5 جولائی 1977کا فوجی انقلاب پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سب سے فیصلہ کن واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ اسی روز جنرل محمد ضیا الحق نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا، آئین معطل اور مارشل لا نافذ کیا اور ملک کی سیاسی، سماجی اور نظریاتی سمت کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا۔ آئینی، جمہوری اور ریاستی ارتقا کے تناظر میں دیکھا جائے تو 5 جولائی پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا موڑ ہے جسکے اثرات نصف صدی گزرنے کے باوجود آج بھی قومی زندگی پر نمایاں ہیں۔اسی لیے پاکستان کی تاریخ کو دو ادوار میں تقسیم کر کے سمجھنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے: ضیا سے قبل کا دور اور ضیا کے بعد کا دور۔ضیا سے قبل کا دور 5 جولائی 1977 سے پہلے کے برسوں پر مشتمل ہے۔ بلاشبہ اس دور میں بھی پاکستان سیاسی کشمکش، آئینی بحرانوں، انتظامی کمزوریوں اور سیاسی اختلافات سے دوچار تھا، لیکن اسکے باوجود ریاست ایک جمہوری اور آئینی ڈھانچے کے اندر آگے بڑھ رہی تھی۔ 1973 کا آئین، جو تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاقِ رائے سے منظور ہوا، پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک عظیم سنگِ میل تھا۔ اس آئین نے پارلیمانی جمہوریت، بنیادی انسانی حقوق، صوبائی خودمختاری، عدلیہ کی آزادی اور ریاستی اداروں پر سول بالادستی کی ضمانت فراہم کی۔ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے پاکستان کو ایک جدید، خودمختار اور خود انحصار ریاست بنانے کی کوشش کی۔ بھٹو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھ کر قومی سلامتی کے حوالے سے دور اندیش قیادت کا مظاہرہ کیا۔ خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی پاکستان نے آزاد اور خودمختار موقف اختیار کیا۔ بھٹو نے مسلم دنیا کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا، 1974 میں لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کی اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کی، جبکہ سرد جنگ کے ماحول میں پاکستان کے قومی مفادات کو مقدم رکھا۔سماجی اور ثقافتی لحاظ سے بھی 1977 سے پہلے کا پاکستان نسبتاً زیادہ روادار، متنوع اور ترقی پسند معاشرہ تھا۔ضیا کے بعد کا دور 5 جولائی 1977 کو مارشل لا کے نفاذ سے شروع ہوا۔ جنرل ضیا الحق نے اقتدار پر قبضے کے بعد جلد انتخابات کرانے کا وعدہ کیا، مگر یہ وعدہ مستقل حکمرانی میں تبدیل ہو گیا۔سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پر پابندیاں لگائی گئیں، آئینی حکومت کی جگہ فوجی اقتدار نے لے لی۔ یوں پاکستان میں جمہوری ادارے کمزور ہوتے گئے جبکہ غیر منتخب قوتوں کا کردار مضبوط ہوتا چلا گیا۔ضیا الحق کے دور کا سب سے نمایاں پہلو اسلامائزیشن کی پالیسی تھی۔ قوانین، نصابِ تعلیم اور ریاستی اداروں کو مذہب کی ایک مخصوص تعبیر کے مطابق تشکیل دینے کی کوشش کی گئی۔ اس پالیسی کے حامی اسے اسلامی شناخت کے استحکام کی کوشش قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کے نزدیک اس عمل نے مذہب کو ریاستی سیاست کا حصہ بنا دیا، فکری آزادی کو محدود کیا اور فرقہ وارانہ تقسیم کو فروغ دیا۔ نتیجتاً مذہبی انتہا پسندی، عدم برداشت اور فرقہ واریت پاکستانی معاشرے کی نمایاں خصوصیات بنتی چلی گئیں۔مارشل لا کے دوران جمہوری عمل کو شدید نقصان پہنچا۔ سیاسی جماعتیں، جو پارلیمانی نظام کی بنیاد ہوتی ہیں، کمزور کر دی گئیں۔ غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے نظریاتی سیاست کی جگہ شخصی اور برادری پر مبنی سیاست کو فروغ ملا۔ اس عمل نے معاشرے کو سیاسی طور پر غیر فعال بنایا اور جمہوری ثقافت کو نقصان پہنچایا۔ بہت سے ماہرین کے نزدیک آج بھی پاکستان کی جمہوریت انہی ادارہ جاتی کمزوریوں کے اثرات سے نبرد آزما ہے۔اسی دور میں خواتین کے حقوق اور شہری آزادیوں کو بھی محدود کیا گیا۔ اسلامائزیشن کے نام پر بعض قوانین متعارف کرائے گئے جن پر صنفی مساوات اور انصاف کے حوالے سے شدید تنقید ہوئی۔ خواتین کی تنظیموں، وکلا، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے ان قوانین کے خلاف بھرپور جدوجہد کی۔ 1979 میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بھی بنیادی تبدیلی آئی۔ ضیا الحق نے پاکستان کو امریکہ کا قریبی اتحادی بنا کر افغان جنگ میں فرنٹ لائن ریاست کا کردار ادا کیا۔ اس پالیسی کے نتیجے میں پاکستان کو مالی اور عسکری امداد تو حاصل ہوئی، مگر اسکے معاشرتی اثرات انتہائی گہرے ثابت ہوئے۔افغان جنگ کے باعث لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان آئے، جدید اسلحے کی بھرمار ہوئی، منشیات کی اسمگلنگ میں اضافہ ہوا اور معاشرے میں کلاشنکوف کلچر نے جنم لیا۔ اسی ماحول میں مذہبی عسکریت پسندی نے فروغ پایا، جو بعد ازاں پاکستان کے اندر دہشت گردی اور انتہا پسندی کی صورت اختیار کر گئی۔ ان تمام تبدیلیوں نے پاکستان کے سماجی ڈھانچے کو بھی متاثر کیا۔ قومی یکجہتی کو مضبوط کرنے والی قوتوں کے مقابلے میں تفرقہ پیدا کرنیوالے رجحانات کو تقویت ملی۔شدید جبر کے باوجود جمہوریت کی جدوجہد ختم نہ ہوئی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد جمہوریت کی بحالی کی سب سے مضبوط علامت بن کر ابھریں۔ قید، جلاوطنی اور سیاسی دبا کے باوجود انہوں نے آمریت کے خلاف قومی اور بین الاقوامی سطح پرجدوجہد جاری رکھی۔ جنرل ضیا الحق نے غیر جماعتی پارلیمانی نظام متعارف کرانے کی کوشش کی، لیکن یہ تجربہ عوامی قبولیت حاصل نہ کر سکا کیونکہ حقیقی جمہوری سیاست کیلئے سیاسی جماعتوں کا فعال کردار ناگزیر ہوتا ہے۔1988 میں جنرل ضیا الحق کی فضائی حادثے میں جاں بحق ہونے کے بعد پاکستان میں دوبارہ جمہوری عمل بحال ہوا اور بے نظیر بھٹو وزیراعظم منتخب ہوئیں۔ تاہم ضیا دور کی فکری، سیاسی اور ادارہ جاتی میراث اتنی گہری ہو چکی تھی کہ بعد کی جمہوری حکومتیں بھی اس کے اثرات سے مکمل طور پر نجات حاصل نہ کر سکیں۔یہ کہنا تاریخی اعتبار سے درست نہیں ہوگا کہ پاکستان کے تمام موجودہ مسائل صرف جنرل ضیا الحق یا 5 جولائی 1977 کے نتائج ہیں۔ ہر قوم کی تاریخ مختلف داخلی اور خارجی عوامل سے تشکیل پاتی ہے۔ تاہم اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ 5 جولائی کا فوجی انقلاب پاکستان کے آئینی، سیاسی، سماجی اور نظریاتی ارتقا کا رخ بدلنے والا واقعہ ثابت ہوا۔ آج پاکستان کو درپیش جمہوری عدم استحکام، مذہبی انتہا پسندی، فرقہ واریت، ادارہ جاتی عدم توازن اور آئینی کمزوریوں کو سمجھنے کے لیے اس دور کا تنقیدی جائزہ ناگزیر ہے۔5 جولائی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سیاسی بحرانوں کا حل آئین، جمہوری عمل، پارلیمنٹ اور عوامی مینڈیٹ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔پاکستان کا روشن مستقبل مضبوط جمہوری اداروں، آئین کی بالادستی، بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ، خواتین کی مساوی شرکت، مذہبی رواداری، سیاسی تکثیریت اور قانون کی حکمرانی سے وابستہ ہے۔ 1973 کے آئین میں جس جمہوری پاکستان کا تصور پیش کیا گیا تھا، وہ آج بھی قومی نجات کا بہترین راستہ ہے۔




تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں