کرام کے مساجد میں داخلے پر پابندی لگائی بلکہ مصر کی تیرہ ہزار سے زیادہ مساجد میں جمعے کی نماز روک دی ۔موجودہ فوجی حکومت نے فلسطینیوں کی پہلے سے بھی سخت ناکہ بندی کر دی اور غزہ کو دنیا سے ملانیوالا واحد راستہ جو سرنگوں کی شکل میں تھا تباہ کر دیا اور فلسطینیوں کی مصر آمدورفت روک دی۔ یہ تو ہے مصر کی فوجی حکومت کی اصلیت۔ پھر بھی نہ جانے کیوں عرب ممالک اس کی حمایت کر رہے ہیں ۔ گویا ایک دو ممالک کو چھوڑ کر امریکہ اسرائیل نے تمام عربوں کے ذہنوں پر قبضہ جما رکھا ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *