بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 25.8°C
Monday, 20 July 2026 | پاکستان: 7 صفر 1448

یہ بھونچال کیسا

Monday, 20 July, 2026

جی ہاں یہ بھونچال آئینی عدالت کے فیصلوں سے اور مولانا فضل الرحمان کے بیان سے آیا ہے ۔ اس لیے کہ عوام کو ایسے فیصلے اور بیان کی ان سے توقع نہیں تھی۔ آئینی عدالت سب سے بڑی عدالت اور مولانا سب سے بڑے سیاسی لیڈر کہلاتے ہیں۔ لہذٰا ان سے بڑے فیصلے اور اچھے بیان کی توقعات رہی ہے مگر دونوں نے عوام کو مایوس کیا ہے جس سے یہ بھونچال دیکھنے میں آیا ہے۔ اسی ماہ میں آئینی عدالت نے کراچی کے نسلہ ٹاور گرانے کے فیصلے کو غلط قرار دیا، مگر وہ ٹاور تو اب گر چکا ہے اسی طرح منال ریسٹورنٹ کے گرانے جانے کے حکم کو بھی اس آئنی عدالت نے غلط قرار دیا ہے جبکہ منال ریسٹورنٹ بھی گرچکا ہے۔ ماضی کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا فیصلہ بھی عدالت غلط قرار دے چکی ہے مگر بھٹو کو پھانسی تو ہو چکی ہے۔ ایسے عدالتی فیصلوں کے آجانے سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ میرے نزدیک یہ ادھورے فیصلے ہیں۔ ان تازہ فیصلوں میں سابق ججز کے فیصلوں کو صرف غلط قرار دینا ہی کافی نہیں تھا بلکہ غلط فیصلہ کرنے والے ججز کو سزا اور جرمانے دینا بھی ضروری تھا ۔اب صرف ان ججز کے فیصلے بدلے ہیں اور کچھ نہیں ہوا۔ اگر یہ ججز اپنے ان فیصلوں میں یہ بھی لکھ دیتے کہ نسلہ ٹاور سابق چیف جسٹس گلزار کے غلط فیصلے سے گرایا گیا تھاجس سے اسکے رہائشیوں کا نقصان ہوا ہے لہذا اس جج کی تمام مراحات اور پنشن ختم کرتے ہیں اور ان کی جائیدادوں کو فروخت کر کے یہ رقم نسلہ ٹاور کے رہائشی کو دیں گے اور جج کو تا حیات جیل میں رکھا جائے گا۔یہ جج بھی اپنے اس آڈر پر اسی طرح فوری عملدرآمد کے آڈر کراتے جیسے اس جج نے نسلہ کو گرانے کے لیے دن رات ایک کر دیا تھا۔ ایسا فیصلہ اگر آجاتا تو شاید پھر کوئی جج اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کرتا آئین اور قانون کے مطابق کرتے ۔اسی طرح کااب آئینی عدالت نے اسلام آباد کے منال ریسٹورنٹ کے گرائے جانے کا فیصلہ غلط قرار دیا ہے مگر ادھورا۔ اگر اس فیصلے میں یہ بھی لکھا جاتا کہ ہم اس جج کی مراحات پنشن اور جائدادیں ملکی و غیر ملکی ضبط کرنے کے آڈر کرتے ہیں۔ اس پر فوری عمل کرتے ہوئے جج کو گرفتار کر کے جیل میں ڈالتے ہیں ۔یہ حکم اگر لکھتے تو عوام خوش ہوتے انصاف ہوتا ہوا دکھائی دیتا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ ماضی میں اسی قسم کا فیصلہ اگر بھٹو کے پھانسی کیس میں لکھا گیا ہوتا کہ جن ججز نے بھٹو کو پھانسی غلط دی تھی ان ججز کو قبروں سے نکال کر سرعام لٹکایا جائے گا تو بات بنتی ۔ان ججز نے بھٹو کی پھانسی کو تو غلط قرار دیا مگر بھٹو کو پھانسی دینے والے ججز کے متعلق خاموش رہے۔ ابھی ہائی کورٹ میں جج بنانے کے طریقہ کار کو ذرا سا بدلا ہے اور اب جو بھی جج بنے گا وہ کمیٹی کے سامنے انٹرویو کے لیے پیش ہو گا۔ ابھی تک کسی نے ایسا کرنے کو اس پیشہ کی اور اپنی توہینِ نہیں سمجھا اور پیش ہو چکے ہیں جبکہ ضرورت اسکی تھی کہ جو ججز آئین اور قانون کے مطابق فیصلے نہیں لکھا کریں گے انہیں گھر بغیر مراعات کے بھیجا جایا کرے گا۔ اب تو ججز کرپشن کرتے پکڑے جاتے ہیں۔انکوائری کے دوران استعفیٰ دے کر خود ہی گھر چلے جاتے ہیں۔ تاکہ انہیں پنشن اور مراعات ملتی رہیں جبکہ اس میں تبدیلی لانا ضروری تھا۔ اس سے بہتر تھا ججز کی سلیکشن کا طریقہ کار بدل کر سی ایس ایس جیسا کرلیا جاتا۔ انکے تحریری ٹیسٹ، میڈیکل ٹیسٹ اور انٹرویو کرتے اب انہیں انٹرویو اور سلیکشن کے بعد بھی ان پر ایک سال کی تلوار لٹکتی رہے گے اور پھر سال کے بعد پکا جج بنے گا یا گھر بھیجا جائیگا۔ مگر یہ نکالے گئے جج ادھر ڈوبے ادھر نکلے کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے پھر سے شامل ہیں اگر جن ججز نے انہیں ججزی سے نکالا تھا انہیں سزا ئیں دیتا تو بنتا ہے کہ انہیں غلط کیوں نکالا تھا۔ ایسے نکالے گئے جج اب ایک بار پھر جوڈیشری کا حصہ بنے جا رہے ہیں۔ مبارک ہو۔ مولانا فضل الرحمان کے بیان کی وجہ سے بھونچال آیا ہوا ۔ کہا جاتا ہے ان کے بیان کے دو حصہ ہیں۔ پہلے حصے میں سب کو اعتراض ہے کہ شہید ہونے والے تنخواہ دار ہوتے ہیںیعنی اسی کام کی یہ تنخواہ لیتے ہیں۔ یہ تو درست ہے کہ سرکاری ملازم ہوتے ہیں تنخواہیں لیتے ہیں مگر کام کے دوران دہشت گردوں کے ہاتھوں ہمیں ان سے بچاتے ہوئے خود دنیا سے چلے جاتے ہیں تو یہ شہد ہیں۔ انہیں تنخواہ کے ساتھ جوڑنا نہیں چائے مولانا دوسرے حصہ میں فرماتے ہیں دو ہزار چوبیس کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی تھی۔انکے پہلے حصے پر سب کو اعتراض ہے۔ شہید کو شہید سمجھنا چاہیے۔کچھ لوگ شہیدوں پر لمبی لمبی تقریریں تو کرتے ہیں مگر نہ خود اس رستے پہ چلتے ہیں اور نہ بچوں کو جانے دیتے ہیں۔شہید ہو جانے والوں پر تنقید نہیں فخر کرنا چاہیے۔ کچھ لوگ اداروں میں شہادت کے لئے اور عزت کے لیے جاتے ہیں اور کچھ پیسہ بنانے عہدوں کے لیے ۔ یہ دو الگ الگ قسموں کے لوگ ہیں۔ اسی طرح سیاست دانوں کی بھی قسمیں ہیں کچھ سیاست دان عبادت سمجھ کر سیاست میں آتے ہیں جیسے معراج محمد خان مرحوم اور کچھ پیسہ جائدادیں شہرت کیلئے سیاست میں آتے ہیں۔جس چیز کا پرچار کرتے ہیں اپنے پہ لاگو نہیں کرتے۔مولانا اگر دو ہزار چوبیس کے الیکشن کے بجائے ملک کے تمام الیکشنوں کی بات کرتے اور کہتے کہ یہاں الیکشن نہیں سلیکشن ہوتے ہیں تو شاید لوگ مان لیتے خوش ہوتے کہ سچ کہہ رہے ہیں۔ مگر صرف ایک الیکشن پر اعتراض کرنا کسی ایک کو خوش کرنا ہے۔ آپ بڑے لیڈر ہیں بڑے تنا ظر میں دیکھ کر بات کریں دنیا کے بہت سے ممالک میں الیکشن نہیں سلیکشن ہوتے ہیں۔جس پر عوام آواز اٹھاتے ہیں اعتراض یہ ہے کہ دو ہزار چودہ کے الیکشن کے بارے میں مولانا نے بات نہیں کی۔کیا یہ الیکشن اور اس سے پہلے والے الیکشن فیر اور فری تھے۔ کیا یہاں سیاست دانوں کو اقتدار میں لانے کیلئے ان میں ہوا نہیں بھری جاتی۔پیسے نہیں لگائے جاتے کیا غلط راستوں سے لوگ اقتدار میں نہیں آتے۔ ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاالحق، مشرف اقتدار میں کیا صحیح راستے سے اقتدار میں آئے تھے۔وہ کون لوگ تھے جھنوں نے ان کا ساتھ دیا تھا۔ یہاں خاموش کیوں رہے جبکہ یہاں بھی ضرورت اس کی ہے کہ جیسے برطانیہ میں جنرل کرام ویل کی لاش کو قبر سے نکال کر پھانسی دی گئی تھی۔ اس کے بعد پھر کسی نے اقتدار میں غیر قانونی طریقے سے آنے کی کوشش نہیں کی۔ یہاں بھی اگر کسی امر کسی جج کو ایسی ہی سزا دی گئی ہوتی تو نظام یوں نہ چل رہا ہوتا جیسے چل رہا ہے۔ کروم ویل کے واقعے نے یہ واضح کیا کہ صرف طاقت کے ذریعے حکومت دیرپا نہیں رہ سکتی۔آج برطانیہ کا نظامِ حکومت اسی تاریخی ارتقا کا نتیجہ ہے،۔پاکستانی ڈکٹیٹر بھی اسی سزا کے مستحق تھے کیا ان کو روکنے کیلئے کسی نے کچھ کیا۔ سوائے میاں نواز شریف کے جنھوں نے مشرف کو کٹہرے میں لانے کی کوشش کی۔جج نیاسے سرے عام پھانسی دینے کا حکم صادر فرمایا مگر ان کے فیصلے کو ان کے ساتھی ججز نے ہی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ایسا کیوں ہے۔سب سمجھتے ہیں مگر سب چپ ہیں۔ شہیدوں کی تنخواہیں تو یاد اتی ہیں جو زبردستی اقتدار میں رہے ان کی مراعات تنخواہیں یاد کیوں نہیں آتی۔ غریبوں کی بات نہ کیا کریں ان سے پوچھیں دو اور دو کتنے ہوتے ہیں تو وہ بچارے کہتے ہیں دو اور دو چار روٹیاں۔ فوجی ہو یا پولیس والا ڈیوٹی دیتے ہوئے دہشتگردی کا نشانہ بن کر اگر دنیا سے رخصت ہو جائے تو وہ شہید ہے اور وہ شہید ہی کہلائے گا۔ دوسروں پر تنقید سے پہلے اپنی چارپائی کے نیچے بھی ڈنڈا پھیر لیا کریں تانکہ شرمندگی سے بچا جا سکے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *