بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 26.6°C
Monday, 27 July 2026 | پاکستان: 13 صفر 1448

ڈیٹا سینٹرز، پاکستان کی نئی معاشی سرحد

Monday, 27 July, 2026

دنیا کی معیشت خاموش مگر انتہائی گہری تبدیلی سے گزر رہی ہے۔ کبھی اقتصادی طاقت کا انحصار تیل، گیس، بندرگاہوں اور کارخانوں پر تھا، مگر اب ڈیٹا، مصنوعی ذہانت (AI)، کلاڈ کمپیوٹنگ اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ نئی عالمی معیشت کی بنیاد بن چکے ہیں۔ امریکہ، چین، آسٹریلیا، بھارت، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، ملائیشیا اور سنگاپور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ جدید ڈیٹا سینٹرز قائم کر رہے ہیں۔ اب یہ سوال پاکستان کے لئیبھی انتہائی اہم ہے کہ کیا ہم اس عالمی تبدیلی کا حصہ بن سکتے ہیں یا صرف صارف بن کر رہ جائیں گے؟”سکائی 47 ڈیٹا سینٹر اور اے آئی کلاڈ منصوبے کا افتتاح اسی تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔ تاہم کسی منصوبے کی اصل اہمیت اس معاشی نظام میں ہوتی ہے جو وہ اپنے گرد تشکیل دیتا ہے۔دنیا میں اس وقت تقریبا بارہ ہزار سے زیادہ بڑے اور درمیانے درجے کے ڈیٹا سینٹرز کام کر رہے ہیں۔ صرف امریکہ میں ہزاروں ڈیٹا سینٹرز موجود ہیں، جبکہ بھارت گزشتہ چند برسوں میں ایشیا کے تیزی سے ابھرتے ہوئے ڈیٹا سینٹر حب کے طور پر سامنے آیا ہے جہاث عالمی کمپنیاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ آسٹریلیا بھی مصنوعی ذہانت اور کلاڈ انفراسٹرکچر کے لئیبڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز تعمیر کر رہا ہے کیونکہ مستقبل کی معیشت میں ڈیٹا کی مقامی میزبانی، سائبر سکیورٹی اور تیز رفتار کمپیوٹنگ ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ڈیٹا سینٹر ڈیجیٹل معیشت کا بنیادی ڈھانچہ ہوتا ہے۔ بینکنگ، ای کامرس، ٹیلی کمیونیکیشن، صحت، تعلیم، دفاع، ای گورننس، آن لائن ادائیگیاں، مصنوعی ذہانت اور تحقیق، سب اسی انفراسٹرکچر پر انحصار کرتے ہیں۔ جس ملک کے پاس مضبوط ڈیٹا سینٹرز ہوں، وہ اپنی معلومات کو اپنے ملک میں محفوظ رکھ سکتا ہے، خدمات تیز رفتار فراہم کر سکتا ہے اور بیرونی کمپنیوں پر انحصار کم کر دیتا ہے۔ پاکستان کی معیشت کیلئے اس شعبے میں امکانات غیر معمولی ہیں۔ ملک کی نوجوان آبادی، آئی ٹی فری لانسرز، بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل ادائیگیاں، ای کامرس کی تیز رفتار ترقی اور سافٹ ویئر برآمدات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اگر عالمی معیار کے ڈیٹا سینٹرز دستیاب ہوں تو پاکستانی کمپنیاں اپنی خدمات ملک کے اندر ہی محفوظ اور کم لاگت پر چلا سکیں گی اور غیر ملکی کمپنیاں بھی اپنے علاقائی ڈیٹا کی میزبانی پاکستان میں کرنے پر غور کر سکتی ہیں۔یہاں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستان کے پاس ڈیٹا سینٹرز کیلئے ضروری وسائل موجود ہیں؟ اس کا جواب مکمل طور پر نفی میں نہیں۔پاکستان کے پاس فائبر آپٹک نیٹ ورک، جغرافیائی محل وقوع، نوجوان آئی ٹی افرادی قوت، متعدد بین الاقوامی انٹرنیٹ رابطے اور نسبتاً کم لاگت والی افرادی قوت جیسے اہم وسائل موجود ہیں۔ چین، وسط ایشیا، مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے مستقبل میں علاقائی ڈیجیٹل راہداری بھی بنا سکتی ہے۔پاکستان میں چند بنیادی چیلنجز بھی ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ڈیٹا سینٹرز کی سب سے بڑی ضرورت سستی، مسلسل اور بلا تعطل بجلی ہے۔ اسکے علاوہ اعلی معیار کی سائبر سکیورٹی، مستحکم پالیسی، ڈیٹا پروٹیکشن قوانین، قابل اعتماد انٹرنیٹ انفراسٹرکچر اور سرمایہ کار دوست ماحول بھی لازمی تقاضے ہیں۔ اگر یہ عناصر موجود نہ ہوں تو اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری دوسرے ممالک کا رخ کر لیتی ہے۔دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں آج ایسے ممالک کا انتخاب کر رہی ہیں جہاں توانائی کی دستیابی، حکومتی پالیسیوں کا تسلسل اور ڈیجیٹل قوانین واضح ہوں۔ بھارت نے ڈیٹا لوکلائزیشن پالیسی، ٹیکس مراعات اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے ذریعے عالمی سرمایہ کاری حاصل کی۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات مصنوعی ذہانت اور کلاڈ کمپیوٹنگ کیلئے خصوصی اکنامک زونز بنا رہے ہیں۔ آسٹریلیا قابل تجدید توانائی کے ذریعے گرین ڈیٹا سینٹرز پر سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ توانائی کی لاگت بھی کم رہے اور ماحولیات کے تقاضے بھی پورے ہوں۔
پاکستان بھی اسی سمت آگے بڑھ سکتا ہے۔ اگر حکومت خصوصی ڈیٹا سینٹر اکنامک زونز قائم کرے، سستی اور قابل اعتماد بجلی فراہم کرے، قابل تجدید توانائی کو فروغ دے، ڈیٹا پروٹیکشن کے جدید قوانین نافذ کرے اور عالمی کمپنیوں کو ٹیکس مراعات دے تو گوگل، مائیکروسافٹ، اوریکل، ایمیزون ویب سروسز، ہواوے، زیڈ ٹی ای اور دیگر عالمی اداروں کی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس سے اربوں ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی اور ہزاروں اعلی مہارت کی ملازمتیں پیدا ہوں گی، آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوگا، مقامی اسٹارٹ اپس کو عالمی معیار کا انفراسٹرکچر ملے گا اور پاکستان کی ڈیجیٹل خودمختاری بھی مضبوط ہوگی۔ جلد مصنوعی ذہانت صرف نئی ٹیکنالوجی ہی نہیں قومی مسابقت کا بنیادی پیمانہ ہوگی۔ جو ممالک اپنے ڈیٹا کو محفوظ رکھ سکیں گے، تیز رفتار کمپیوٹنگ مہیا کریں گے اور جدید کلاڈ انفراسٹرکچر تعمیر کریں گے، وہی عالمی معیشت میں نمایاں مقام حاصل کریں گے۔ اس لیے ڈیٹا سینٹرز کو صرف عمارت یا سرکاری منصوبہ سمجھنا درست نہیں، انہیں مستقبل کی معیشت، قومی سلامتی، ڈیجیٹل خودمختاری اور برآمدی صلاحیت کے بنیادی ستون کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اس شعبے میں پالیسی کے تسلسل، توانائی کے استحکام، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور جدید ڈیجیٹل قوانین کو یقینی بنا دے تو یہ ممکن ہے کہ آئندہ دہائی میں ملک صرف ڈیٹا استعمال کرنے والا نہیں خطے میں ڈیٹا محفوظ کرنے، مصنوعی ذہانت کی خدمات فراہم کرنے اور ڈیجیٹل سرمایہ کاری کا اہم مرکز بھی بن سکتا ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *