بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Thursday, 01 October 2026 | پاکستان: 21 ر بیع الثانی 1448

پرتھوی تھیٹرز سے بلوچستان تک۔دہشتگرد نیٹ ورکس

Thursday, 1 October, 2026

یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ 13 اپریل 1947 کو پرتھوی تھیٹرزنے ایک ڈرامہ ‘پٹھان’ پیش کیا۔بظاہر کہانی ایک” پٹھان کردار ” کے گرد گھومتی ہے، جو اپنے مضبوط قبائلی مزاج، وفاداری، غیرت اور انسانی ہمدردی کے باعث کہانی کا مرکزی محور بنتا ہے۔۔یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب برصغیر میں قیامِ پاکستان کی تحریک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔ ایسے وقت میں پیش کیے جانیوالے اس ڈرامے کا بیانیہ الگ مسلم ریاست کے مطالبے کو مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کی ناگزیر ضرورت تسلیم کرنے کے بجائے *متحدہ ہندوستان کے تصور کو آگے بڑھاتا تھا*۔ اس میں یہ تصور نمایاں تھا کہ مسلمان الگ وطن کے بغیر بھی متحدہ ہندوستان کے سیاسی نظام میں اپنا مستقبل تلاش کر سکتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ مؤقف تحریکِ پاکستان کے بنیادی مطالبے سے محض مختلف نہیں تھا بلکہ *اس کے سیاسی مؤقف کے براہِ راست برعکس تھا کیونکہ تحریکِ پاکستان مسلمانوں کیلئے الگ سیاسی وطن کے قیام کو ان کے قومی مستقبل سے جوڑ رہی تھی، جبکہ ‘پٹھان’ کا بیانیہ ایسے متحدہ ہندوستان کو قابلِ قبول حل کے طور پر پیش کرتا تھا جہاں الگ مسلم ریاست کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔**یہی ‘پٹھان’ کے سیاسی بیانیے کا بنیادی نکتہ تھا: ایک طرف مسلمان الگ وطن کیلئے فیصلہ کن جدوجہد کر رہے تھے، دوسری طرف ڈرامے کا تصور اس مطالبے کی ضرورت ہی کو کمزور کرتا دکھائی دیتا تھا ۔یہ ڈرامہ ممبئی میں 600 سے زائد مرتبہ پیش ہوا ۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کیخلاف ہندوتوا کی سوچ یکدم وجود میں نہیں آئی بلکہ یہ سوچی سمجھی طویل سازش ہے جو عرصہ دراز سے جاری ہے اور اس وقت برطانوی حکومت نے اس ڈرامے کے ذریعے مسلمانوں کیلئے الگ وطن کے تصور کو دبانے کی کوشش کی۔ سنجیدہ حلقوں کے مطابق یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان آج جس دہشتگردی کا سامنا کر رہا ہے، اسے محض داخلی بدامنی یا چند الگ تھلگ واقعات کا نام دینا زمینی حقائق کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا ۔پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس، افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان کی موجودگی اور بلوچستان میں ہونیوالی دہشتگرد کارروائیوں کے سرحد پار روابط اب صرف بیانات کا موضوع نہیں رہے بلکہ ان کے بارے میں اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس اور دیگر بین الاقوامی ریکارڈ بھی موجود ہیں ۔ اس ضمن میں پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ اسے درپیش دہشتگردی کا ایک اہم حصہ سرحد پار موجود نیٹ ورکس، تربیتی مراکز، سہولت کاروں اور بیرونی معاونت سے جڑا ہوا ہے۔اس حولے سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے بھارت کی مبینہ معاونت کے معاملے کو صرف سیاسی بیانات تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اس ضمن میں ٹھوس اور نا قابل تردید شواہد عالمی اداروں اور مختلف ممالک کے سامنے رکھے ہیں ۔یاد رہے کہ افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان کی موجودگی اور پاکستان مخالف کارروائیوں کا معاملہ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس میں بھی درج ہے۔علاوہ ازیںبھارت کے حوالے سے پاکستانی وزارت خارجہ نے دسمبر 2025 میں واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی میں بھارتی معاونت سے متعلق دستاویزی شواہد، ویڈیوز، ٹیلی فون کالز اور دیگر معاون مواد بین الاقوامی تنظیموں، اقوام متحدہ کے انسدادِ دہشتگردی اداروں اور مختلف ممالک کو فراہم کیا ہے۔اس سلسلے میں کلبھوشن جادھو، جعفر ایکسپریس حملے اور بلوچستان میں ہونیوالے دیگر واقعات کو اس معاملے سے متعلق پیش کیے جانیوالے شواہد میں شامل کیا گیا۔فروری 2026 میں پاکستان نے جعفر ایکسپریس سمیت بلوچستان کے بعض بڑے دہشتگرد حملوں میں بھارتی مداخلت سے متعلق ٹھوس ثبوت عالمی برادری کے ساتھ شیئر کیے۔ مبصرین کے مطابق یہ معاملہ اقوام متحدہ کی متعلقہ پابندیوں کی کمیٹی اور دوطرفہ شراکت داروں کے ساتھ بھی زیرِ بحث رہا ہے۔ اس طرح پاکستان نے حملے کے حوالے سے افغانستان میں موجود عناصر اور بلوچستان میں بھارتی مبینہ مداخلت، دونوں پہلوؤں کو الگ الگ شواہد کے تناظر میں عالمی سطح پر اٹھایا۔یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی 2024 کی رپورٹ میں ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان کے اندر 800 سے زیادہ حملوں کا انکشاف کیا گیا اور افغانستان میں اس تنظیم کی سرگرمیوں میں اضافے کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ میں طالبان کی رضامندی اور معاونت کیساتھ ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں، تربیتی سرگرمیوں اورٹی ٹی پی، طالبان اور القاعدہ برصغیر کے درمیان روابط سے متعلق معلومات بھی شامل تھیں ۔ فروری 2025 کی اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹ نے اس تصویر کو مزید واضح کیا۔ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی نے متعلقہ مدت میں پاکستان کیخلاف 600 سے زیادہ حملے کیے جبکہ افغانستان میں اس کے تربیتی مراکز اور آپریشنل سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ کنڑ، ننگرہار، خوست اور پکتیکا میں تربیتی مراکز کی موجودگی اور ٹی ٹی پی کو حاصل لاجسٹک و آپریشنل گنجائش سے متعلق معلومات بھی رپورٹ کا حصہ تھیں۔ یوں افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی صرف پاکستانی سیاسی بیان کا موضوع نہیں بلکہ بین الاقوامی مانیٹرنگ ریکارڈ میں بھی موجود ہے۔یہاں اس امر کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی اسکے پاکستان مخالف حملے اور افغان سرزمین پر اس کے تربیتی و آپریشنل ڈھانچے کاحصہ ہے ۔ اسی طر ح بھارت کے معاملے میں پاکستان نے ٹھوس اور واضح معاونت کے نہ صرف ثبوت پیش کیے ہیں بلکہ اس سلسلے میں دستاویزی، ویڈیو اور ٹیلی فونک شواہد عالمی اداروں اور ممالک کے ساتھ شیئر کیے گئے ہیں۔اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کیخلاف دہشتگردی کا مسئلہ صرف سرحد کے اندر ہونیوالے حملوں تک محدود نہیں رہا کیونکہ جب کسی مسلح گروہ کی قیادت، تربیت یا آپریشنل سہولت سرحد پار موجود ہو تودہشتگردی کا مقابلہ بھی محض داخلی کارروائیوں سے مکمل نہیں ہو سکتا ۔ دوسری جانب عالمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دستیاب شواہد اور اپنی مانیٹرنگ رپورٹس کو محض ریکارڈ کا حصہ بنانے کے بجائے دہشتگرد نیٹ ورکس اور انکے سہولت کاروں کیخلاف عملی اقدامات کریں کیونکہ پاکستان کیخلاف دہشت گردی کو محض ”الزامات کی جنگ” کہہ کر نظرانداز کرنااس سنگین مسئلے کو چھوٹا دکھانے کے مترادف ہے۔ اب اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ ان دہشتگرد نیٹ ورکس کیخلاف مؤثر کارروائی کی جائے جو پاکستان کے شہریوں اور ریاستی اداروں کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *