بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 15.1°C
Monday, 26 October 2026 | پاکستان: 16 جمادی الاول 1448

ملزمان کا گرفتاری کے بعد مارے جانا لمحہ فکریہ ہے

Monday, 26 October, 2026

ڈرتے نہیں اور واقعات میں کمی نہیں آتی۔ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ ملزم کو پکڑو اور مار دو۔ ملتان کا واقعہ ایک اور دردناک پہلو سامنے لاتا ہے۔ ایک یتیم بچہ جس کی ماں کی شادی پہلے خاوند کے فوت ہو جانے کے بعد خاوند کے بھائی یعنی بچوں کے چچا سے کر دی جاتی ہے۔ تانکہ یہ گھر بکھرنے سے بچ جائے۔ مگر شادی کے بعد یہ بچوں کی ماں کی کفالت تو کرتا ہے مگر بچوں کی کفالت سے انکاری کرتا ہے۔بچوں کو نانا نانی کے سپرد کر دیتا ہے۔ نانا نانی بڑے بچے کو یتیم خانہ چھوڑ دیتے ہیں کہ یہ وہاں رہ کر ہنر سیکھے گا پیسے بنائے گا۔ کہا جاتا ہے یتیم خانہ چلانے والا خود اپنے ذرائع امدنی کیلیے یتیم خانہ بزنس کے طور پر چلا رہا تھا۔یہ ایسا کر کے یتیموں کی خدمت نہیں کر رہا تھا۔ جس کے باعث اس بچے کے ساتھ جو ہونا تھا وہ ہوا۔ اس مقدمہ کا ملزم ایک وڈیو میں کہہ رہا تھا کہ میرا ارادہ اس بچے کو کچل کر جان سے مارنے کا نہیں تھا اس کے اگیگاڑی لگا کر اسے پکڑنے کا تھا۔ نیتیں خدا جانتا ہے مگر زمین کے چند خداں نے وڈیو دیکھ کر اسے قصور، وار ٹھہرا دیا۔ جب گرفتار ہو کر اسے عدالت لے جایا گیا۔ کہا جاتا ہے وکلا نے جزبات میں اکر وہی کچھ اس ملزم کے ساتھ کیا جو دیہاتوں، محلے گلیوں کے ان پڑھ لوگ جذبات میں کرتے ہیں۔ ۔وکلا نے ملزم کو مارا پیٹا اور نعرے بازی کی کہ اگر تم عدالت سے رہا ہو بھی گئے تو ہم تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ جیسے یہ وکیل نہیں فلموں کے سلطان راہی ہوں یا موت کے فرشتے ہوں۔ وکیل تو ڈبل گریجویٹ ہوتا ہے۔ہر ایکشن سے پہلے سوچتا ہے کہ کیا کیا جائے کہ دوبارہ ایسے واقعات سوسائٹی میں رونما نہ ہوں ۔ ان کی حرکتوں سے یہی لگتا ہے کہ یہ وکیل نہیں کالے کوٹوں والے تھے۔ ورنہ وکیل کسی مجرم سے لڑتا نہیں اس کا مقدمہ لڑتا ہے اور سوسائٹی کی بہتری کیلیے کام کرتا ہے۔ اگر تحقیقات سے ثابت ہو بھی جاتا کہ اس نے جان بوجھ کر گاڑی سے کچلا تھا پھر عدالت اسے سزا دیتی تو اچھا میسچ جاتا۔ مگر اب اس مقدمے کا ملزم بھی پولیس کارروائی میں مارا جا چکا ہے اس نے اگر برا کیا تھا تو اسے مار کر اس سے بھی برا کیا۔ ریاست کے اداروں پر عوام کا اعتماد اسی وقت قائم رہ سکتا ہے جب ان کے اقدامات شفاف ہوں اور ہر سنگین واقعے میں حقائق کی جانچ پڑتال ہو۔کہا جاتا ہے کہ ایسا ہونا یہ عدالتی نظام کی کمزوری کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ ہمارے آئین اور قانون کی روح یہی ہے کہ کسی شخص کو جرم ثابت ہونے سے پہلے مجرم قرار نہ دیا جائے۔ یہ اصول کسی مجرم کی حمایت نہیں بلکہ انصاف کے تحفظ کیلئے ہے۔ اگر ملزم بے گناہ ہے تو اسے تحفظ ملنا چاہیے، اور اگر وہ واقعی مجرم ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔ ان دونوں صورتوں میں فیصلہ عدالتوں نے قانون کے مطابق کرنا ہے، کسی فرد یا ادارے نے اپنی مرضی سے نہیں کرنا۔ پولیس مقابلے کے ہر واقعے کو جعلی قرار دینا بھی درست نہیں، کوئی ملزم پولیس کی تحویل میں ہلاک ہو، یا ریمانڈ سے فرار ہونے کے بعد مبینہ مقابلے میں مارا جائے، وہاں مکمل تحقیقات پوسٹ مارٹم، فرانزک شواہد، دستیاب ویڈیو ریکارڈ اور متعلقہ اہلکاروں کے بیانات کی جانچ ضروری ہے۔ اگر کسی اہلکار کی غفلت یا غیر قانونی اقدام ثابت ہو تو اس کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے کیا ہمارا معاشرہ اخلاقی زوال کا شکار ہے؟ معاشرے کے اخلاقی ڈھانچے پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ہمارے ہاں قانون کی کمزوری کا تاثر، مقدمات میں تاخیر، تفتیش کے نقائص، گواہوں کا عدم تحفظ اور بااثر افراد کے احتساب کے بارے میں شکوک عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس کا حل صرف سخت سزاں کے مطالبے میں نہیں، بلکہ یقینی منصفانہ اور شفاف احتساب میں ہے۔اسلام آباد اور ملتان کے ان واقعات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائے اور ان کے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں ۔ اگر جرم کے خاتمے کا طریقہ بدلا ہے تو ملزمان کے ساتھ عوام کو بھی بتایا جائے۔اگر ایسا نہیں ہے تو ملزمان کے فرار ہونے اور پولیس کی تحویل میں اموات کے معاملات میں ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔ جہاں غفلت، اختیارات کے ناجائز استعمال یا جرم کے شواہد ملیں، وہاں قانون کے مطابق کارروائی ہو۔ تفتیش اور استغاثہ کو مضبوط بنایا جائے ۔جس معاشرے میں ملزم کی گرفتاری تو خبر بن جائے مگر اس کے خلاف مقدمے کا قانونی انجام غیر یقینی رہے، وہاں عوام کے ذہنوں میں سوالات جنم لیتے ہیں۔ ان سوالات کا جواب محض سرکاری بیان نہیں، بلکہ شفاف تحقیقات، جوابدہی اور قانون کی حکمرانی ہے۔ورنہ جیسے ملزمان کو مارا جارہا ہے۔ ان حالات میں میرے آپ سمیت ممبران اسمبلی سینیٹر وزرا، ججز بھی مارے جایا کریں گے۔لہٰذا ایسا ہو جانے پر خوش نہ ہوں اسے ایسا کرنے سے روکیں۔ حکومت عدالتی نطام کو بہتر کرے۔ عدالتوں ججز کی تعداد میں فوری اضافہ کرے۔ کسی ائی ایم ایف سے مدد کی ضرورت نہیں اسکے لیے ہائی کورٹ، سپر یم کورٹ کے ججز کی تنخواہیں اور اداروں کے چیئرمین کی تنخواہ کو کم کر کے 22 گریڈ کے افسران کی تنخواہیں کے مساوی دیں ۔ ججز کی پانچ سال کے بعد پنشنیں مراحات دینا بند کریں۔ اسی رقم سے نئی عدالتوں ججز کی تعداد میں اضافہ کریں۔کرپشن کو لگام دیں تانکہ ہر مقدمہ کا فیصلہ تین ماہ میں ہو سکے اس کیلئے خواہ عدالتوں کی ڈبل شفٹ ہی کیوں نہ کرنی پڑے کریں۔یاد رہے اس نطام کو ٹھیک کرنے کو کوئی فرشتے نہیں آئیں گے اسے ہم سب نے جس طرح ملکر خراب کیا، بگاڑا ہے آ اب مل کر اس کو ٹھیک کریں اور اسے سنواریں بھی۔ جوڈیشری میں کرپشن، ڈن پر کیسوں کا کرنا، عدالتی فاہلوں کا گم ہو جانا اور ملزمان کو سزا سے پہلے جان سے ماردینا یہ لمحہ فکریہ ہے۔ آنکھیں بند نہ کریں اس کی بہتری کیلیے کچھ کریں۔ ورنہ یہ نظام سب کو بہا کر لے جائیگا۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *