اسلام آباد کی ہونہار طالبہ لائبہ اعجاز کی موت کا نہیں، بلکہ ہمارے تعلیمی نظام، معاشرتی رویوں، حکومتی ذمہ داریوں اور اس نظامِ انصاف پر بھی انگلیاں اٹھتی ہیں کہ عام شہری کو یہ نظام بچا نہیں سکتا۔یہ بچی لائبہ اعجاز ایک عام طالبہ نہیں تھیں۔وہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں فزکس کی گولڈ میڈلسٹ تھیں اور امریکہ کی معروف ہارورڈ یونیورسٹی میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کا خواب دیکھ رہی تھیں کاش یہ زندہ رہ کر ان ظالموں کے خلاف جنگ کرتی تو بہتر ہوتا۔ کہا جاتا ہے کہ اطلاعات کے مطابق، ان کے والد نے رقم کا انتظام کرنے کے لیے اپنا پلاٹ زیورات تک فروخت کر دئے۔ جب مبینہ فراڈ کا انکشاف ہوا تو انہیں نہ صرف مالی نقصان کا سامنا تھا بلکہ ایک نوجوان طالبہ کے خواب، اعتماد اور مستقبل کو بھی شدید دھچکا لگا۔کاش خود کو نہ مارتی انہیں عبرت کا نشان بناتی تو بہتر ہوتا۔رپورٹس کے مطابق، لائبہ 9 اکتوبر 2026 کو درخت سے لٹک کر انتقال کر گئیں۔ شائد اس نے یہ راستہ اس لئے چنا کہ نظام چلانے والے نطام بدل سکیں۔اس کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے ایکشن لیا۔ اس کے بعد گرفتاریوں اور تفتیش کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ اسکا رزلٹ بھی سامنا آنا ضروری ہے۔ ہمارے معاشرے میں دو نمبر لوگ چھائے ہوئے ہیں یہ ہر جگہ موجود ہیں ۔یہاں ایک اچھی ڈگری، بیرونِ ملک تعلیم، بڑی ملازمت اور مالی خوش حالی کو زندگی کی کامیابی کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ ایسا نہیں ہے۔پاکستان کے ٹرکوں کے پیچھے لکھا ہوتا ہے عقل نہیں تو موجا ہی موجا عقل ہے تو سوچاں ہی سوچا۔ اس سے یا تو بالکل موجی ہو جاتے ہیں یا مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بچپن ہی سے بچوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ انہیں کامیاب ہونا ہے، والدین کا نام روشن کرنا ہے اور خاندان کی توقعات پر پورا اترنا ہے۔ لیکن انہیں یہ سکھانے پر کم توجہ دی جاتی ہے کہ ناکامی نقصان دھوکے اور مایوسی کا سامنا کیسے کرنا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو بلند پرواز کے خواب تو دکھاتے ہیں، مگر انہیں یہ یقین دلانا بھول جاتے ہیں کہ اگر کبھی ناکامی ہوجائیں تو زندگی ختم نہیں ہوجاتی۔ لائبہ کے واقعے میں ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مالی نقصان اور دھوکے کا شکار ہونے والا شخص پہلے ہی ایک مشکل صورتِ حال سے گزر رہا ہوتا ہے۔ اگر اسے اپنے خاندان کی قربانیوں کا احساس بھی ستانے لگے تو اس کی ذہنی پریشانی مزید بڑھ جاتی ہے۔ ایسے وقت میں اسے ملامت نہیں، ہمدردی۔ تنہائی نہیں، رفاقت اور مایوسی نہیں، امید درکار ہوتی ہے۔ کسی نوجوان کی ذہنی کیفیت کو صرف باہر سے دیکھ کر نہیں سمجھا جاسکتا۔ بظاہر ہنستا مسکراتا اور کامیاب دکھائی دینے والا انسان بھی اندر سے شدید اضطراب میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ والدین، اساتذہ اور دوست دوسروں کی بات سنیں، ان کی پریشانی کو معمولی نہ سمجھیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں پیشہ ورانہ مدد فراہم کریں ایک قانون کے طالب علم کی حیثیت سے میرے نزدیک اس واقعے کا ایک اہم پہلو ریاست اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔اگر کسی شخص نے بیرونِ ملک داخلے یا اسکالرشپ کے نام پر جعلی دستاویزات استعمال کرکے کسی سے رقم حاصل کی ہے تو یہ محض اخلاقی بددیانتی نہیں، بلکہ شواہد اور متعلقہ قانون کے مطابق قابلِ تعزیر جرم بھی ہے۔ ایسے معاملات میں پولیس وفاقی تحقیقاتی ادارے اور دیگر متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ مالی لین دین دستاویزات رابطوں ممکنہ دوسرے متاثرین کی مکمل دیانت داری سے تحقیقات کیا کریںلیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہمارے ہاں نوجوانوں کو بیرونِ ملک داخلوں کے نام پر ہونے والے فراڈ سے بچانے کیلئے کوئی ایسا مثر نظام حکومت نے قائم کر رکھا ہے جس سے وہ کسی ایجنٹ کنسلٹنٹ کو رقم دینے سے پہلے اس کی ساکھ کی تصدیق کرا سکیں؟ کیا طلبہ اور والدین کے لیے ایک ایسا مستند شکایتی نظام موجود ہے جہاں ان کی شکایت پرفوری کارروائی ہو سکتی ہو؟ کیا تعلیمی سرگرمیوں کی مناسب نگرانی کی جاتی ہے۔ کیا متاثرہ خاندانوں کو قانونی رہنمائی بروقت ملتی ہے؟ ہو سکتا ہے اس بچی نے بھی اداروں سے رابطہ کیا ہو مایوس ہوئی ہو۔ یہ سوالات کسی ایک ادارے پر الزام لگانے کے لیے نہیں، بلکہ نظام کی خامیوں کی نشاندہی اور اصلاح کیلئے اٹھائے ہیں۔ریاست کی ذمہ داری صرف جرم ہوجانے کے بعد مقدمہ درج کرنا یا ملزم گرفتار کرنا نہیں۔ اس کی ذمہ داری ایسے حفاظتی انتظامات قائم کرنا بھی ہے جن سے شہریوں کو جرم کا نشانہ بننے سے بچایا جاسکے۔ اگر کسی نظام کی کمزوری سے لوگ بار بار متاثر ہو رہے ہوں تو اس نظام کو بہتر بنانا بھی حکومتی ذمہ داری ہے۔خودکشی کا واقع ایک فرد کا نہیں ہوتا، پورے معاشرے کیلئے لمحہ فکریہ بن جاتا ہے۔ خودکشی ک رجحان کو کسی ایک وجہ سے منسوب کرنا درست نہیں۔ ذہنی صحت کے مسائل، معاشی دبا، خاندانی توقعات، سماجی تنہائی، دھوکا اور مستقبل کے بارے میں شدید مایوسی جیسے عوامل مختلف افراد پر مختلف انداز میں اثر انداز ہوتے ہیں۔اس لیے لائبہ کی موت کو صرف ایک مبینہ فراڈ کا نتیجہ قرار دے کر تمام سوالات ختم نہیں کیے جاسکتے۔ ہمیں اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا انتظار کرنا چاہیے لیکن اس دوران نوجوانوں کی ذہنی صحت کے مسئلے کو نظرانداز بھی نہیں کرنا چاہیے۔ہمارے تعلیمی اداروں میں تربیت یافتہ نفسیاتی مشیروں کی دستیابی، نوجوانوں کے لیے رازداری کے ساتھ مشاورت، والدین کی رہنمائی اور بحران کے وقت فوری مدد کے انتظامات ناگزیر ہیں۔اس کے ساتھ ہمیں اپنے گھروں اور تعلیمی اداروں میں ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں نوجوان اپنی ناکامی یا پریشانی بیان کرتے ہوئیخوف محسوس نہ کریں۔ انہیں یہ اعتماد ملنا چاہیے کہ امتحان میں ناکامی، ملازمت نہ ملنے، بیرونِ ملک داخلہ نہ ہونے یا مالی نقصان اٹھانے سے ان کی عزت اور زندگی کی قدر کم نہیں ہوجاتی یعنی انسان کی زندگی کسی ڈگری اسکالرشپ ملازمت یا مالی کامیابی سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ دھوکے کا شکار ہونا کسی انسان کی کمزوری یا جرم نہیں۔ جرم اس شخص کا ہے جس کی بددیانتی شواہد سے ثابت ہو اور اگر کوئی نوجوان ذہنی بحران میں مبتلا ہو تو اسے تنہا چھوڑ دینا اس کی مشکلات میں اضافہ کرسکتا ہے۔ ایسے حالات میں خاندان دوستوں اور اداروں کو ایسے شخص کی بروقت مدد فراہم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔لائبہ اعجاز کا سانحہ محض تعزیتی بیانات اور چند روزہ بحث تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ بیرونِ ملک تعلیم کے نام پر فراڈ کے خلاف مثر نگرانی کا نظام بنائے، متاثرہ طلبہ کیلئے فوری قانونی مدد فراہم کرے، اور تعلیمی اداروں میں ذہنی صحت کی سہولتوں کو بہتر بنائے۔ تحقیقاتی اداروں کو اس معاملے کے تمام پہلوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرنی چاہیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں، ذمہ داروں کا تعین ہو اور قانون کے مطابق انصاف فراہم کیا جاسکے۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ اس سانحے کو سنسنی خیزی کے بجائے ذمہ داری، احتیاط اور انسانی ہمدردی کے ساتھ پیش کرے۔والدین کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کامیابی کے خواب دکھانے کے ساتھ یہ یقین دلائیں کہ زندگی میں ناکامی یا نقصان کی صورت میں بھی ان کی محبت اور حمایت برقرار رہے گی۔لائبہ کیلئے حقیقی خراجِ عقیدت یہ ہوگا کہ اس کے واقعے کی مکمل تحقیقات ہوں، اگر فراڈ ثابت ہو تو ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا ملے تانکہ کسی دوسرے نوجوان کو دھوکے، مایوسی یا تنہائی کے باعث اپنی زندگی کے بارے میں ایسا انتہائی فیصلہ کرنے کی نوبت نہ آئے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں