جامعات سے اب محض پہلے سے موجود علم منتقل کرنے کی توقع نہیں کی جاتی۔ ایسی معیشت میں جہاں جدت، ٹیکنالوجی، کاروباری صلاحیت اور علم کی تخلیق بنیادی محرکات بن چکے ہیں، جامعات کو نئے خیالات پیدا کرنے، سماجی مسائل کے حل تلاش کرنے، صنعت اور حکومت کے ساتھ روابط قائم کرنے اور طلبہ کیلئے روایتی ملازمت سے آگے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی تبدیلی کے پس منظر میں کاروباری جامعہ کا تصور سامنے آیا، جسے برطانوی ماہر تعلیم برٹن آر کلارک نے نمایاں نظریاتی شکل دی۔ کلارک کی 1998 میں شائع ہونیوالی کتاب ”کریئٹنگ انٹرپرینیوریئل یونیورسٹیز ”میں یورپ کی پانچ جامعات کا مطالعہ کیا گیا جنہوں نے اپنے ڈھانچے میں نمایاں تبدیلی کی تھی۔ ان میں واروک، ٹوئنٹے، اسٹریتھ کلائیڈ، چالمرز اور جوئنسو شامل تھیں۔ کلارک کا استدلال تھا کہ جامعہ صرف اس لیے کاروباری نہیں بنتی کہ وہاں کاروباری تعلیم پڑھائی جاتی ہے یا انکیوبیٹر بنا دیا گیا ہے۔ اصل تبدیلی تنظیمی مزاج، انتظامی صلاحیت اور بدلتے ماحول میں خودمختار عمل کی صلاحیت میں ہونی چاہیے۔ کلارک نے پانچ باہم مربوط راستوں کی نشاندہی کی۔ پہلا، مضبوط انتظامی مرکز۔ اس سے مراد اختیارات میں اضافہ نہیں، بلکہ ایسی قیادت ہے جو واضح ترجیحات طے کرے، بیرونی تبدیلی کا فوری جواب دے اور ادارے کو ایک سمت میں جوڑے۔ کاروباری جامعہ ایسی قیادت چاہتی ہے جو سوچ سمجھ کر خطرہ مول لے اور فیصلوں کو بیوروکریسی میں پھنسنے نہ دے۔ پاکستان میں فیصلہ سازی اکثر مہینوں میں ہوتی ہے جو جدت کی بڑی رکاوٹ ہے۔ دوسرا، وسیع ترقیاتی ذیلی ڈھانچہ۔ جامعات کو ایسے یونٹس کی ضرورت ہے جو علم کو معیشت اور معاشرے سے جوڑیں۔ تحقیقی مراکز، ٹیکنالوجی منتقلی کے دفاتر، مسلسل تعلیم کے مراکز، مشاورتی خدمات، انکیوبیٹرز اور صنعت و حکومت کے ساتھ شراکت داریاں اسی پل کا کردار ادا کرتی ہیں۔ جب یہ ڈھانچہ فعال ہو تو لیب کی تحقیق مارکیٹ میں مصنوعات اور کلاس روم کا نظریہ عملی حل بنتا ہے۔ تیسرا، مالی وسائل میں تنوع۔ کلارک کے مطابق صرف سرکاری امداد پر انحصار خودمختاری کمزور کرتا ہے۔ متبادل ذرائع میں مسابقتی گرانٹس، صنعتی معاہدے، کنسلٹنسی، سابق طلبہ کے عطیات، ایگزیکٹو تعلیم اور پیٹنٹس کی لائسنسنگ شامل ہیں۔ تنوع جامعہ کو بجٹ کے اتار چڑھا سے محفوظ رکھتا ہے اور جدت کے لیے اضافی وسائل دیتا ہے۔ چوتھا، علمی مرکز کی فعالیت۔ تبدیلی صرف وائس چانسلر آفس تک محدود نہیں رہ سکتی۔ فیکلٹیز، شعبہ جات اور محققین کو اس کا حصہ بننا ہوگا۔ تحقیق حقیقی مسائل سے جڑی ہو، بین الشعبہ جاتی کام کی حوصلہ افزائی ہو اور طلبہ کو عملی مسائل حل کرنے کے مواقع ملیں۔ پانچواں، کاروباری ثقافت۔ یہ سب سے اہم ہے۔ کاروباریت سے مراد صرف کمپنی بنانا نہیں، بلکہ پورے ادارے میں تجربہ کرنے اور نیا سوچنے کا کلچر ہے۔ کاروباری جامعہ اپنے مستقبل کی تشکیل خود کرتی ہے، صرف ردعمل ظاہر نہیں کرتی۔ اس ماڈل کو دنیا میں پذیرائی اس لیے ملی کہ حالات بدل گئے۔ آج بنیادی سوال ہے کہ کیا ہماری جامعات علم اور حل پیدا کر رہی ہیں یا صرف ڈگریاں بانٹ رہی ہیں؟ یہی ڈگری فیکٹری کا طعنہ ہے۔ پاکستانی ماڈل کی پہلی کمزوری حکمرانی ہے۔ ضرورت سے زیادہ بیوروکریسی، پیچیدہ ضابطے، محدود خودمختاری اور مداخلت جدت میں رکاوٹ ہیں۔ جب فیصلہ سازی سست ہوگی تو جامعہ وقت پر جواب نہیں دے سکے گی۔ دوسری کمزوری معیشت سے کمزور تعلق ہے۔ جامعات، صنعت اور حکومت الگ دنیا میں کام کرتے ہیں۔ تحقیق اکثر پروموشن کے لیے کی جاتی ہے، کسی حقیقی مسئلے کے حل کے لیے نہیں۔ نتیجتا طالب علم نظریہ تو سیکھ لیتا ہے مگر عملی دنیا سے کٹا رہتا ہے اور ڈگری کے بعد بے روزگاری کا شکار ہوتا ہے۔ تیسری کمزوری ترغیبی نظام ہے۔ جب ترقی کا انحصار صرف مقالوں کی تعداد پر ہوگا تو استاد بھی تعداد پر توجہ دے گا، معیار، پیٹنٹ یا پالیسی اثر پر نہیں۔ یوں مقالوں کی تعداد بڑھتی ہے لیکن پیٹنٹس، ٹیکنالوجیز اور کاروباری منصوبے نہیں بڑھتے۔ پاکستان نے بنیادیں قائم کی ہیں۔ ایچ ای سی نے اورکس، بزنس انکیوبیشن سینٹرز اور TISC بنائے، ٹرپل ہیلکس کو فروغ دیا اور صنعت سے جڑے گرانٹس شروع کیے۔ مسئلہ اقدامات کا نہ ہونا نہیں بلکہ یہ ہے کہ یہ اقدامات ابھی کلچر کا حصہ نہیں بنے اور اکثر ایک کمرے تک محدود ہیں۔ اس لیے کاروباری جامعہ کو ایک اور پروگرام نہیں بلکہ ادارہ جاتی تبدیلی سمجھنا ہوگا۔ ہمیں میرٹ پر منتخب مضبوط قیادت، جواب دہی کے ساتھ خودمختاری اور نتائج پر مبنی طویل مدتی منصوبہ بندی چاہیے۔ وائس چانسلر کی تقرری شفاف ہونی چاہیے۔ مالیاتی اصلاح بھی ضروری ہے۔ سرکاری امداد بنیادی رہے گی لیکن جامعات کو اپنے ذرائع بھی بنانے ہوں گے۔ صنعتی شراکت، ایلومنائی فنڈ، ایگزیکٹو پروگرامز، کنسلٹنسی اور لائسنسنگ سے وسائل آ سکتے ہیں، بشرطیکہ تجارت علمی آزادی پر غالب نہ آئے۔ علمی مرکز کو بھی متحرک کرنا ہوگا۔ شعبہ جات قومی مسائل پر تحقیق کریں۔ زراعت، پانی، توانائی، مصنوعی ذہانت، صحت عامہ، موسمیاتی تبدیلی اور شہری ترقی میں جامعات عملی حل دے سکتی ہیں۔ فائنل ایئر پراجیکٹس کو صنعت اور مقامی کمیونٹی کے حقیقی مسائل سے جوڑنا چاہیے۔ کاروباریت کو مضمون کے بجائے تجربہ بنانا ہوگا۔ طلبہ کو انکیوبیٹر، مینٹر، ابتدائی سرمایہ اور انٹرن شپ کے مواقع ملیں۔ جامعہ کی کامیابی صرف گریجویٹس سے نہیں بلکہ نئے کاروبار، ٹیکنالوجی منتقلی، پیٹنٹس اور پالیسی میں استعمال ہونے والی تحقیق سے ناپی جائے۔ حالیہ اصلاحات میں خودمختاری، مہارتوں پر مبنی نصاب اور صنعت سے تعاون پر زور اسی سمت میں ہے۔ اصل چیلنج پالیسی کو کلچر میں بدلنا ہے۔ کلارک کا اہم سبق یہ ہے کہ کاروباریت سرکلرز اور کمیٹیوں سے نافذ نہیں ہوتی۔ اسے ثقافت بنانا ہوگا۔ وائس چانسلرز، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور حکومت کو مشترکہ علمی ماحولیاتی نظام کا حصہ بننا ہوگا۔ پاکستان کو یورپی ماڈل کی اندھی تقلید نہیں کرنی۔ ہر خطے کا ماڈل مقامی ضرورت کے مطابق ہو۔ کوئٹہ میں پانی اور لائیو اسٹاک جبکہ سیالکوٹ میں ایکسپورٹ انڈسٹری ترجیح ہو سکتی ہے۔ مقصد نقل نہیں بلکہ مقامی جدت ہے۔ مستقبل کی جامعہ کو تدریس اور امتحان کی محدود منطق سے نکلنا ہوگا۔ اسے علم تخلیق کرنے، مسائل کی تحقیق کرنے، نئے خیالات آزمانے اور پالیسی کو بنیاد دینے والا ادارہ بننا ہوگا۔ کاروباری جامعہ کا مقصد استاد کو کاروباری بنانا نہیں بلکہ جامعہ کو وہ اعتماد اور صلاحیت دینا ہے کہ وہ قومی ترقی کی محرک بنے۔ اگر یہ تبدیلی ہو گئی تو ہماری جامعات ڈگری فیکٹریوں کے بجائے جدت کے مراکز بن سکتی ہیں۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں