نوجوانوں کے روزگار کا مسئلہ صرف معاشی نہیں یہ ملک کے مستقبل، سماجی استحکام اور ریاست پر عوام کے اعتماد کا نام ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ریاست اپنے سب سے بڑے انسانی اثاثے کو بوجھ بننے سے پہلے موقع میں کیسے تبدیل کرتی ہے۔ لاکھوں نوجوان ہر سال تعلیم مکمل کرکے روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں، مگر ان کے سامنے اکثر ڈگری اور ملازمت کے درمیان ایسی خلیج کھڑی ہوتی ہے جسے نہ نصاب پاٹ پاتا ہے، نہ تربیتی ادارے اور نہ ہی سرکاری روزگار اسکیمیں۔ اس پس منظر میں نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی ایک اہم قدم ہے، جس میں پہلی مرتبہ نوجوان کو تعلیم سے ہنر، ہنر سے روزگار اور روزگار سے معاشی خودمختاری تک مسلسل راستہ دینے کی بات کی گئی ہے۔پالیسی اس اعتبار سے قابلِ توجہ ہے کہ حکومت نے نوجوانوں کے روزگار کو صرف چند تربیتی کورسز یا قرض اسکیموں تک محدود رکھنے کے بجائے ایک وسیع قومی فریم ورک میں رکھنے کی کوشش کی ہے۔ پالیسی کا مقصد وفاقی و صوبائی اداروں، نجی شعبے، تعلیمی اداروں اور دیگر شراکت داروں کے درمیان رابطہ پیدا کرنا ہے۔ اس مقصد کیلئے قومی رابطہ کمیٹی کا تصور بھی سامنے آیا ہے۔پالیسی میں 2030 تک خواتین کی لیبر فورس میں شرکت کی شرح کم از کم 35 فیصد تک بڑھانے، تعلیم، روزگار یا تربیت سے باہر نوجوانوں کی تعداد نصف کرنے اور نئے رجسٹرڈ کاروباری اداروں میں سالانہ 10 فیصد اضافہ لانے کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ زراعت و غذائی پیداوار، ای کامرس، صحت، ہاسنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، مینوفیکچرنگ و مکینیکل انجینئرنگ، معدنیات، بیرونِ ملک روزگار اور سیاحت کو ترجیحی شعبوں میں شامل کیا گیا ہے۔موجودہ حالات میں صرف ملازمتیں پیدا کرنے کی نہیں، قابلِ روزگار نوجوان تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ایسے میں وہ تربیت جس کا صنعت، مقامی کاروبار یا عالمی منڈی سے براہِ راست تعلق نہ ہو، نوجوان کو ہنرمند نہیں، صرف سند یافتہ بنا سکتی ہے۔پاکستان میں تربیت، تعلیم اور روزگار کے نظام ایک دوسرے سے پوری طرح جڑے ہوئے نہیں۔ ایک ادارہ کورس مکمل کراتا ہے، دوسرا سرٹیفکیٹ دیتا ہے، تیسرا قرض کی پیشکش کرتا ہے، مگر نوجوان کے لیے یہ سب اقدامات اکثر ایک مربوط کیریئر پاتھ وے نہیں بن پاتے۔ قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب یہ بکھرے ہوئے نظام ایک ہی سمت میں چلیں۔یوتھ پالیسی کی کامیابی میں صنعت اور جامعات کا کردار فیصلہ کن ہے۔ نصاب بنانے والے ماہرین کو دیکھنا ہوگا کہ اگلے پانچ برس میں صنعت کو کن مہارتوں کی ضرورت ہوگی۔ چیمبرز آف کامرس، صنعتی انجمنیں، ٹیکنالوجی کمپنیاں، برآمد کنندگان اور چھوٹے و درمیانے کاروبار پالیسی کے محض مشاورتی فریق نہیں ہونے چاہئیں ۔ حکومت کی جانب سے نوجوانوں کیلئے تعلیم، ہنر اور کاروبار کے مواقع بڑھانے، اسکل ایمبیسیڈر پروگرام اور نیشنل پاور سیکٹر انوویشن پروگرام جیسے اقدامات کا اعلان اسی بڑے تصور کا حصہ ہے۔ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور عالمی منڈی کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کیلئے چین کے ساتھ تعلیمی و تربیتی تعاون بھی اہم ہے۔ مگر یہاں بھی اصول وہی ہونا چاہیے: سہولت وسیلہ ہے، منزل نہیں۔ لیپ ٹاپ، کروم بکس، تربیتی وظائف یا بیرونِ ملک دورے اس وقت معاشی اثاثہ بنتے ہیں جب ان کے بعد نوجوان کے پاس ایسی مہارت اور رسائی ہو جو اسے مستقل آمدن تک پہنچا سکے۔خواتین کی لیبر فورس میں 35 فیصد شرکت کا ہدف اس پالیسی کا شاید سب سے اہم مگر مشکل ترین حصہ ہے۔ محفوظ اور باعزت کام کی جگہ، قابلِ اعتماد سفری سہولت، بچوں کی نگہداشت، لچک دار اوقاتِ کار، گھر سے کام کے مواقع، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک رسائی اور کاروباری سرمائے کی دستیابی کے بغیر خواتین کی معاشی شرکت میں پائیدار اضافہ مشکل ہوگا۔ حکومت نے نوجوان خواتین کیلئے کاروباری اور معاشی مواقع بڑھانے کی سمت میں اقدامات کا اعلان کیا ہے؛ اب ضرورت یہ ہے کہ ان اقدامات کو ناپنے کیلئے صرف استفادہ کنندگان کی تعداد کو نہیں، ان کی آمدن اور کاروبار کے تسلسل کو بھی پیمانہ بنایا جائے ۔ بیرونِ ملک روزگار بھی پالیسی کا اہم ستون ہے ۔ حکومت نے تقریبا 18 لاکھ نوجوانوں کو عالمی لیبر مارکیٹ سے جوڑنے، ضلع کی سطح پر ایمپلائمنٹ ایکسچینجز قائم کرنے، آن لائن اور گھر کی دہلیز تک روزگار کی خدمات پہنچانے اور زبان و پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے کا ہدف پیش کیا ہے۔یہ موثر حکمتِ عملی بن سکتی ہے، بشرطیکہ بیرونِ ملک افرادی قوت بھیجنے کو تعداد کا کھیل نہ بنایا جائے۔ نوجوان کو مطلوبہ ملک کی زبان، پیشے کے معیار، قانونی حقوق، معاہدے کی شرائط، اجرت اور تحفظ کے بارے میں مکمل تیاری کے ساتھ بھیجنا ہوگا۔ ہنرمند افرادی قوت کی برآمد صرف زرمبادلہ نہیں لاتی، یہ پاکستان کی عالمی ساکھ بھی بناتی ہے۔روزگار پالیسی کی اصل طاقت اس کے خوبصورت اہداف میں نہیں، اس کے بجٹ، ادارہ جاتی صلاحیت، ڈیٹا اور احتساب کے نظام میں ہوتی ہے۔نوجوانوں کو اس وقت، مارکیٹ میں قابلِ قدر ہنر اور کاروبار کیلئے قابلِ اعتماد ماحول چاہیے؛ بیرونِ ملک ملازمت کا وعدہ نہیں، محفوظ، قانونی اور باعزت روزگار چاہیے۔ نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی اس منزل کی طرف اہم خاکہ ضرور فراہم کرتی ہے، مگر خاکے سے راستہ اور راستے سے منزل تک پہنچنے کیلئے سیاسی عزم، مالی وسائل، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور مسلسل احتساب لازم ہیں۔2027 کو واقعی ہنر کا سال بنانا ہے تو اس کا پیمانہ تربیتی نشستوں کی تعداد نہیں، نوجوانوں کی آمدن میں اضافہ ہونا چاہیے۔ جس دن ایک نوجوان یہ کہہ سکے کہ ریاست نے اسے ہنر کو روزگار میں بدلنے کا راستہ بھی دیا ہے، اسی دن یہ پالیسی کاغذ سے نکل کر قومی زندگی کا حصہ بنے گی۔ نوجوانوں کو مستقبل کی امید کہنے کا وقت گزر چکا؛ اب اسے موجودہ معیشت کی طاقت بنانے کا وقت ہے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں