بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 23.7°C
Saturday, 13 June 2026 | پاکستان: 28 ذوالحجۃ 1447

کائنات میں ایک ارب نوری سال وسیع ’کہکشانی بلبلہ‘ پہلی مرتبہ دریافت

Monday, 11 September, 2023

لندن: ہبل دوربین کی مدد سے حاصل شدہ تصاویر اور ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد بین الاقوامی ماہرینِ فلکیات نے پہلی مرتبہ کائنات میں ایک ایسی بلبلہ نما ساخت دریافت کی ہے جو کہکشاؤں پر مبنی ہے اور اس کی غیرمعمولی وسعت کا اندازہ ایک ارب نوری سال لگایا گیا ہے۔یہ بلبلہ ہماری اپنی ملکی وے کہکشاں سے 10 ہزار گنا بڑا ہے اور اسی کہکشاں سے 82 کروڑ نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ خیال ہے کہ یہ عظیم بلبلہ بگ بینگ کے فوری بعد پیدا ہوا تھا اور یوں قدیم کائنات کو سمجھنے میں ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اسی بنا پر ماہرین نے اسے کائناتی رکاز (فاسل) بھی کہا ہے۔حیرت انگیز طورپربڑے اس کائناتی مظہر سے ایک جانب تو خود سائنسداں حیران ہیں تو دوسری جانب اس کا مطالعہ کئی دلچسپ انکشافات کا اضافہ کرتا ہے۔ جامعہ کوئنزلینڈ اسکول آف میتھمیٹکس اینڈ فزکس سے وابستہ ڈاکٹر کیولن ہووٹ بھی اس تحقیق کا حصہ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کائناتی عجوبے کو دیکھ کر ہم خود انگشت بدنداں ہیں کیونکہ یہ ہم سے بہت ہی قریب ہے۔ڈاکٹر کیولن کے مطابق اسے دیکھ کر کائناتی پھیلاؤ کی رفتار معلوم کی جاسکتی ہے اور یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہماری کائنات کتنی وسیع ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق اس دریافت کی روشنی میں کائناتی تاریخ کو نئے سرے سے لکھنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔یہ تحقیق اس ہفتے کے ’ایسٹرفزیکل جرنل‘ میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کےمطابق ابتدائی کائنات میں گرم پلازمہ کی وجہ سے ثقلی اور ریڈیائی عمل سے صوتی (آواز) کی امواج خارج ہوئی تھیں جنہیں ’بیریئن اکاسٹک آسلیشن‘ (بی اے او) کہا جاتا ہے۔ ماہرین نے 2005 میں بے اے او کے سگنل محسوس کئے تھے۔

رائے کا اظہار کریں

ضروری خانے * سے نشان زد ہیں