ایوب چوہان نے مجھے ایک خوبصورت تصویر بھیجی۔ تصویر میں ایک غریب موچی ایک شخص کے ننگے پاں سے کانٹا نکال رہا ہے، اور نیچے لکھا تھا: “کسی زمانے میں ایک دوسرے کے کانٹے نکالے جاتے تھے، اب ایک دوسرے کی راہ میں کانٹے بچھائے جاتے ہیں۔” میں نے تصویر دیکھ کر جواب دیا کہ بات اس سے بھی آگے نکل چکی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ہمارے پاں میں جوتے نہیں ہوتے تھے، اس لیے کانٹے پاں میں چبھتے تھے اور انسان دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھ کر وہ کانٹے نکال دیا کرتا تھا۔ آج ہمارے پاں میں جوتے ہیں، بلکہ اتنے جوتے ہیں کہ ہم انہیں پہننے کے بجائے ایک دوسرے کے سروں پر مارنے لگے ہیں۔ کانٹے بھی اب پاں میں نہیں، دلوں میں اگ آئے ہیں۔یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ہمارے پورے معاشرے، ہماری سیاست اور امتِ مسلمہ کی موجودہ حالت کی تصویر ہے۔ انسان ترقی کرتا گیا، سڑکیں بن گئیں، گاڑیاں آگئیں، محلات کھڑے ہوگئے، مگر دلوں کے راستے ویران ہوتے چلے گئے۔ پہلے غربت تھی مگر محبت بھی تھی۔ آج آسائش ہے مگر برداشت ختم ہو چکی ہے۔پاکستان کی سیاست اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اختلاف پہلے بھی ہوتے تھے، مگر اختلاف کو دشمنی میں نہیں بدلا جاتا تھا۔ آج سیاست خدمت کا نام کم اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی جنگ زیادہ بن چکی ہے۔ مخالف کی عزت، کردار اور وجود تک کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاست میں نظریات سے زیادہ نفرت کی فصل اگائی جا رہی ہے۔ یہی کیفیت صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ پوری دنیا میں طاقت ور کمزور کو دبانے میں مصروف ہے۔ انصاف کی زبان کمزور پڑ گئی ہے اور مفادات کی آواز بلند ہو گئی ہے۔ انسانیت کا نعرہ لگانے والے بھی اکثر اپنے مفاد کے مطابق انسانیت کی تعریف کرتے ہیں۔امتِ مسلمہ کی حالت تو اس سے بھی زیادہ افسوسناک ہے۔ ہم ہر مسئلے کا الزام اسرائیل یا بیرونی طاقتوں پر ڈال دیتے ہیں، لیکن کیا ہم نے کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا؟ اگر امت کا ایک حصہ اپنے ہی مسلمان بھائیوں پر گولیاں برسا رہا ہو، اگر مسلمان ملک ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوں، اگر ہم خود اپنے گھروں میں آگ لگا رہے ہوں تو پھر دشمن کو زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟ہم نے تاریخ سے سبق لینے کے بجائے تاریخ کی غلطیاں دہرانا شروع کر دی ہیں۔ پرانی عرب قبائلی دشمنیوں کی سوچ آج بھی مختلف شکلوں میں زندہ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے تلواریں تھیں، آج جدید ہتھیار ہیں۔ پہلے اونٹوں پر لڑائیاں ہوتی تھیں، آج میزائلوں اور میڈیا کے ذریعے جنگیں لڑی جا رہی ہیں۔ نتیجہ مگر وہی ہے؛ مسلمان کا خون مسلمان کے ہاتھوں بہتا ہے۔دنیا کے کئی چھوٹے اور کمزور ممالک بڑی طاقتوں کی سیاست کا ایندھن بن چکے ہیں۔ کہیں خانہ جنگی ہے، کہیں پابندیاں، کہیں معاشی تباہی اور کہیں براہِ راست جنگ۔ ان حالات میں سب سے زیادہ نقصان عام انسان اٹھاتا ہے، جس کا نہ کسی عالمی منصوبے سے تعلق ہوتا ہے اور نہ کسی سیاسی کھیل سے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہم واقعی ترقی کر گئے ہیں؟ اگر ترقی کا مطلب صرف جوتے، گاڑیاں، عمارتیں اور ٹیکنالوجی ہے تو شاید ہاں۔ لیکن اگر ترقی کا مطلب انسانیت، محبت، رواداری اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونا ہے تو ہمیں رک کر اپنا محاسبہ کرنا ہوگا۔ہمیں پھر سے وہ زمانہ یاد کرنا ہوگا جب پڑوسی کے گھر چولہا نہ جلتا تو دوسرا پڑوسی بے چین ہو جاتا تھا۔ جب راستے میں کانٹا دیکھ کر اسے اٹھا لیا جاتا تھا تاکہ کسی اور کے پاں زخمی نہ ہوں۔ آج ہم خود راستوں میں کانٹے بچھانے لگے ہیں، صرف اس لیے کہ کوئی دوسرا منزل تک نہ پہنچ سکے۔ہمارے گھروں میں بھی یہی کیفیت سرایت کر چکی ہے۔ بھائی بھائی سے دور، رشتہ دار ایک دوسرے سے ناراض، دوست مفاد تک محدود اور معاشرہ تقسیم در تقسیم کا شکار ہے۔ سوشل میڈیا نے رابطے تو بڑھا دیے، مگر دلوں کے فاصلے بھی کئی گنا زیادہ کر دیے ہیں۔قرآن کریم ہمیں اخوت، عدل، صبر اور معافی کا درس دیتا ہے۔ نبی کریم ۖ نے دشمنوں تک کے ساتھ حسنِ سلوک کی مثالیں قائم کیں۔ مگر ہم نے دین کی روح کو چھوڑ کر صرف نعروں پر اکتفا کر لیا ہے۔ جب تک ہمارے کردار میں تبدیلی نہیں آئے گی، حالات بھی تبدیل نہیں ہوں گے۔پاکستان کو بھی آج اسی سوچ کی ضرورت ہے کہ اختلاف کو دشمنی نہ بنایا جائے۔ سیاسی جماعتیں آئیں گی، جائیں گی، حکومتیں بدلیں گی، مگر ملک ہمیشہ قائم رہے گا۔ اگر نفرت کی یہ فصل یونہی اگتی رہی تو آنے والی نسلوں کو محبت کی زمین میسر نہیں آئے گی۔مجھے اس تصویر نے یہی سبق دیا کہ اصل مسئلہ جوتوں یا کانٹوں کا نہیں، دلوں کا ہے۔ جب دل صاف ہوں تو ننگے پاں بھی سفر آسان ہو جاتا ہے، اور جب دل نفرت سے بھر جائیں تو قیمتی جوتے بھی انسان کو منزل تک نہیں پہنچا سکتے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے راستے میں کانٹے بچھانے کے بجائے انہیں چننا شروع کریں۔ دوسروں کے سروں پر جوتے مارنے کے بجائے ان کے زخموں پر مرہم رکھیں۔ امتِ مسلمہ اگر واقعی عزت اور وقار چاہتی ہے تو اسے پہلے اپنے اندر کی نفرت، تقسیم اور تعصب کو ختم کرنا ہوگا۔ دشمن کی طاقت سے پہلے اپنی کمزوریوں کا علاج کرنا ہوگا۔یاد رکھیے، قومیں صرف ہتھیاروں سے مضبوط نہیں ہوتیں بلکہ اپنے اخلاق، اتحاد اور انصاف سے مضبوط بنتی ہیں۔ جب تک ہم دلوں سے کانٹے نہیں نکالیں گے، دنیا کے کسی بھی کونے میں امن کا پھول نہیں کھل سکے گا۔ یہی وہ سبق ہے جو ایک سادہ سی تصویر نے ہمیں یاد دلایا ہے: کانٹے اب زمین پر نہیں، ہمارے دلوں میں اگ آئے ہیں، اور جب تک ہم انہیں خود نہیں نکالیں گے، نہ ہماری سیاست سنورے گی، نہ ہمارا معاشرہ، اور نہ ہی امتِ مسلمہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت دوبارہ حاصل کر سکے گی۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں