بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Wednesday, 08 July 2026 | پاکستان: 24 محرم 1448

معرکہ حق : پاکستان کاتزویراتی گیم چینجر

Wednesday, 8 July, 2026

معرکہ حق ایک گیم چینجر تھا۔حافظ قرآن اور تہجد گزار فوجی سربراہ سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان کامیاب ہوئیں اور اس کامیابی نے پاکستان کو سر بلند کر دیا۔فیلڈ مارشل نے اپنی بصیرت ، جرات اور عزم سے اپنی افواج اور اپنی ریاست دونوں کو سرخرو اور سربلند کر دیا۔
اس جنگ نے جہاں پاکستان کو معتبر، سربلند اور سرخرو کیا، وہیں اس نے جنوبی ایشیا کے سیاسی، سفارتی اور تزویراتی منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا۔ یہ ایک غیر معمولی کامیابی تھی جس نے خطے میں طاقت کے توازن کو بدل دیا۔ اس نے ہندوتوا شاو¿نزم کے سیاسی اور نظریاتی آزار کو بھی زمین بوس کر دیا۔
معرکہ حق کی اس کامیابی کو درست تناظر میں سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس سے پہلے بھارت کی اس جنگی حکمت عملی اور اسٹریٹجک کیلکولیشن کا جائزہ لیا جائے جس نے اسے ایک بڑے مس ایڈونچر کی طرف دھکیلا۔
پاکستان پر حملہ کرنا کوئی معمولی رسک نہیں تھا۔ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے۔ اس کا مضبوط دفاع ہے۔ اس پر جارحیت مسلط کرنے کا مطلب جنوبی ایشیا کے لیے بہت بڑی تباہی بھی ہو سکتا ہے۔ یہ علاقہ نیوکلیئر فلیش پوائنٹ بھی ہے۔ دونوں ملکوں میں تصادم ایک تباہ کن ایٹمی جنگ کی طرف بھی دھکیل سکتا ہے۔ اس کے باوجود بھارت نے اتنی بڑی حماقت کیوں کی کہ 1971کے بعد پہلی بار بین الاقوامی سرحدوں پر جارحیت کی اور پاکستان کی سلامتی پر حملہ کیا۔ یعنی ایل ا و سی وغیرہ پر تو جھڑپیں ہو جایا کرتی ہیں لیکن بین الاقوامی سرحد کے تقدس کو پامال کر کے پاکستان پر براہ راست حملہ نصف صدی کا اکلوتا اور پہلا واقعہ تھا۔
یہ سوال اہم اور بنیادی اہمیت کا حامل ہے کہ بھارت کے پالیسی سازوں کو کس بنیاد پر یہ اطمینان حاصل تھا کہ پاکستان پر محدود حملہ کیا جا سکتا ہے اور پاکستان ایسا رد عمل نہیں دے گا جو سنبھالا نہ جا سکے۔ جیسا کہ پہلے لکھا ہے، یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ جنوبی ایشیا ایک نیوکلیئر فلیش پوائنٹ ہے، جہاں کسی بھی فوجی تصادم کے وسیع جنگ یا ممکنہ طور پر ایٹمی خطرے میں بدلنے کا امکان موجود رہتا ہے۔ اس کے باوجود بھارت کی جانب سے محدود فوجی کارروائی کا فیصلہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کی اسٹریٹجک سوچ اور اس کے مفروضات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔
بھارت کے پالیسی ساز کیا سوچ رہے تھے؟ اس کی وار ڈاکٹرائن کیا تھی؟ اس کے حماقت کی حد تک بڑھے ہوئے اعتماد کے پیچھے کیا فتنہ چھپاتھا۔ اس سب کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ کیونکہ یہ جائزہ لینے کے بعد ہی معلوم ہو گا کہ پاکستان نے جب بنیان مرصوص کی صورت جوابی حملہ کیا تو بھارت کی وار اسٹریٹجی کو کس طرح ادھیڑ کر رکھ دیا۔ کیسے بھارت کی عسکری منصوبہ بندی کو ہندتوا کی رعونت کے ساتھ خاک میں ملا دیا۔
چند امکانات ہو سکتے ہیں۔
پہلا امکان ہندتوا کا اپنی طاقت پر حماقت کی حد تک بڑھا ہوا غرور تھا۔ اس نے پاکستان کو انڈر اسٹیمیٹ کیا۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ بھارت کو اپنی عسکری طاقت کا بڑا زعم تھا اور اس کا خیال تھا کہ پاکستان عسکری اعتبار سے اس کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتا اس لیے اگر پاکستان کے خلاف کوئی شرپسندی کر لی جائے تو پاکستان کوئی بڑا رد عمل نہیں دے گا۔ اور یوں پاکستان کے خلاف کارروائیاں ایک طرح کا نیو نارمل بن جائے گا۔یوں کہہ لیجیے کہ مودی کو اپنے رافیل پر بڑا ناز تھا ، یہ الگ بات کہ پاکستان نے اس کی ارتھی کو ایسی آگ لگائی کہ رافیل کے شیئرز ہی گر گئے۔
یہ بالکل صہیونی پیٹرن تھا۔یعنی جس طرح اسرائیل مشرق وسطی میں جب چاہتا ہے کسی بھی ملک کی سلامتی کو پامال کر کے وہاں حملہ کر دیتا ہے بھارت نے بھی یہی گمان کیا تھا کہ وہ صہیونی ماڈل کو جنوبی ایشیا میں متعارف کروا لے گا۔
دوسرا امکان پاکستان کی معیشت کے تزویراتی اثرات کے بارے میں بھارت کی مس کیلکولیشن تھی۔ معیشت اور دفاع ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے بھارت کے ملٹری سٹریٹجی کے فیصلہ سازوں نے سوچا ہو کہ اس وقت پاکستان کی معیشت اچھی حالت میں نہیں ہے، اس لیے پاکستان کا بازو مروڑنے کا یہی موقع ہے۔ شاید ان کا یہ خیال ہو خراب معیشت کے زیر اثر پاکستان کسی بھی جنگ میں الجھنے سے گریز کرے گا اور یوں بھارت کو برتری حاصل ہو جائے گی کہ اس نے پاکستان کے اندر حملہ کیا اور پاکستان نے جواب نہیں دیا۔
بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کو متعدد دفاعی اور تزویراتی تجزیہ نگار ایک وسیع تر اسٹریٹجک سوچ کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق نئی دہلی کو گزشتہ برسوں میں اپنی روایتی عسکری برتری، جدید فضائی قوت، پریسیژن اسٹرائیک صلاحیت اور دفاعی جدت پر غیر معمولی اعتماد حاصل ہو چکا تھا۔ اسی اعتماد کے تحت بھارتی قیادت نے یہ اندازہ لگایا کہ وہ ایک محدود فوجی کارروائی کر سکتی ہے۔
رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے والٹر لیڈوگ کے مطابق “آپریشن سندور” دراصل بھارت کی نئی ڈیٹرنس حکمت عملی کا اظہار تھا، جس کا مقصد اپنی عسکری برتری کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان پر دبا و¿بڑھانا اور مستقبل کے لیے ایک نیا تزویراتی معیار قائم کرنا تھا۔
اسی طرح آبزرور ریسرچ فاو¿نڈیشن کے تجزیوں میں بھی اس امر پر زور دیا گیا کہ 1971کے بعد پہلی مرتبہ بھارت نے اس اعتماد کے ساتھ اتنی وسیع سرحد پار کارروائی کی جو اس کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیتوں پر یقین کی عکاس تھی۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بھارت کی اسٹریٹجک کیلکولیشن یہ تھی کہ پاکستان یا تو محدود ردعمل دے گا یا بحران کو مکمل جنگ میں تبدیل کرنے سے گریز کرے گا اور یوں بھارت کوایک نفسیاتی برتری حاصل ہو جائے گی اور وہ اس خطے میں اسرائیل کی طرح اپنی ٹرمز ڈکٹیٹ کرواتا پھرے گا۔
تیسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ بھارت نے پاکستانی معاملے کو یوں سٹریٹجائز کیا ہو کہ پاکستان کے دو صوبوں میں بھارتی پراکسیز مصروف عمل ہیں اور ملک دہشت گردی کی لپٹ میں آیا ہوا ہے تو ایسے میں پاکستان مغربی سرحدوں پر الجھا ہوا ہے اورا س کے پاس بھارتی حملے کا جواب دینے کی صلاحیت نہیں ہو گی اور وہ اسے لو پروفائل میں رکھے گئے یا سفارتی احتجاج تک محدود رہے گا لیکن اس معاملے کو جنگ کی طرف کبھی نہیں لے کر جائے گا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات میں ایک بنیادی بحث، ایک عرصے سے یہ رہی ہے کہ کیا کسی ریاست کی داخلی سیکیورٹی مصروفیات اس کی بیرونی جنگی یا جوابی حملے کی صلاحیت کو کمزور کر دیتی ہیں۔ اسی تناظر میں ایک اہم مفروضہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ بھارت نے ممکنہ محدود فوجی کارروائی کے دوران یہ اندازہ لگایا کہ پاکستان اس وقت بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور انسدادِ بغاوت کی کارروائیوں میں اتنا الجھا ہوا ہے کہ وہ بھارت کی کسی محدود کارروائی کا فوری اور بھرپور جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔ اس مفروضے کے مطابق یہ سمجھا گیا کہ پاکستان کی عسکری توجہ مغربی سرحدوں پر مرکوز ہے، اس کی افواج داخلی آپریشنز میں مصروف ہیں، اورنتیجتاوہ ایک مکمل جنگ کے بجائے اپنی توانائی اندرونی سیکیورٹی پر صرف کرے گا۔
یہ تصور بین الاقوامی تعلقات کے اس عمومی نظریے سے جڑا ہوا ہے جسے امریکی ماہر رابرٹ جروِس نے اپنی کتاب Perception and Misperception in International Politics میں واضح کیا ہے۔ ان کے مطابق ریاستیں اکثر مخالف کی داخلی مصروفیات کو اس کی مجموعی اسٹریٹجک کمزوری سمجھنے لگتی ہیں، جس سے غلط اندازے جنم لیتے ہیں۔ اسی منطق کے تحت یہ مفروضہ تشکیل پاتا ہے کہ اگر ایک ریاست اندرونی بغاوت یا دہشت گردی میں مصروف ہو تو دوسری ریاست یہ نتیجہ اخذ کر سکتی ہے کہ وہ بیرونی حملے کا مو¿ثر جواب دینے سے قاصر ہوگی۔
پاکستان کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال اس مفروضے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی رپورٹس اور انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کے گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2024 کے مطابق ملک کو مسلسل داخلی دہشت گردی اور عسکری تشدد کے چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کی بحالی، بلوچستان میں علیحدگی پسند سرگرمیاں، اور خیبر پختونخوا میں جاری انسدادِ دہشت گردی آپریشنز نے ریاستی سیکیورٹی ڈھانچے پر نمایاں دباو¿ ڈالا ہے۔ اس صورتحال کو امریکی تھنک ٹینک بروکنگز انسٹیٹیوشن کے محقق اسٹیفن پی کوہن اس انداز میں بیان کرتے ہیں کہ پاکستان کی ریاستی صلاحیت کا ایک بڑا حصہ مسلسل اندرونی خطرات کے انتظام میں مصروف رہتا ہے، جس سے اس کی مجموعی اسٹریٹجک توجہ تقسیم ہو جاتی ہے۔
اسی داخلی دبا و¿کو بعض اسٹریٹجک تجزیے بھارت کے لیے ایک موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس منطق کے مطابق جب مخالف ریاست کی توانائی اندرونی محاذ پر صرف ہو رہی ہو تو محدود بیرونی کارروائی کا خطرہ کم سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں بھارتی اسٹریٹجک فکر میں “ایٹمی ڈیٹرنس کے سائے میں محدود جنگ ” کا تصور اہم ہو جاتا ہے۔ امریکی محقق جے ایشلے ٹیلس ، جو کارنیج اینڈوومنٹ فارانٹر نیشنل پیس سے وابستہ ہیں، یہ نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت نے روایتی سطح پر محدود فوجی آپشنز پر غور کیا ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب اسے یہ اندازہ ہو کہ پاکستان مکمل جنگ یا ایٹمی سطح پر ردعمل نہیں دے گا۔ اسی طرح نارنگ ویپن اپنی کتاب “سٹریٹجی ان ماڈرن ارا ” میں یہ واضح کرتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں ڈیٹرنس کا نظام بظاہر مستحکم ہونے کے باوجود روایتی سطح پر غلط اندازوں کے امکانات کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتا۔
اس مفروضے کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ بھارت نے پاکستان کے ایٹمی ڈیٹرنس کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا بلکہ اسے ایک محدود خطرے کے طور پر برقرار رکھتے

ہوئے یہ اندازہ لگایا کہ پاکستان کی داخلی مصروفیات اس کے ردعمل کو سست یا محدود کر دیں گی۔ اس سوچ میں یہ عنصر بھی شامل ہے کہ ریاستیں اکثر مخالف کی اندرونی مشکلات کو اس کی بیرونی کمزوری کے طور پر دیکھنے لگتی ہیں، جیسا کہ رابرٹ جروِس نے وضاحت کی ہے۔
اسی بنیاد پر یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ بھارت کے لیے پاکستان کی مغربی سرحدوں پر جاری سکیورٹی صورتحال ایک ایسی حالت پیدا کر سکتی ہے جہاں وہ یہ سمجھ لے کہ پاکستان فوری طور پر بھارت کے خلاف وسیع پیمانے پر عسکری ردعمل دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔ اس کے نتیجے میں محدود کارروائی کا خطرہ قابلِ قبول سمجھا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ توقع ہوتی ہے کہ مخالف ریاست اپنی داخلی مصروفیات کے باعث اسے مکمل جنگ میں تبدیل نہیں کرے گی۔
بھارت نے یہی غلطی کی، اس نے پاکستان کی دفاعی وقت کو سمجھنے میں غلطی کی۔ اس نے پاکستان کو انڈر اسٹیمیٹ کیا اور پاکستان کے ہاتھوں ذلت ور ہزیمت سے دوچار ہوا۔
پاکستان نے اسے ایسا شاندار جواب دیاکہ بھارت صدمے کی کیفیت میں چلا گیا۔ عسکری قوت ور اخلاقی قوت ہر اعتبار سے پاکستان کا جواب شاندار تھا۔ بھارت کی ساری سٹریٹیجک کیلکولیشن پاکستان نے تہس نہس کر کے رکھ دی۔
دنیا کے لیے بھی یہ سب ایک حیران کن چیز تھی کہ پاکستان نے کس طرح بھارت کو عسکری میدان میں چاروں شانے چت کر دیا ہے۔ پاکستان اس جنگ سے نہ صرف عسکری طور پر سرخروا ہو بلکہ سفارتی سطح پر بھی یہ ایک گیم چینجر جنگ ثابت ہوئی۔ اس جنگ کے بعد ایک نیا ، طاقت ور ، پر اعتماد اور مضبوط پاکستان سامنے آیا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے جذبہ ایمانی ، اپنے یقین اور عزم و ہمت سے اسلام کی روشن تاریخ کے اسلاف کی یاد تازہ کر دی۔ قوم کو اپنے فیلڈ مارشل اور اپنی افواج پر فخر ہے۔

 

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *