کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے تجویز کردہ تین ماہ پچھترارب روپے کے ریلیف پیکیج کی منظوری دی ہے۔اس پیکیج کے تحت گیارہ اعشاریہ ملین مالکان کو فی لٹر سوروپے کی رعایت فراہم کی جائے گی۔زیادہ سے زیادہ ماہانہ ریلیف کا تخمینہ دوہزارروپے لگایا گیا ہے؛دو اور تین پہیہ گاڑیوں کے مالکان ماہانہ بیس لٹر تک جبکہ آٹھ سوسی سی تک کی کاروں کے مالکان ماہانہ تیس لٹر ایندھن پر اس رعایت کے اہل ہونگے ۔ وزیر پیٹرولیم پرویز ملک کے مطابق،یہ تجویز وزیراعظم کی ہدایات پر تیار کی گئی تھی۔یہ پیشرفت جماعتِ اسلامی کی جانب سے گیارہ ستمبر کو وزارتِ منصوبہ بندی،ترقی و خصوصی اقدامات میں جمع کرائی گئی تجاویز کے بعد سامنے آئی۔جماعتِ اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کو پانچ سے دس روپے فی لٹر تک کم کرنے کی تجویز دی تھی اور اس کے متبادل کے طور پر درج ذیل اقدامات تجویز کیے تھے: درآمدی پرتعیش اشیا پر موجودہ ٹیکسوں میں اضافہ،ایک ارب روپے سے زائد آمدنی پر زیادہ انکم ٹیکس،شرح سود میں کمی، ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ،زرعی آمدنی پر ٹیکس، کارپوریشنز اور کاروباروں پر کاربن لیوی میں اضافہ،ویلتھ ٹیکس کا نفاذ،اور ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانا۔حکومت کو اپنے ریلیف پیکیج اور جماعتِ اسلامی کی تجاویز ، دونوں پر عمل درآمد کے حوالے سے بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں جاری اور پھیلتے ہوئے تنازع کے باعث عالمی منڈی میں پیٹرول اور پیٹرولیم مصنوعات کی قلت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔اسی صورتحال نے حکومت کو اس سال 17 جولائی کو یہ اعلان کرنے پر مجبور کیا تھا کہ وہ تیل اور مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کیلئے پندرہ روزہ نظام کے بجائے روزانہ قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار اپنا رہی ہے۔چونکہ مشرقِ وسطیٰ اور روس-یوکرین تنازعات کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے،اس لیے ممکن ہے کہ یہ پیکیج اپنی تین ماہ کی مدت مکمل ہونے سے پہلے ہی ناکافی ثابت ہو جائے۔اگرچہ اس پیکیج کے پیچھے نیک نیتی کارفرما ہے لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اسے محض دکھاوے کے طور پر پیش کیا گیا ہے تاکہ عوام پر پڑنے والے بڑھتے ہوئے بوجھ کے حوالے سے حکومت کی تشویش کا اظہار کیا جا سکے ۔ تاہم اس بات کو نظر انداز کر دیا گیا ہے کہ ملک کے غریب ترین طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بھاری اکثریت موٹر سائیکل کی مالک بھی نہیں ہے۔وہ بڑی حد تک پبلک ٹرانسپورٹ،یعنی ہائی سپیڈ ڈیزل پر چلنے والی بسوں پر انحصار کرتے ہیں اور اس کی قیمت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔یہ اقدام کہیں زیادہ موثر ہوتا اگر پٹرولیم لیوی کی وصولی کا ہدف پچھتر ارب روپے کم کر کے پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل پر لیوی میں نمایاں کمی کر دی جاتی ۔ صارفین تک فوائد منتقل کرنے کی غرض سے مالی گنجائش پیدا کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ حکومت اپنے جاری اخراجات میں کمی کرے۔یہ اخراجات کل بجٹ کا ترانوے فیصد حصہ ہیں اور ان میں مارک اپ کی ادائیگیوں میں کمی،پنشن کے اخراجات کا ایک اعشاریہ سولہ ٹریلین روپے تک پہنچنااور ٹیکس دہندگان کے خرچے پر تنخواہ پانے والوں کی اجرتوں میں اضافہ جیسے امور شامل ہیں۔یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ملک میں ترقی لانے کیلئے موجودہ حکومت کی حکمتِ عملی کا انحصار دوست ممالک کی جانب سے زیادہ براہِ راست سرمایہ کاری پر تھا۔اس تناظر میں یہ نوٹ کرنا اہم ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع نے خلیجی ممالک کے سرپلس کو شدید متاثر کیا ہے: سعودی عرب کو رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں نواعشاریہ ایک ارب ڈالر سے زائد کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا اور وہ ایران کے ساتھ علاقائی تنازعے سے پیدا ہونیوالے مالی دبائو سے نمٹنے کیلئے کم از کم آٹھ ارب ڈالر کا نیا بینک قرض حاصل کرنے کی ابتدائی بات چیت کر رہا ہے جبکہ سعودی آرامکوبھی قرض کے حصول کیلئے الگ سے ابتدائی مرحلے کی بات چیت کر رہی ہے۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات نے تنازع کے باعث تیل کی فروخت میں نمایاں کمی کے بعد امریکہ سے مالی امداد کی درخواست کی۔
مقدس سرخ لکیریں
مشرقِ وسطیٰ ایک انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جہاں ہر گزرتا دن ایک ایسی نئی پیش رفت لاتا ہے جو پہلے سے جاری تباہ کن تنازعے کو مزید وسیع کرنے کا خطرہ پیدا کرتی ہے۔تازہ ترین واقعہ جس میں سعودی فضائی دفاعی نظام نے مکہ کے ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل ہی شہر کے جنوب میں ایک ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا خاص طور پر تشویشناک ہے۔سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون حوثیوں کی جانب سے بھیجا گیا تھا،جبکہ حوثیوں نے مکہ یا کسی بھی اسلامی مقدس مقام کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔حالیہ دنوں میں،حوثی فورسز نے سعودی سرزمین پر میزائل اور ڈرون داغے ہیں،جن میں معاشی بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرنے والے حملے بھی شامل ہیں۔یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے کا وسیع تر تنازعہ پہلے ہی توانائی کی ترسیل اور جہاز رانی کے اہم راستوں کو متاثر کر رہا ہے۔مکہ کی جانب متوجہ کسی بھی خطرے کو محض ایک عام فوجی واقعہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔مکہ اور مدینہ محض جغرافیائی مقامات نہیں ہیں؛یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے گہری مذہبی اہمیت کے حامل ہیں۔لہٰذاان کا تحفظ پوری امتِ مسلمہ کیلئے انتہائی تشویش کا معاملہ ہے۔ان مقدس شہروں کو خطرے میں ڈالنے کی کوئی بھی کوشش خواہ وہ جان بوجھ کر ہو یا غیر ارادی طور پرایسے نتائج کا باعث بن سکتی ہے جو جنگ کے میدان سے کہیں آگے تک پھیل سکتے ہیں۔بار بار یہ انتباہ کیا گیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ اپنے اصل میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہے گی اور دیگر ممالک اور مسلح گروہ بھی اس تنازعے کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔وہ انتباہات اب حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں۔سعودی عرب،یمن،بحیرہ احمر اور خطے کے اہم توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی جانب تنازعے کا پھیلا یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس تیزی سے کوئی تنازعہ متعدد محاذوں پر پھیل سکتا ہے۔اس کا حل انتقامی کارروائیوں کا ایک اور سلسلہ نہیں ہو سکتا۔فوری ضرورت اس بات کی ہے کہ علاقائی طاقتوں اور اہم بین الاقوامی فریقین کو شامل کرتے ہوئے سفارتی کوششوں کو تیز کیا جائے تاکہ تمام محاذوں پر دشمنی کا خاتمہ کیا جا سکے۔دشمنی کے مستقل خاتمے کا اعلان کرنے کی بڑی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔یہ خطہ پہلے ہی بہت زیادہ کشیدگی اور تباہی کا سامنا کر چکا ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ میزائلوں اور ڈرونز کے بجائے سفارت کاری کی آواز بلند ہو۔
غیر جانبدار مقام
پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلوں کے معاملات بھی سیاست کی طرح پیچیدہ ہیں۔کرکٹ کے بعد اب ہاکی کا معاملہ بھی اسی غیر یقینی اور مشکل مرحلے پر پہنچ گیا ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے مطالبہ کیا ہے کہ اگلے ماہ ہونے والی ایشین چیمپئنز ٹرافی کو بھارت سے کسی اور مقام پر منتقل کیا جائے یا پھر پاکستان کے میچز کسی غیر جانبدار مقام پر کھیلے جائیں۔یہ افسوسناک ہے کہ کھیل دو طرفہ کشیدگی کا شکار ہو جائیں، لیکن پاکستان ہاکی فیڈریشن کا موقف سمجھ میں آنے والا ہے۔پاکستان نے ٹورنامنٹ سے دستبرداری اختیار کی ہے اور نہ ہی بھارت کیخلاف کھیلنے سے انکار کیا ہے۔اس نے محض یہ مطالبہ کیا ہے کہ میچز ایسے مقامات پر منتقل کیے جائیں جہاں سیاسی عدم استحکام اور سکیورٹی خدشات شرکت کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔اس اصول کا اطلاق اب کرکٹ اور ہاکی سے آگے بڑھ کر ہونا چاہیے۔بھارت کے ساتھ ہونیوالے تمام کھیلوں کے مقابلوں کیلئے پاکستان کو ایک مستقل پالیسی کی ضرورت ہے۔جب تک باہمی دوروں کا سلسلہ بحال نہیں ہوتا،دو طرفہ مقابلے غیر جانبدار مقامات پر ہی ہونے چاہئیں۔مثالی طور پر کھیل کو سیاست سے الگ رہنا چاہیے۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں