پاکستان میں پٹرولیم ڈویڑن کے نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 400 روپے فی لیٹر سے بڑھ گئی ہے جبکہ پیٹرول کی قیمت میں بھی مسلسل چوتھے روز اضافہ کر دیا گیا ہے۔پٹرول کی قیمت میں بھی مسلسل چوتھے روز اضافہ کر دیا گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بلند رکھی ہیں، جس سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور مہنگائی پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست عام طبقے پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ لوگ موٹر سائیکلوں میں پٹرول ڈالوانے سے پہلے سوچنے لگے ہیں۔ عام آدمی کا نوکری یا دفتر جانا محال ہوتا جارہا ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر اہم ہے کیوں کہ یہ ایندھن مال بردار ٹرکوں، بسوں اور زرعی مشینری میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ زیادہ قیمتوں کا اثر ٹرانسپورٹ، ترسیل اور خوراک کی لاگت پر پڑ سکتا ہے اور اس سے مہنگائی کے وسیع تر دباؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔قیمتوں میں یہ تازہ ترین ردوبدل اس وقت سامنے آیا جب مشرق وسطیٰ میں ترسیل کے تعطل اور آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے راستے جہاز رانی کے حوالے سے مسلسل خدشات کے درمیان جمعہ کو برینٹ خام تیل 105 ڈالر فی بیرل سے زیادہ پر فروخت ہوا۔ محترم لیاقت بلوچ نائب امیر جماعت اسلامی، پاکستان ،نے کہا ہے کہ 20 ستمبر اسلام آباد مارچ ہر صورت ہوگا، جماعتِ اسلامی کا پٹرول لیوی بھتہ کے خلاف ملک گیر احتجاج، سڑکیں بند، دھرنے، جلسے اور اسلام آباد مارچ عوام کو ریلیف دِلانے، تجارت، صنعت، زراعت، گھریلو صنعت اور صارفین پر پیداواری لاگت کے بڑھتے بوجھ کو قابلِ برداشت بنانے کی جدوجہد ہے۔ ہر سیاسی، جمہوری پارٹی کو پْرامن احتجاج کا جمہوری حق ہے، پْرامن احتجاج کو یقینی بنانا سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ حکومت، انتظامیہ غیرآئینی، غیرقانونی ہتھکنڈوں سے اجتناب کرے۔ ملک میں سیاسی بحران، اضطراب اور احتجاج اِس لئے ہیں کہ عملاً ملک اور صوبوں میں حکومتوں کی کوئی رِٹ اور عوامی ساکھ نہیں۔ عوام اپنے مستقبل سے مایوس کئے گئے ہیں، عوام اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں، جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں 25 کروڑ عوام کی ترجمان ہے۔ مذاکراتی کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کے احتجاج کو ملک گیر پذیرائی حاصل ہے، مرد و خواتین، نوجوان، طلبہ و طالبات اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی پٹرول لیوی بھتہ کے خلاف احتجاج بھرپور، پْرجوش شرکت پْرامن سیاسی. جمہوری، آئینی جدوجہد کی نئی تاریخ ہے۔ عوامی احتجاج پر حکومت پٹرول پر عوام کو جو بھی ریلیف دے اْس کا خیرمقدم لیکن کرپٹ نظام، کرپشن کے رسیا افراد اور ادارے حکومت کی ہر سکیم کو کرپشن کا دھندہ بناکر حکومت کو ناکام اور عوام کو ریلیف سے محروم کردیتے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کا اْتار چڑھاؤ سب کو معلوم ہے، لیکن فی لٹر قیمت میں حکومتی لیوی بھتہ نے قیمت کو ناقابلِ برداشت بنادیا ہے۔ اِس لیوی بھتہ کی مد میں حکومت اب تک اپنے مقررہ ھدف 1468 ارب سے بھی 99 ارب روپے زائد یعنی 1567 ارب روپے صرف گزشتہ ایک سال کے دوران وصول کرچکی ہے، جوکہ مسلسل مہنگائی، بے روزگاری کے جھٹکوں سے نڈھال عوام کی جیبوں پر ایک اضافی ڈاکہ ہے۔ اِسی طرح بجلی کی قیمتوں میں نت نئے ٹیکسز اور فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر آئے روز عوام کو لْوٹا جارہا ہے۔ آٹا جیسی بنیادی خوراک کی قیمت آسمان سے باتیں کررہی ہے اور سلنڈر گیس سرکاری نرخ پر پورے ملک میں کہیں بھی دستیاب نہیں لہذا حکومت چکربازیوں سے باز آجائے اور عوام کو حقیقی ریلیف دے، پٹرول پر ریلیف کے لئے رجسٹریشن کے نام پر پہلے بھی عوام سے فراڈ ہوا اور اب بھی عام آدمی کو پیچیدہ ڈیجیٹل بھول بھلیوں سے گزارنے کی بجائے براہِ راست پٹرول، ڈیزل کی قیمت کم کی جائے تاکہ وہ نمائشی اور بیوروکریسی کے گورکھ دھندے کا شکار نہ ہوں اور سکھ کا سانس لے سکیں۔ عوام کو پائیدار اور حقیقی ریلیف دینے کا واحد اقدام حکومت پٹرولیم مصنوعات کی فی لٹر قیمت پر عائد 80 تا 100 روپے ناجائز لیوی اور ٹیکسز کو ختم کرے، معیشت کا پہیہ چلنے دے، قومی معیشت ترقی کرے گی اور حکومتی ریونیو بھی بڑھے گا۔جناب حافظ نعیم الرحمان ،امیر جماعت اسلامی پاکستان نے وزیر اعظم کے پٹرولیم ریلیف پیکیج کو ناکافی قرار دیتے ہوئے لیوی کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کر دیا۔ جماعت اسلامی کا پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج 30ویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔ لاہور، پشاور، کراچی سمیت ملک بھر میں 40 مقامات پر دھرنے جاری ہیں۔حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو مشورہ دیا کہ شرح سود میں 3 فیصد کمی سے قومی خزانے کو تقریباً 1700 ارب روپے کی بچت ہوسکتی ہے، جس سے پٹرولیم لیوی مکمل ختم کی جاسکتی ہے۔ عوام سے پٹرول پر 1560 ارب روپے سے زائد کی لیوی وصول کی جا رہی ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے بعض آئل ریفائنریوں پر درآمدی اور مقامی طور پر تیار کردہ تیل کی قیمتوں میں فرق سے فائدہ اٹھانے کا الزام بھی عائد کیا اور اسے فوری روکنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے ریفائنریوں کی استعداد بڑھانے، سرکاری مراعات میں کمی اور غیر منصفانہ آئی پی پی معاہدے ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔حافظ نعیم الرحمان نے تصدیق کی کہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور 15 ستمبر کو ہو گا۔ جبکہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان اب تک مذاکرات کے دو دور ہوچکے ہیں۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں