بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 16.4°C
Thursday, 15 October 2026 | پاکستان: 5 جمادی الاول 1448

پاکستان کا روشن مستقبل، اندھیروں میں امید کی کرن

Thursday, 15 October, 2026

دنیا غیر معمولی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔ معاشی غیر یقینی، عالمی تنازعات، توانائی کا بحران، سیاسی کشیدگی اور تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی نے ہر ملک کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک بھی اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں، جبکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے مشکلات مزید گہری ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کا مسائل سے دوچار ہونا غیر متوقع نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان مشکلات کو کمزوری بنا کر مایوسی کا شکار ہوں گے یا انہیں اصلاح اور ترقی کا زینہ بنائیں گے؟ تاریخ بتاتی ہے کہ آزمائش ہر قوم پر آتی ہے، مگر سرخرو وہی ہوتی ہے جو ہتھیار ڈالنے کے بجائے نئے عزم سے تعمیرِ مستقبل میں جت جائے ۔ پاکستان میں عام آدمی کی زندگی آسان نہیں۔ مہنگائی نے گھریلو بجٹ بگاڑ دیا ہے، بجلی اور ضروری اخراجات نے متوسط طبقے پر بوجھ بڑھا دیا ہے، جبکہ نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار قومی ضرورت بن چکا ہے۔ تنخواہ دار طبقہ مہینے کے آغاز پر ہی آمدن اور اخراجات کے توازن میں الجھ جاتا ہے، اور چھوٹا تاجر بڑھتے اخراجات سے دبا ہوا ہے۔ ان حقائق کو نظرانداز کر کے ترقی کی بات کرنا خود فریبی ہے، تاہم ان کا ذکر مایوسی کے لیے نہیں بلکہ قابلِ عمل حل تلاش کرنے کے لیے ضروری ہے۔مایوسی کے برعکس معاشی اشاریے امید دلا رہے ہیں۔ حالیہ جائزوں اور سرکاری تخمینوں کے مطابق رواں مالی سال میں چار فیصد سے زائد شرحِ نمو متوقع ہے۔ یہ حتمی کامیابی نہیں، مگر اس بات کی علامت ہے کہ معیشت میں حرکت پیدا ہو رہی ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ اس نمو کے ثمرات عام شہری تک کیسے پہنچیں اور قوتِ خرید کیسے بحال ہو۔ اگر اعداد بہتر ہوں لیکن عام خاندان کی زندگی میں آسانی نہ آئے تو ترقی ادھوری رہے گی۔ ہر معاشی پالیسی کی کامیابی کا معیار عوام کو ملنے والا ریلیف ہونا چاہیے۔پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے عوام ہیں۔ کسان، مزدور، استاد، ڈاکٹر، انجینئر، ہنر مند، ملازم، تاجر، صحافی اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی سب اپنی جگہ ملک کی بنیاد مضبوط کر رہے ہیں۔ کسان مشکلات کے باوجود فصل اگاتا ہے، مزدور خاندان کی کفالت کے لیے مشقت کرتا ہے، استاد نئی نسل کو علم دیتا ہے اور تاجر روزگار پیدا کرتا ہے۔ ترقی کا مفہوم صرف بلند عمارتوں اور شاہراہوں سے نہیں، بلکہ عام شہری کو بہتر تعلیم، معیاری علاج، باعزت روزگار، صاف پانی اور محفوظ زندگی کی فراہمی سے جڑا ہے۔ زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ ہمارے پاس زرخیز زمین، محنتی کسان اور متنوع موسمی خطے موجود ہیں، مگر جدید ٹیکنالوجی، پانی کے موثر استعمال، معیاری بیج، زرعی تحقیق اور بہتر مارکیٹنگ میں مزید کام درکار ہے۔ کسان کو مناسب قیمت، بروقت رہنمائی اور جدید سہولتیں ملیں تو پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ پانی کے ضیاع کو روکنا، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنا اور آبپاشی کے نظام کو جدید بنانا ناگزیر ہے۔ زراعت کو روایتی سرگرمی کے بجائے جدید کاروبار بنانا ہوگا، جس سے خوراک کی ضروریات بھی پوری ہوں گی اور دیہی خوشحالی بھی آئے گی۔ ہمارا دوسرا بڑا سرمایہ نوجوان ہیں۔ آج کا نوجوان زیادہ باخبر، ٹیکنالوجی سے آشنا اور عالمی مواقع تک رسائی رکھنے والا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم کو صرف ڈگری تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عملی مہارت، فنی تربیت اور ڈیجیٹل صلاحیتوں پر توجہ دی جائے۔ مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سائبر سکیورٹی اور آن لائن خدمات جیسے شعبے نوجوانوں کو عالمی منڈی سے جوڑ سکتے ہیں۔ بہتر انٹرنیٹ، میرٹ پر مبنی مواقع اور آسان کاروباری قرضے ملنے سے نوجوان نہ صرف اپنا روزگار پیدا کر سکتے ہیں بلکہ قیمتی زرمبادلہ بھی کما سکتے ہیں۔معیشت صرف حکومتی فیصلوں سے نہیں بدلتی۔ حکومت پالیسی دیتی ہے، ادارے نظام فراہم کرتے ہیں اور نجی شعبہ سرمایہ کاری کرتا ہے، مگر ترقی کے لیے ہر فرد کو کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ منصفانہ ٹیکس نظام، سرکاری اخراجات میں احتیاط، بدعنوانی کے خلاف موثر کارروائی اور شفافیت بنیادی تقاضے ہیں۔ ٹیکس دہندہ کو یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ اس کی رقم تعلیم، صحت اور عوامی سہولتوں پر خرچ ہو رہی ہے، اور صاحبِ استطاعت افراد کو بھی قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے واجب الادا ٹیکس ادا کرنا چاہیے۔ جب ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد مضبوط ہوگا تو قومی وسائل میں اضافہ ہوگا۔ سرکاری اداروں کی اصلاح بھی ضروری ہے۔ مسلسل خسارے میں چلنے والے اور عوام کو معیاری خدمات نہ دینے والے اداروں کا شفاف جائزہ لینا چاہیے۔ اصلاحات کا مقصد صرف اخراجات کم کرنا نہیں بلکہ خدمات کا معیار بہتر بنانا اور وسائل کا درست استعمال یقینی بنانا ہونا چاہیے۔ نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے ساتھ عوامی مفاد اور ملازمین کے حقوق کا تحفظ بھی لازم ہے۔توانائی کے شعبے میں دور رس حکمت عملی درکار ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا اتار چڑھا براہ راست ہماری پیداواری لاگت پر اثر ڈالتا ہے۔ اس دبا سے نکلنے کے لیے شمسی توانائی، ونڈ پاور، توانائی کی بچت اور مقامی وسائل کے موثر استعمال پر توجہ دینا ہوگی۔ گھروں، صنعتوں اور سرکاری عمارتوں میں بچت کو فروغ دینے سے قومی سطح پر نمایاں فرق پڑ سکتا ہے اور توانائی میں تنوع سے عالمی بحرانوں کے اثرات کم ہوں گے۔معاشی ترقی کے لیے سیاسی استحکام اور قومی ہم آہنگی بنیادی شرط ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر اسے دشمنی میں بدلنا کسی کے مفاد میں نہیں۔ سیاسی جماعتیں تنقید بھی کریں اور اپنی کارکردگی کا دفاع بھی، مگر قومی معاملات میں مکالمہ، برداشت اور آئینی اصولوں کی پاسداری ناگزیر ہے۔ سرمایہ کار ایسے ماحول کو ترجیح دیتا ہے جہاں قوانین واضح ہوں اور پالیسیوں میں تسلسل ہو۔ امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ پاکستان نے امن کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ موثر قانون نافذ کرنا، سرحدی انتظام بہتر بنانا اور روزگار کے مواقع دینا ضروری ہے۔ قومی اتفاقِ رائے اور قانون کی بالادستی سے ہی اسکول، بازار اور صنعتیں اپنی پوری صلاحیت سے کام کر سکتے ہیں۔ہمیں اپنی سماجی ذمہ داریوں پر بھی غور کرنا ہوگا۔ ہم اکثر تمام ذمہ داری حکومت پر ڈال دیتے ہیں مگر اپنی چھوٹی ذمہ داریوں سے غفلت برتتے ہیں۔ سڑک پر کچرا پھینکنا، ٹریفک قوانین توڑنا اور سفارش سے ناجائز فائدہ لینا بھی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ بہتر پاکستان صرف بڑے منصوبوں سے نہیں بلکہ بہتر شہری رویوں، قانون کے احترام اور دیانت داری سے بنتا ہے۔میڈیا کا کردار بھی فیصلہ کن ہے۔ تنقید اصلاح کا راستہ کھولتی ہے، لیکن غیر مصدقہ خبروں اور مایوسی پھیلانے والے دعوں سے بے یقینی بڑھتی ہے۔ صحافت کو عوامی مسائل اجاگر کرنے، جواب طلبی اور اچھے اقدامات کی حوصلہ افزائی تینوں ذمہ داریاں نبھانی چاہئیں۔ مثبت صحافت کا مطلب مسائل چھپانا نہیں بلکہ درست نشاندہی کے ساتھ قابلِ عمل حل تجویز کرنا ہے۔ہمیں اپنی صلاحیتوں پر اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ دنیا میں ایسی کئی مثالیں ہیں جہاں قوموں نے محدود وسائل کے باوجود تعلیم اور موثر حکمرانی سے ترقی کی۔ ہمارے نوجوانوں میں صلاحیت، تاجروں میں جذبہ اور محنت کشوں میں ہمت کی کمی نہیں۔ ضرورت ایسے نظام کی ہے جو میرٹ کو فروغ دے اور قانون کی یکساں عملداری یقینی بنائے۔آج ہمیں حقیقت پسندی کے ساتھ امید، تنقید کے ساتھ اصلاح اور اختلاف کے ساتھ مکالمے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا مستقبل بہتر ہو سکتا ہے بشرطیکہ ہم وقتی نعروں کے بجائے مستقل اصلاحات، ذاتی مفادات کے بجائے قومی مفادات اور الزام تراشی کے بجائے عملی اقدامات کو ترجیح دیں۔ یہی راستہ مشکلات کے اندھیروں میں امید کی کرن کو روشن رکھ سکتا ہے، کیونکہ پاکستان کا روشن مستقبل ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *