بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 20.7°C
Thursday, 17 September 2026 | پاکستان: 6 ر بیع الثانی 1448

نیا زاویہ ۔۔۔!

Thursday, 17 September, 2026

ویانا سے گراز کا فاصلہ 185 کلومیٹر ہے۔ آسٹریا کا یہ خوبصورت شہر اپنی تاریخ، تہذیب، فن تعمیر اور دریائے مور کے دلکش کناروں کی وجہ سے یورپ کے نمایاں شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ گراز کی فضا میں ایک عجیب سا سکون ہے۔قدیم عمارتیں اور شہر کے مختلف حصوں سے نظر آنے والے دلکش مناظر انسان کو ماضی اور حال کے درمیان کھڑا کر دیتے ہیں۔ ہم ایک این جی او کی دعوت پر گراز آسٹریا گئے تھے۔ گراز میں ایک ایسی شخصیت سے ملاقات ہوئی جس نے زندگی، دولت، انسانیت اور محبت کے بارے میں سوچنے کا ایک نیا زاویہ عطا کیا۔ہاوپٹ پلاٹز کے قریب واقع داس وائٹزر ہوٹل میں اس شخص سے ملاقات ہوئی۔ ہوٹل کی جگہ ایسی تھی جہاں سے شہر کے قدیم اور تاریخی علاقے کا خوبصورت منظر نظر آتا تھا۔ دریائے مور کے مغربی کنارے پر واقع یہ علاقہ اپنی دلکشی اور تاریخی اہمیت کے باعث گراز آنے والوں کیلئے خصوصی کشش رکھتا ہے۔ہم کافی سے لطف اندوز ہورہے تھے اور ہمارے سامنے نشت پر براجمان شخص بزنس ٹور پر آسٹریا آیا تھا۔ اس کا تعلق ایک نہایت رئیس اور بااثر گھرانے سے تھا۔ اس نے بتایا کہ اس نے آنکھ کھولی تو دولت، جائیداد، کاروبار اور اثر و رسوخ اس کے اردگرد موجود تھا۔ اس کے خاندان میں دولت صرف ضرورت پوری کرنے کا ذریعہ نہیں تھی بلکہ زندگی کا سب سے بڑا مقصد بن چکی تھی۔ زیادہ سے زیادہ کمانا، زیادہ سے زیادہ جائیدادیں بنانا اور دوسروں سے آگے نکل جانا ان کے خاندان کی زندگی کا بنیادی اصول تھا۔ وہ بچپن سے یہ دیکھتا آیا تھا کہ کامیاب انسان وہی سمجھا جاتا ہے جس کے پاس سب سے زیادہ دولت ہو، سب سے بڑا کاروبار ہو اور جس کے سامنے دوسرے لوگ کمزور دکھائی دیں۔ہم پر دولت کمانے اور جائیدادیں بنانے کا جنون سوار تھا۔ ہم دولت کیلئے جائز اور ناجائز کے فرق کو بھی اپنی ضرورت کے مطابق دیکھتے تھے۔ ہمارا مقصد صرف زیادہ سے زیادہ منافع کمانا تھا۔ انسان ہمارے لیے انسان نہیں بلکہ کاروبار کا ایک حصہ تھا۔ اس کی مجبوری ہمارے لیے موقع تھی اور اس کی ضرورت ہمارے لیے کاروبار بڑھانے کا ذریعہ تھی۔ ہم ایک چیز ایک ڈالر میں خریدتے اور اسے دس ہزار یا بیس ہزار ڈالر میں فروخت کر دیتے تھے۔ ہم انسانوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے رہے۔ ہماری نگاہ میں یہ سب کاروبار تھا اور کاروبار میں صرف منافع دیکھا جاتا تھا۔ ہمیں اس بات کی پروا نہیں تھی کہ ہماری ایک پالیسی سے کتنے خاندان متاثر ہوں گے، ہماری ایک قیمت سے کتنے لوگ محروم رہ جائیں گے اور ہمارے ایک فیصلے سے کتنے بچوں کی ضروریات پوری نہیں ہو سکیں گی۔ ہم اپنے مفادات کیلئے لوگوں کو بھوکا رکھتے تھے۔ ہم نے اپنی دولت بڑھانے کیلئے ایسے راستے اختیار کیے جن سے دوسروں کی زندگی مشکل ہوتی رہی۔ ہم نے اپنے کاروبار اور اپنی کمائی کے لیے دوسروں کا لہو تک چوسا اور پھر اسے اپنی ذہانت، کاروباری صلاحیت اور کامیابی کا نام دیا۔ اس نے بتایا کہ میں افریقہ کے مختلف علاقوں میں گیا۔ میں نے وہاں سونا اور قیمتی معدنیات کے ذخائر دیکھے۔ افریقہ میں ایسی دولت موجود ہے کہ جس کی مثال دنیا کے بہت سے حصوں میں نہیں ملتی مگر اسی دولت سے مالا مال زمین پر رہنے والے بیشمار انسان غربت، محرومی، بھوک اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا شکار تھے۔ یہ منظر میرے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔ میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا جن کے پاس زندگی کی بنیادی ضروریات بھی پوری کرنے کے وسائل نہیں تھے۔میں نے ایسے خاندان دیکھے جن کیلئے ایک وقت کا کھانا بھی ایک بڑی نعمت تھا۔ ایسے علاقے دیکھے جہاں قدرت کی دولت زمین سے نکلتی تھی مگر اس دولت کے حقیقی مالک سمجھے جانے والے لوگ غربت کی زندگی گزار رہے تھے۔ وہاں کے بااثر طبقوں اور مفادات کے نظام نے بہت سے لوگوں کو ان کے حق سے محروم رکھا ہوا تھا۔اس نے کہا کہ افریقہ میں دوسروں کو دیکھ رہا تھا مگر حقیقت میں اپنے اندر جھانک رہا تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ میں بھی اسی نظام کا حصہ ہوں جس میں طاقت ور اپنے مفادات کے لیے کمزوروں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ میں نے سوچا کہ میں نے کتنی مرتبہ کسی کی ضرورت کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنایا اور کتنی بار کسی کی مجبوری کو کاروباری موقع سمجھا۔ میں نے منافع کے لیے انسانیت کو نظر انداز کیا اور میں نے اپنے فائدے کو دوسروں کے نقصان پر ترجیح دی۔افریقہ سے واپسی پر بہت اداس تھا اور مجھے اپنے محل نما گھر، اپنی جائیدادیں اور اپنی دولت پہلے کی طرح خوبصورت نہیں لگ رہی تھی۔ مجھے ایسا محسوس ہونے لگا جیسے میری زندگی میں بہت کچھ ہونے کے باوجود میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ مجھے احساس ہوا جیسے میں زندگی بھر انسانوں کو نوچتا رہا ہوں۔ میں اپنے آپ کو دولت مند سمجھتا تھا مگر میرے اندر ایک گہری غربت تھی۔ میرے پاس جائیدادیں تھیں مگر دل کا سکون نہیں تھا۔ مجھے غرور تھا اور اپنی دولت پر گھمنڈ تھا۔ میں یہ سمجھتا تھا کہ میں دوسروں سے زیادہ جانتا اور سمجھتا ہوں ۔اس نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی پر غور کیا تو مجھے محسوس ہوا کہ میں نے دولت ، جائیداد، کاروبار اور منافع سے محبت کی لیکن انسان سے محبت کرنا نہیں سیکھا۔یہ احساس اس کی زندگی کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ ایک دن میں نے اپنے آپ سے کہا کہ تو گدھ ہے، جو اپنے ذاتی مفادات اور نفسانی خواہشات کے لیے انسانوں کو نوچ رہا ہے اور مختلف ہتھکنڈوں سے انہیں اذیت میں مبتلا کر رہا ہے۔ کیا تو انسان کہلانے کا مستحق ہے؟ میرے ضمیر نے مجھ پر ملامت کی تو میں نے اپنی ساری جائیداد کا 70 فیصد حصہ غریبوں میں تقسیم کر دیا۔ یہ بھی میں نے کوئی کمال نہیں کیا کیونکہ جنہیں کاروبار اور دوسرے طریقوں سے لوٹا تھا، ان کو تو مال واپس نہ کر سکا۔وہ کہنے لگا کہ جب میں نے اپنی دولت بانٹنا شروع کی تو میں ایک عجیب کیفیت سے دو چار ہوا۔ جس سکون کی تلاش میں میں نے پوری زندگی دولت جمع کی، وہ مجھے دولت جمع کرنے سے نہیں ملا۔ وہ چین مجھے اس وقت ملا جب میں نے اپنی دولت سے کسی دوسرے انسان کی زندگی آسان بنانے کی کوشش کی۔اس نے کہا کہ پہلے میں دولت سے محبت کرتا تھا مگر اب میں انسان سے پیار کرتا ہوں۔ پہلے میں اپنی خواہشات پوری کرنے کے لیے دوسروں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتا تھا، اب میں کوشش کرتا ہوں کہ میری خواہشات کسی دوسرے انسان کی تکلیف کا سبب نہ بنیں۔ وہ کہنے لگا کہ میں نے اپنی زندگی میں یہ سمجھ لیا ہے کہ انسان سے محبت ہی سب سے بڑی دولت ہے۔ انسان کے پاس دنیا کی ہر چیز ہو لیکن اگر اس کے دل میں دوسرے انسان کے لیے محبت نہیں تو وہ اندر سے غریب ہے۔اس نے کہا کہ آج دنیا میں انسانوں کے درمیان فاصلے بڑھانے میں معاشی، سیاسی اور مذہبی پنڈت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے معاشی مفادات کیلئے ، کچھ اپنے سیاسی مفادات کیلئے اور کچھ اپنے مذہبی اثر و رسوخ کے لیے انسانوں کو تقسیم کررہے ہیں۔اس نے معاشی، سیاسی اور مذہبی پنڈتوں سے استدعا کی کہ خدارا انسانوں کے درمیان فاصلے پیدا نہ کریں۔ نفرت کی دیواریں کھڑی نہ کریں۔ انسانوں کے درمیان موجود خلیج کو کم کرنے کی کوشش کریں اور انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لائیں۔ وہ کہنے لگا کہ میں نے بہت دیر سے یہ بات سیکھی ہے لیکن اب میں جانتا ہوں کہ انسان پہلے ہے اور باقی سب چیزیں بعد میں ہیں۔ اگر انسان محفوظ نہیں، خوش نہیں اور باعزت زندگی نہیں گزار رہا تو ہماری ترقی، ہماری دولت اور ہمارے بڑے بڑے دعوے ادھورے ہیں۔ہماری زندگی کا ہر دن ایک موقع ہے کہ ہم کسی کے لیے آسانی پیدا کریں۔ ہمیں شاید معلوم بھی نہ ہو کہ ہمارا ایک اچھا رویہ کسی انسان کے لیے کتنا اہم ہو سکتا ہے۔دنیا میں بہت سے اختلافات موجود ہیں اور شاید ہمیشہ رہیں گے۔ انسانوں کی زبانیں ، رنگ ، مذاہب، ثقافتیں اور سیاسی نظریات مختلف ہیں۔ہم ایک دوسرے سے مختلف ہو کر بھی ایک دوسرے کا احترام کر سکتے ہیں۔ ہم مختلف مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھتے ہوئے بھی انسانیت کے مشترکہ رشتے کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ پھر اس نے کافی کا آخری گھونٹ لیا اور جانے کی اجازت مانگی۔ ہمارا دل چاہتا تھا کہ وہ چند لمحے اور ہمارے ساتھ بیٹھے مگر اسے اسی دن واپس اپنے ملک جانا تھا۔ ہم نے ایک ایسا شخص کو رخصت کیا جو دوسروں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتا رہا،اب دوسروں کی مجبوریوں کو کم کرنے میں اپنی خوشی تلاش کرنے لگا۔ایک ایسا شخص جو انسانوں کو کاروبار کا ذریعہ سمجھتا تھا،اب انسانیت کو زندگی کا مقصد سمجھنے لگا۔ ہم بھی ہوٹل سے باہر آ گئے اور دریائے مور کے کنارے ٹہلنے لگے۔ پانی اپنی رفتار سے بہہ رہا تھا۔گراز کا تاریخی شہر اپنی خوبصورتی میں خاموش کھڑا تھا۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *