بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 21.7°C
Thursday, 17 September 2026 | پاکستان: 6 ر بیع الثانی 1448

کشمیریوں کیخلاف کالے قوانین کا استعمال

Thursday, 17 September, 2026

غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے اختلافِ رائے کو دبانے کیلئے کالے قوانین اور عدلیہ کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کی شدید مذمت کی ہے۔ حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے کہا کہ حریت قیادت سمیت کشمیری قیدیوں کو مقدمات کی منصفانہ سماعت کے حق سے محروم کرنے سے بھارتی عدلیہ کی غیر جانب داری پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حقِ خودارادیت کے لیے کشمیری عوام کی جدوجہد کو دبانے میں ناکامی کے بعد بھارتی پولیس اور خفیہ ایجنسیاں مقبوضہ علاقے میں گھروں پر چھاپوں، نوجوانوں کو ہراساں اور گرفتار کرنے جیسے اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال کر رہی ہیں۔کشمیری عوام بی جے پی اور آر ایس ایس کے حکمران طبقے کی ان سازشوں سے ہوشیار رہیں جن کا مقصد کشمیری عوام، ان کے خیرخواہوں اور حریت قیادت کے درمیان خلیج پیدا کرنا ہے۔ انہوںنے تمام تر مشکلات کے باوجود تنازعہ کشمیر کے حل تک جدوجہدِ آزادی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔جموں و کشمیر میں ظلم و ستم کی داستان نہ صرف دل دہلا دینے والی ہے بلکہ اقوام عالم کے بنائے گئے انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی بھی ہے۔ بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم برداشت کی حدوں سے تجاوز کر چکے ہیں۔ بچے، بوڑھے، جوان، مرد وخواتین غرض کوئی بھی بھارتی جارحیت سے بچ نہیں سکا۔ بچوں پر ایسا بہیمانہ تشدد کیا جاتا ہے کہ اسکے تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور انسانیت شرمانے لگتی ہے۔ جوانوں کو اغوا کر کے لاپتا کر دیا جاتا ہے اور بعد ازاں بے دردی سے مسخ شدہ لاشیں توہین آمیز انداز میں پھینک دی جاتی ہیں جو بھارت کی فرعونیت اور چنگیزیت کا منہ بولتا ثبوت ہوتی ہیں۔ خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر حوا کی بیٹی کی حرمت و تقدس کو پامال کیا جاتا ہے۔ ہنستے بستے گھروں کو اجاڑنا بھارتی فوج اور بھارتی پولیس کا مشغلہ بن چکا ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی کی شاید ہی ایسی کوئی اور نظیر کہیں ملتی ہو۔حال ہی میں جموں و کشمیر کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے بھارت کے ایک معروف لکھاری رام پنیانی نے واضح الفاظ میں کہا کہ بھارتی حکومت کو اپنی جارحیت ترک کر کے یہ سوچنا چاہئے کہ کشمیری عوام کیا چاہتے ہیں۔ جمہوریت کے سب سے بڑے دعویدار اور خود ساختہ علمبردار اور انسانی حقوق کی اہمیت پر مصنوعی راگ الاپنے والوں کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ کشمیری عوام کو ان کے حق خود ارادیت، آزادی رائے اور بنیادی حقوق کی فراہمی سے محروم کرنا اور بالجبر اپنا تسلط قائم کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ جواہرلال نہرو نے ایک مرتبہ ایک تقریر میں کہا تھا۔ ”لوگوں کے دل اور دماغ جیتنے سے بڑھ کر اور کیا اہم ہو سکتا ہے۔”یونیورسل پریاؤک ریویو کے ورکنگ گروپ کے تحت اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے تیرھویں اجلاس میں واضح کیا گیا کہ انڈیا میں بھارتی ریاستوں اڑیسہ، مدھیہ پردیش، گجرات اور ہماچل پردیش میں مذہبی بنیادوں پر اقلیتوں کے بنیادی حقوق کا نہ صرف استحصال کیا جاتا ہے بلکہ مختلف مواقع پر انسانیت سوز تشدد کے ذریعے انسانی حقوق کے ضابطوں کی دھجیاں اْڑا دی جاتی ہیں۔ مذہبی آزادی کے موضوع پر پیش کی گئی اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹ میں بھی واشگاف الفاظ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کیلئے زمین تنگ ہے اور مذہبی اقلیتوں پر تشدد روا رکھا جاتا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی 2015 کی ایک رپورٹ کے مطابق کئی سالوں سے جموں و کشمیر میں نافذ آرمڈ فورسز اسپیشل ایکٹ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق مختلف مقدمات میں انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اس لئے اس کالے قانون کا فوری طور پر خاتمہ ضروری ہے۔ اس ایکٹ کی دفعہ 7کے تحت بھارت کی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر استثنیٰ حاصل ہے۔ جس کی وجہ سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث بھارتی اہلکاروں کا احتساب ممکن نہیں۔یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بھارتی وزیراعظم مودی کی موجودہ پالیسیوں کی وجہ سے اقوام عالم میں بھارت کی ساکھ شدید متاثر ہوئی ہے۔ اس بات کا اظہار جینوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل کے ایک اجلاس منعقدہ ستمبر 2015میں آزاد جموں و کشمیر کے رہنماؤں نے کیا۔ یہی قوانین معصوم نہتے کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم ماورائے عدالت قتل، اغوا اور عصمت دری جیسے گھناؤنے کھیل کھیلنے کے لئے بھارت کو جواز مہیا کرتے ہیں۔ کشمیری عوام جو کہ ایک طویل عرصے سے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور پرامن احتجاج کے ذریعے دنیا کو بھارتی جارحیت اور اپنی آزادی کے حصول کی تگ و دو سے آگاہ کر رہے ہیں، وہ کسی صورت بھی اپنے حقِ آزادی سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *