کراچی میں واقع پاکستان اسٹیل ملز کبھی قومی صنعتی ترقی اور خود انحصاری کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ 1970 کی دہائی میں سوویت یونین کے تکنیکی تعاون سے قائم ہونے والی یہ عظیم صنعتی تنصیب پاکستان کی درآمدی فولاد پر انحصار کم کرنے اور بڑے پیمانے پر صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے لیے بنائی گئی تھی۔ اپنے عروج کے دور میں یہ ادارہ سالانہ لاکھوں ٹن فولاد تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا اور ہزاروں افراد کو براہِ راست اور بالواسطہ روزگار فراہم کرکے قومی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ یہ ادارہ سنگین انتظامی، مالی اور ساختی مسائل کا شکار ہوتا چلا گیا۔ 2015-16 کے دوران بڑھتے ہوئے قرضوں، یوٹیلیٹی بلوں کی عدم ادائیگی اور آپریشنل کمزوریوں کے باعث اس کی پیداوار بتدریج بند ہونا شروع ہوگئی۔ بعد ازاں مل مکمل طور پر غیر فعال ہوگئی اور اس کے بلاسٹ فرنسز، رولنگ ملز اور دیگر بنیادی پیداواری یونٹس بند پڑے ہیں۔ اگرچہ پیداوار رک چکی ہے، لیکن مالی ذمہ داریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔پاکستان اسٹیل ملز کے مالی نقصانات برسوں کے دوران تشویشناک حد تک پہنچ چکے ہیں۔ ابتدا میں یہ خسارے دسیوں ارب روپے تک محدود تھے، لیکن وقت کے ساتھ ان میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق مجموعی خسارہ 200 ارب روپے سے تجاوز کرگیا اور بعد ازاں مسلسل بڑھتا رہا۔ آج اس کے مجموعی واجبات کا تخمینہ 400 سے 500 ارب روپے یا اس سے بھی زیادہ لگایا جاتا ہے، جس میں قرضوں، پنشن اور دیگر مالی ذمہ داریوں کو شامل کیا جاتا ہے۔ پیداوار بند ہونے کے باوجود ادارہ مسلسل غیر آپریشنل اخراجات پیدا کر رہا ہے، یعنی ایسے اخراجات جن کے مقابلے میں کوئی آمدنی موجود نہیں۔اس مالی بوجھ کا ایک اہم حصہ تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگیوں پر مشتمل ہے۔ مل کی بندش کے بعد بھی حکومت ملازمین، ریٹائرڈ کارکنوں اور انتظامی عملے کے اخراجات برداشت کرتی رہی ہے۔ مختلف ادوار میں صرف تنخواہوں کی مد میں ہر ماہ کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے رہے۔ اس کے علاوہ پنشن کی ذمہ داریاں ہر سال بڑھتی جا رہی ہیں، جس کے باعث پاکستان اسٹیل ملز وفاقی بجٹ پر ایک مستقل بوجھ بن چکی ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں مزید تشویش کا باعث ہے جب ملکی مالی وسائل پہلے ہی مختلف شعبوں کی ضروریات پوری کرنے میں دبا کا شکار ہیں۔اس بحران کا انسانی پہلو بھی نہایت اہم ہے۔ ہزاروں موجودہ اور سابق ملازمین اپنی گزر بسر کیلئے پاکستان اسٹیل ملز سے وابستہ ہیں۔ پنشن، گریجویٹی اور دیگر ریٹائرمنٹ فوائد کی ادائیگی میں تاخیر نے متعدد خاندانوں کو مالی مشکلات سے دوچار کیا ہے ۔ لہٰذا کسی بھی اصلاحی یا بحالی منصوبے میں معاشی تقاضوں کے ساتھ ساتھ متاثرہ کارکنوں کے سماجی تحفظ کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔پاکستان اسٹیل ملز کا زوال اچانک نہیں ہوا بلکہ یہ کئی باہم جڑے عوامل کا نتیجہ تھا۔ سیاسی مداخلت، تقرریوں میں میرٹ کی عدم پاسداری اور فیصلہ سازی میں غیر پیشہ ورانہ رویوں نے ادارے کی انتظامی صلاحیت کو کمزور کیا۔ ضرورت سے زیادہ افرادی قوت نے آپریشنل اخراجات میں غیر معمولی اضافہ کیا، جبکہ فرسودہ مشینری اور جدید ٹیکنالوجی سے محرومی نے اسے عالمی فولادی صنعت کے مقابلے میں غیر مسابقتی بنا دیا۔ مالی بدانتظامی اور بڑھتے ہوئے قرضوں نے حالات کو مزید خراب کیا اور بالآخر ادارہ مکمل بندش کا شکار ہوگیا۔اسٹیل ملز کی بندش کے ملکی معیشت پر بھی دور رس اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ پاکستان کو اپنی فولادی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر زیادہ انحصار کرنا پڑ رہا ہے، جس سے ہر سال قیمتی زرمبادلہ بیرونِ ملک منتقل ہوتا ہے اور تجارتی خسارے میں اضافہ ہوتا ہے۔ مزید برآں، اتنے بڑے صنعتی ادارے کی بندش نے روزگار کے مواقع محدود کیے اور تعمیرات، انجینئرنگ اور بنیادی ڈھانچے سے وابستہ صنعتوں سمیت پورے صنعتی نظام کو متاثر کیا۔آج پاکستان اسٹیل ملز کو اکثر ایک سفید ہاتھی قرار دیا جاتا ہے، یعنی ایسا ادارہ جو قومی وسائل تو بڑی مقدار میں استعمال کرتا ہے لیکن اس کے بدلے میں کوئی نمایاں پیداوار یا معاشی فائدہ فراہم نہیں کرتا۔ ہر سال اربوں روپے اس کی مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے خرچ کیے جاتے ہیں، حالانکہ یہ ادارہ نہ پیداوار میں حصہ ڈال رہا ہے اور نہ ہی برآمدات میں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ادارہ پاکستان کی معاشی پالیسی اور سرکاری اداروں کی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم موضوعِ بحث بن چکا ہے۔اس کے باوجود ماہرین کی ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ مناسب اصلاحات اور مثر انتظام کے ذریعے پاکستان اسٹیل ملز اب بھی اسٹریٹجک اہمیت کی حامل ہوسکتی ہے۔ اس کی بحالی کے لیے مختلف تجاویز سامنے آچکی ہیں۔ ایک تجویز مکمل نجکاری کی ہے، جس کے تحت کسی بین الاقوامی اور تجربہ کار فولاد ساز کمپنی کو ادارہ چلانے کی ذمہ داری دی جائے۔ دوسری تجویز پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کی ہے، جس میں اثاثوں کی ملکیت حکومت کے پاس رہے جبکہ انتظام اور آپریشن پیشہ ورانہ بنیادوں پر نجی شعبے کے حوالے کیے جائیں۔ تیسری تجویز یہ ہے کہ ادارے کے بعض حصوں کی تنظیمِ نو یا جزوی تصفیہ کرکے اس کی زمین کو صنعتی یا ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز میں تبدیل کیا جائے اور واجبات کو مرحلہ وار ادا کیا جائے۔ تاہم کسی بھی مثر بحالی منصوبے کے لیے گہرے ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ان اصلاحات میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ، افرادی قوت کی تنظیمِ نو، پنشن کی ذمہ داریوں کا شفاف حل اور پلانٹ کا جامع تکنیکی آڈٹ شامل ہونا چاہیے۔ ان بنیادی اقدامات کے بغیر محض مالی سرمایہ کاری پائیدار نتائج پیدا نہیں کرسکے گی۔پاکستان اسٹیل ملز اس حقیقت کی ایک نمایاں مثال ہے کہ کس طرح قومی اہمیت کا حامل ایک ادارہ کمزور طرزِ حکمرانی، ناقص انتظام اور اصلاحات کے فقدان کے باعث قومی خزانے پر ایک طویل المدتی مالی بوجھ بن سکتا ہے۔ اب اس کا مستقبل پالیسی سازوں کے بروقت اور جرات مندانہ فیصلوں سے وابستہ ہے۔ چاہے اس کی بحالی کی جائے یا تنظیمِ نو، بنیادی مقصد قومی خزانے پر بوجھ کم کرنا اور دستیاب اثاثوں کو پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے موثر انداز میں استعمال کرنا چاہیے۔




تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں