پاکستان میں جس رفتار سے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اسی رفتار سے مہنگائی کے طوفان میں بھی شدت آ رہی ہے۔ خطرہ ہے کہ کہیں اس طوفان کی زد میں آ کر حکومت نہ گر جائے کیونکہ ماضی میں مہنگائی کے طوفانوں سے حکومتوں کو گرتا دیکھ چکے ہیں۔مہنگائی کے طوفان کو لیوی کے خاتمے سے ہی روکنا ممکن ہے ۔ پٹرول کی لیوی سے ہی حکومت چل رہی ہے اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی دوسرا ریونیو حاصل کرنے کا راستہ نہیں ہے ۔فیکٹریاں کارخانوں اور ایکسپورٹ پر توجہ نہیں دی۔ بس پٹرول کی لیوی پہ ہی زور رہے ۔پٹرول کی لیوی کو اگر ختم نہیں کر سکتے ہو تو اسے ادھا تو کر دیں تاکہ مہنگائی رک جائے۔رکشہ،چنچی موٹر سائیکلوں کو ریلف دینے سے مہنگائی کا طوفان نہیں روکا جا سکتا۔ یاد رہے پٹرول کی قیمت میں اضافہ صرف گاڑی کے پٹرول ٹینک تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات سبزی، دال، آٹا، گوشت، دودھ، بجلی ٹرانسپورٹ اور تقریبا ہر ضروریاتِ زندگی تک پہنچتے ہیں۔اس وقت پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، مہنگائی کے طوفان میں بھی اتنی ہی تیزی آ رہی ہے حکومت پٹرول پر ٹیکس و لیوی وصول کر رہی ہے۔ کیا دوسرے ممالک میں بھی پٹرول کی قیمتوں میں اسی طریقے سے مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے؟ پاکستان چونکہ اپنی ضرورت کا ایک بڑا حصہ درآمدی پٹرولیم سے پورا کر رہا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کا براہِ راست اثر ہماری معیشت پر پڑتا ہے۔حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطی کی کشیدہ صورتِ حال نے عالمی تیل کی منڈی کو دوبارہ ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور اہم ترسیلی راستوں میں رکاوٹوں نے پٹرول کی عالمی سپلائی میں مشکلات پیدا کر دی ہیں۔یہ صورتِ حال پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنیوالے ملک کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ جس طرح مشکل حالات سے نکلنے کیلئے غریب گھر کے زیورات برتن تک فروخت کر دیتا ہے یہاں بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔کیا ہمارے حکمران حکومت بچانے کیلئے اپنے اثاثوں کو بیچ کرمہنگائی کے طوفان کو روکیں گے۔ایسا کرنا ملک کی ضرورت بھی ہے اور ان میں انکی اپنی بھلائی بھی اسی میں ہے۔ کیا رکشہ موٹر سائیکل سواروں کو فائدہ دینے سے مہنگائی رک جائے گی۔ کیا سفید پوش مڈل کلاس کے افراد اس مہنگائی کے طوفان کا مقابلہ کر پائیں گے۔ پاکستان میں پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ تبدیلی کا طریقہ اپنا رکھا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی منڈی میں اتار چڑھا نسبتا جلد پاکستانی صارف تک پہنچ سکے۔پٹرول کی قیمت صرف خام تیل کی قیمت نہیں عام آدمی اکثر سمجھتا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہوگیا تو پاکستان میں پٹرول بھی اسی تناسب سے سستا ہو گا۔ایسا نہیں ہے۔ پاکستان میں پٹرول کی حتمی قیمت میں خام تیل یا درآمدی مصنوعات کی قیمت کے علاوہ حکومتی ٹیکس لیوی اور دیگر جنات شامل ہوتے ہیں۔چنانچہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کم ہونے کے باوجود پاکستانی صارف کو اسی تناسب سے ریلیف نہیں ملتا۔ حکومت کیلئے پٹرول آمدنی کا واحد ذریعہ ہے ۔ پاکستان میں پٹرول صرف عوام کی ضرورت نہیں بلکہ حکومت کیلئے ایک اہم ریونیو سروس بھی ہے۔ جبکہ کہ دوسرے ممالک میں ایسا نہیں ہے جب حکومت پٹرول پر بھاری لیوی اور ٹیکس وصول کرتی ہے تو عالمی قیمت کم ہونے کے باوجود عوام کو مکمل فائدہ منتقل نہیں ہوتا۔ سوال یہ نہیں کہ حکومت کو ٹیکس نہیں لینا چاہیے۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک چیز پر اتنا زیادہ بوجھ ڈالنا مناسب ہے جو پوری معیشت کی نقل و حرکت سے براہِ راست جڑی ہوئی ہو ۔پٹرول مہنگا ہوگا تو ٹرانسپورٹ مہنگی ہوگی، ٹرانسپورٹ مہنگی ہوگی تو اشیائے خورونوش مہنگی ہوں گی اور یوں حکومت ایک طرف مہنگائی کم کرنے کی کوشش کرے گی اور دوسری طرف پٹرول کے ذریعے مہنگائی میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ یہ معاشی تضاد ختم ہونا چاہیے ۔ پٹرول پر لیوی لینا بند کرنا ہوگا تاکہ مہنگائی کا طوفان روکا جا سکے۔موجودہ عالمی حالات کو دیکھتے ہوئے مزید اضافے کا خطرہ ہے ۔ پٹرول کے سستا ہونے کا تعلق جنگ، عالمی سپلائی ، سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی پیداوار، ارمز جیسیاہم راستوں اور عالمی طلب سے ہے لیکن ایک معاشی اصول واضح ہے کہ اگر عالمی خام تیل کی قیمت مسلسل کئی ہفتوں تک کم ہوتی ہے، روپیہ مستحکم رہتا ہے اور درآمدی لاگت کم ہوتی ہے تو پاکستان میں پھر پٹرول کی قیمت میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔عوام کو صرف قیمت نہیں، شفافیت بھی چاہیے۔میری نظر میں پاکستان میں پٹرولیم قیمتوں کا سب سے بڑا مسئلہ صرف قیمت کا بلند ہونا ہی نہیں بلکہ قیمت کے پورے نظام کی شفافیت بھی ہے۔اس لئے حکومت کو عوام کے غصے کو کم کرنے کیلیے روزانہ کی بنیاد پر عوام کے سامنے یہ واضح کرنا ہوگا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی اوسط قیمت اج کیا رہی؟ پاکستان نے پٹرول اج کس قیمت پر درآمد کیا ؟ ڈالر کا اوسط ایکسچینج ریٹ کیا تھا؟ ریفائنری اور درآمدی اخراجات کتنے تھے؟ حکومت نے ٹیکس اور لیوی کتنی وصول کی؟ عالمی قیمت کم ہونے کا فائدہ صارف کو کتنا منتقل کیا ؟ اگر یہ تمام اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھے گیتو پٹرول کی قیمت پر ہونے والی سیاسی بحث بھی زیادہ سنجیدہ کی جا سکتی ہیحکومت کو اس کیلئے ایک مستقل پالیسی بنانی چاہیے۔ پاکستان ہر روز اب عالمی تیل کی قیمت کے جھٹکے کا شکار ہے۔ کبھی پٹرول کی عالمی قیمت بڑھتی ہے تو مہنگائی کا بم غریب پرگرتا ہے لیکن جب کبھی قیمت کم ہوتی ہے تو عوام کو ریلیف کیلئے انتظار کرنا پڑتا ہے لہذا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت شفاف نظام متعارف کرانے ۔ جب عالمی قیمت بہت کم ہو تو اسی رقم سے عوام کو ریلیف فوری دیا جائیاس طرح ہر عالمی بحران کا بوجھ براہِ راست غریب اور متوسط طبقے پر نہ پڑے ۔اصل مسئلہ صرف پٹرول کی قیمت نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان اپنی توانائی ضروریات کیلئے بیرونی دنیا پر انحصار کم کرے۔پاکستان میں مقامی تیل و گیس کی تلاش، شمسی توانائی، ہوا سے بجلی، بجلی سے چلنے والی ٹرانسپورٹ، ریل کا نظام بہتر کریں۔ پٹرول کو ہی ریوینیو کا زریعئے نہ بنائے۔اس کے متبادل حل نکالے۔حکومت کو عالمی منڈی کے اتار چڑھا کو عوام سے چھپانے کے بجائے مکمل شفافیت کے ساتھ قیمتوں کا حساب عوام کے سامنے روز کا روز پیش کرے۔ پٹرول کی قیمت صرف ایک لیٹر پٹرول کی قیمت نہیں ہے دراصل پاکستان کے عام آدمی کے چولہے، کاروبار، سفر اور روزمرہ زندگی کی قیمت ہے ۔ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عالمی بحران کا پورا بوجھ عوام پر نہ ڈالے۔ پبلک ٹرانسپورٹ سروس عوام کو دیں ۔ سرکاری دفاتر، اسپتال عدالتوں میں جانے آنے کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ چلائی جائے۔ اسلام آباد کا ڈی چوک جو جناح ایونیو کو شاہراہ دستور سے ملاتا ہے وہاں لوہے کے گیڈ پر تالے لگا رکھے ہیں۔ اب تو دھرنے کی وجہ بتا کر مزید راستے کنٹینر لگا کر بند ہیں۔ جس کی وجہ سے سرکاری دفاتر سپریم کورٹ،ہائی کورٹ، شریعت کورٹ جانیوالوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔لمبا چکر لگانے سے پٹرول زیادہ خرچ ہوتا ہے اگر یہ ڈی چوک، ناررا چوک،وکلا ہوسٹل کے راستے کھول دئے جائیں تو وقت اور پٹرول کی بچت ممکن ہے۔ سی ڈی اے نے سڑکوں پر ٹرن بنا رکھیی ہیں انہیں فوری کھولا جائے۔ جیسے سپریم کورٹ گیٹ کے سامنے والا ٹرن بند کر رکھا ہے جس سے ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ جانے آنے کیلئے لمبا چکر لگتا ہے پٹرول جلتا ہے دل جلتا ہے لہٰذا مشکلات سے عوام کو فوری نجات دلائی جائے ۔ لیوی اور کنٹینروں کے بغیر حکومت کو چلایا جائے۔ ورنہ گھر جایا جائے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں