کالم

پاک افغان مذاکرات

پاکستان کی بات مانتے ہیں تب کوئی پیش رفت متوقع ہے بات چیت اعلانیہ ہوگی جس میں تحریری ضمانتیں ہوں گی چین کے شہر ارمچی میں مذاکرات صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کا عمل نہیں بلکہ یہ چین افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری سہ فریقی حکمت عملی کا فالو اپ تھے جس میں چین کے اپنے بھی تحفظات ہیں اور پاکستان اپنی اس اصولی پالیسی پر گامزن ہے کہ جب تک افغان سرزمین کا دہشت گردی کے لئے استعمال بند نہیں ہوتا خطہ میں استحکام ممکن نہیں لیکن اس مر حلے میں بنیادی سوال یہی ہے کہ چین میں جاری مذاکراتی عمل کس حد تک بامقصد ہوگا نیز سہ فریقی مذاکراتی عمل کا سلسلہ جاری ہونے کے باوجود افغان سر زمین سے دہشت گردی کا سلسلہ بند کیوں نہیں ہو رہا تو اس کی بڑی وجہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشت گرد عناصر کی سرپرستی ہے افغانستان میں بر سر اقتدار طالبان رجیم کو عالمی قوانین اور ضوابط کا پاس ہے نہ ہی وہ ایک ملک کی حکومت کی طرح عمل کر رہے ہیں ان کا رویہ اول و آخر ایک انتہا پسند گروہ کا ہے پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے جس نے ہمیشہ کوشش کی ہمسایوں سے بہتر تعلقات رکھے افغانستان سے بہت عرصے سے دہشت گردی ایکسپورٹ ہو رہی ہے افغانستان اور اسکی عبوری حکومت اپنا فرض نبھانا نہیں چاہتے دوحہ معاہدے میں افغانستان نے پوری دنیا کو باور کرایا تھا کہ افغان سرزمین کسی کیلئے بھی دہشت گردی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی لیکن افغانستان دہشت گردی روکنے میں ناکام رہا افغان سرزمین سے پاکستان میں جاری دہشت گردی کے مسلسل واقعات اور پاک افغان سرحد پر افغان طالبان رجیم کی بلا اشتعال کارروائیوں کے بعد ریاست پاکستان کے لئے اس کا بھرپور اور موثر جواب دینا ناگزیر ہوچکا تھا آپریشن غضب للحق سے پاکستان کے خلاف سازشوں کا جال بننے والوں کو ایک بار پھر واضح پیغام مل چکا ہے یہ سر زمین کمزور نہیں افغانستان میں بھارتی سر پرستی میں پلنے والے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان رجیم کے خلاف بھرپور اور موثر کارروائی دراصل ان معصوم جانوں کا بدلہ ہے جو دہشت گردی کی آگ میں جھونک دی گئی ہیں یہ صرف ایک آپریشن نہیں بلکہ ہر اس ماں کے آنسوں کا جواب ہے جس نے اپنے بیٹے کو وطن پر قربان کیا یہ ہر اس بچے کے خوابوں کا دفاع ہے جو ایک محفوظ پاکستان چاہتا ہے پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں شدید متاثر ہونے کے باوجود امن مصالحت تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے تمام اقدامات کی حمایت جاری رکھتے ہوئے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑی اس کے باوجود افغان حکومت پر کالعدم ٹی ٹی پی کی سوچ غالب آچکی ہے پاکستان کے حالیہ اقدامات اپنی عوام کو سرحد پار سے آنے والی دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے فطری حقِ دفاع پر مبنی ہیں جو متعدد بار انتباہ کے بعد کئے گئے ہیں جنہیں نظر انداز کیا جاتا رہا آپریشن غضب للحق کے نتیجے میں پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں 65 فیصد کمی ہوئی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جب تک دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں اور ان کی کمین گاہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا داخلی امن کا خواب ادھورا رہے گا ہر باشعور شخص خطے کو امن کا گہوارہ بنانے کا خواہش مند ہے مگر یہ یکطرفہ کوششوں سے ممکن نہیں ہو سکتا جہاں تک پاکستان اور افغانستان کے درمیان مفاہمت اور کشیدگی میں کمی کے لئے چین کی کوششوں کا تعلق ہے تو یہ کوششیں ایک مدت سے جاری ہیں اور سہ ملکی مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری رہا ہے تاہم دہشت گردی کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچنے کے پاکستانی مطالبے کو کابل نہیں درخور اعتنا نہیں سمجھا افغانستان پاکستان کا قریب ترین ہمسایہ ملک ہے کہتے ہیں کہ دوست بدلے جاسکے ہیں مگر ہمسائے نہیں تاہم ہمارے مغربی ہمسائے کا رویہ اور اقدامات کچھ ایسے نوعیت کے ہیں کہ انہیں گوارہ کرنا پاکستان تو کیا دنیا کے لئے کسی بھی ملک کے لئے ممکن نہیں ہوگا افغانستان میں پیدا ہونے والے علاقائی اور عالمی خطرات پاکستان سمیت پورے خطے کے امن کے لئے خطرہ ہیں حالات کا تقاضا ہے کہ علاقائی اور عالمی سطح پر اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے ورنہ افغانستان جس راستے پر ہے بعید نہیں کہ دنیا کو ایک بار پھر اس ملک سے ابھرنے والی دہشت گردی کے مضمرات کو بھگتنا پڑے پائیدار عالمی اور علاقائی امن اسی صورت ممکن ہے جب دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کو عملی جامہ پہنایا جائے اور افغانستان میں موجود خطرات کا بر وقت اور موثر سدباب کیا جائے اگر ایک بار پھر چین اس معاملے میں آیا ہے تو اس کی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ افغان رجیم چین کی تجاویز اور اصلاح کے ساتھ ساتھ پاکستان کے تحفظات کو کتنی اہمیت دیتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے