پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین تاریخی اور بے مثال تعلقات پائے جاتے ہیں ، دونوں ممالک کے مابین دوستی کی بنیاد سابق ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی تھی ، اس وقت کے متحدہ عرب امارات کے بانی حکمران شیخ زید بن سلطان النہیان نے پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیا تھا اور ایک نئے ملک کی تعمیر وترقی کیلئے انہوں نے پاکستان کی افرادی قوت پر انحصار کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے درخواست کی کہ وہ ہنر مند افراد کو یو اے ای بجھوائے جس پر دس لاکھ سے زائد پاکستانی تعمیر و ترقی کی غرض سے وہاں گئے اور اپنی شبانہ روز محنت کے باعث اس نئے ملک کو دنیا میں ایک اہم اور ممتاز مقام دلوایا جس کا اعتراف آج بھی یو اے ای کے حکمران کرتے ہیں ، دونوں ممالک کے مابین روابط وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط ہوتے گئے اور پاکستان پر آنے والے مشکل حالات میں اس ملک نے اپنا کردار بخوبی نبھایا ۔ پاکستان کے معاشی بحرانوں میں بھی متحدہ عرب امارات کا کردار مرکزی رہا ہے ، آئی ایم ایف پروگرام ہو یا ورلڈ بینک کا مسئلہ یا اندرونی طور پر معیشت کی خرابی ہو یو اے ای نے کبھی پیچھے مڑکر نہیں دیکھا مگر کندھے کے ساتھ کندھا ملاکر کھڑا نظر آیا ، گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیفالٹ کا خطرہ اب ختم ہو چکا ہے، آنے والی حکومت چارٹر آف اکانومی پر عمل کرے، آج بھی یہی کہتا ہوں چارٹر آف اکانومی پر قوم متحد ہو جائے، معیشت کی بحالی کیلئے ہم نے پروگرام بنایا ہے، اب اگلی حکومت کو معاشی بحالی کے پروگرام پر کام کرنا ہو گا۔ صنعتی ترقی کیلئے بہت اہم منصوبہ بندی کی ہے، بجلی کا بوجھ غریب آدمی پرمزید نہیں ڈال سکتے، پاکستان کو بے پناہ چیلنجز کا سامنا ہے، آئی ایم ایف کی شرائط پرعملدرآمد کے ہم پابند ہیں، ماضی میں آئی ایم ایف معاہدے پرعمل نہیں کیا گیا۔ جتنی ہماری ایکسپورٹ ہے ڈوب مرنے کا مقام ہے، اگر ہم دن رات محنت کریں گے تو تمام منزلیں عبور کریں گے، پاکستان کے ذخائر 14ارب ڈالر کے قریب ہیں، دوست ممالک کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے، قرضوں سے ہمیں اب نکلنا ہو گا، دوست ملکوں سے کہا خدا کرے اب ہمیں قرضوں کی درخواست نہ کرنی پڑے، ماضی میں سپیشل اکنامک زونز پر ایک دمڑی نہیں لگائی گئی۔ ہمیں انڈسٹریل زونز کارو باری حضرات کو لیز پر دینے چاہئیں، اگر حکومت زمینوں کی قیمتیں بڑھائے گی تو کون آ کر سرمایہ کاری کرے گا ، زمینیں لیز پر دیں گے تو ملک تیزی سے آگے رواں دواں ہو گا، ہم ہمسایہ ملک کو معاشی میدان میں شکست فاش دیں گے، باتیں نہیں عملی اقدامات کرنا ہوں گے ۔بعد ازاں وزیر اعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید کو فون کر کے پاکستان کے معاشی استحکام کیلئے مدد کرنے پر اظہار تشکر کیا ۔ شیخ محمد بن زید سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے کہا کہ اسٹیٹ بینک میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایک ارب ڈالر کے ڈیپازٹ پر آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔دونوں رہنماو ¿ں نے باہمی دلچسپی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا اور امارات میں پاکستانی مزدوروں کیلئے بہتر مواقع پیدا کرنے پر بھی گفتگو ہوئی۔وزیر اعظم شہباز شریف اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید نے اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعلقات کے فروغ پر بھی اتفاق کیا۔سابقہ حکومت کے عدم اعتماد سے رخصت ہونے کے بعد ایک عام خیال یہ تھا کہ موجودہ حکومت آکر انہیں ریلیف مہیا کرے گی مگر عنان حکومت سنبھالنے کے بعد مسلم لیگ ن اور پی ڈی ایم نے جب معاشی ابتری کا اندازہ لگایا تو انہیں پتہ چلا کہ ملک تو ڈیفالٹ کے قریب پہنچاہوا ہے اور اس ملک کی معیشت کو سنبھالنا نہایت مشکل چیلنج ہے جسے پورا کرنے کیلئے فوری طور پر بجلی ، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا ، رہی سہی کسر آنے والے سیلاب نے نکال دی جس کے باعث کھیتوں میں کھڑی فصلیں تباہی سے دو چارہوئیں جس کے باعث اشیائے خوردنوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا اور عام سبزیوں کی قیمتیں بھی آسمان کو چھونے لگی ، بدقسمتی یہ ہے کہ ستر کی دہائی کے بعد ملک کو بیرونی قرضوں پر چلانے کی روایت ڈالی گئی جبکہ کوئی ایسی پلاننگ نہیں گئی کہ جو خود کفالت کی منظر کا پتہ دیتی ، نہ تو زرعی معیشت کی بہتری کیلئے اقدامات کئے گئے اور نہ ہی صنعتی ترقی کیلئے کو ئی خاطر خواہ اقدامات کئے گئے اور نہ ہی ملکی برآمدات میں اضافے کیلئے کوئی پلاننگ کی گئی ، حالانکہ ملک میں پلاننگ کمیشن آف پاکستان کے نام سے ایک ادارہ موجودہ ہے ، طویل المدت پالیسی تشکیل دینے کی بجائے وقتی پالیسیاں بناکر گزاراہ چلایا جاتا رہا ، ہم سے کہیں بعد آزاد ہونے والے ممالک جنوبی کوریا ، سنگاپور ، ملائیشیا،بنگلہ دیش آج ایشین ٹائیگر بنے کھڑے ہیں حالانکہ ان ممالک نے پاکستان کا بناہوا 5سالہ منصوبہ بندی پلان لیا اور خوشحالی کی منزل کو پاگئے ، ہمیں متحدہ عرب امارات سے ملنے والی دولت پر خوش نہیں ہونا چاہیے بلکہ پاکستانی برآمدات ، زراعت اور صنعتی ترقی کیلئے طویل المدت پالیسیاں بنانی چاہیے کہ جن کو بروئے لاکرہم خوشحالی ، خودکفالت اور خود انحصاری کی منزل کو پا سکیںاور قرضوں کی بھیگ مانگنے والے کشکول کو توڑ کر اقوا م عالم میں سر اٹھا کر آبرومندانہ سفر کا آغاز کرسکیں۔
دہشتگردی ، افغانستان کو امریکا کا انتباہ
پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے تانے بانے ہمسایہ ملک افغانستان سے ملتے ہیں اور دہشتگرد تنظیموں کی تربیت یافتہ دہشتگرد جب قانون کے ہتھے چڑھتے ہیں تو وہ بتاتے ہیں کہ انہیں تربیت افغانستان کے اندر فراہم کی گئی اور انہیں اسلحہ اور مالی امداد افغانستان سے مل رہی ہے ، اسی حوالے سے پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے گزشتہ دنوں ایک نجی ٹی وی چینل کو دیئے جانے والے انٹرویو میں برملا اظہار کیااور ان کی بات کی تصدیق اب تو امریکا نے بھی کردی ہے اور اس نے بھی افغانستان سے مطالبہ کردیا ہے کہ وہ اپنے ملک کے اندر دہشتگرد گروپوں کی سرپرستی کرنا چھوڑ دے، پاکستان کے طالبان سے افغان سرزمین کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکنے کے مطالبے کی امریکا نے بھی حمایت کردی۔ ہفتہ واربریفنگ میںامریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ افغانستان میں دستیاب محفوظ پناہ گاہیں، جدید ترین ہتھیار اور دہشت گردی کی کارروائیوں کی آزادی نے عسکریت پسندوں کو سرحد پار پاکستان کے اندر حملے کرنے کے قابل بنایا ہے۔ اپنی سرزمین سے شروع ہونے والی دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری طالبان عائد ہوتی ہے جیسا کہ انھوں نے امن معاہدے میں وعدہ کیا تھا۔ طالبان افغان سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک میں دہشت گرد حملے کےلئے استعمال ہونے سے روکنے کے اپنے وعدے کی پاسداری کریں۔ یاد رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا یہ بیان پاک فوج کی کورکماڈرز کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے آئی ایس پی آر کے بیان کے ایک روز سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ افغانستان سے دہشت گرد گروپ سرحد پار کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغانستان میں دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں اور جدید اسلحہ سمیت دہشت گردی کے آزادانہ مواقع میسر ہیں۔
چینی مافیا کیخلاف کریک ڈاو ¿ن کا فیصلہ
ملک میں جاری معاشی بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مافیاز نے اشیائے خودنوش کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے ، یہ مافیاز مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کرکے ان کی قیمتوں میں راتوں رات من مانا اضافہ کرنے میں مصروف ہے جس کی ایک مثال چینی ہے ، 140سے150روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگی،گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران چینی کی قیمت میں 15روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اپنے ملک کی پیدوار چینی بھی غریب کی پہنچ سے دور ہو گئی۔ہمارا کیا ہو گااللہ خیر کرے۔دوسری جانب نگران وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت پر صوبہ میں آٹا اور چینی کے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کریک ڈاو ¿ن کا فیصلہ کر لیا ہے، چیف سیکرٹری پنجاب نے سپیشل برانچ کو مانیٹرنگ کی ذمہ داریاں تفویض کر دیں۔نواب کالا باغ کے دور میں جب اسی مافیا نے سر اٹھایا تھا تو انہیں پکڑ کر جیلوں میں ڈال دیا گیا جس کے باعث قیمتیں معمول پر آگئیں ، آج بھی اسی طرح کی سختی اختیا ر کرنے کی ضرورت ہے ۔





