کا ہونے کا اعزاز بہرکیف اسے حاصل تھا۔ حال ہی میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد عالمی حالات میں جو غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی اسلام آباد اس میں امن کا داعی بن کر سامنے آیا ۔ اب مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سیپاکستان کی عسکری سفارت کاری کے مثبت اثرات مذید نکھر کر سامنے آئیں گے ۔ ہماری دفاعی صنعت کو مذید فروغ ملے گا۔ ترکیہ کے تجربات سے پاکستان اعلانیہ فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔ مشترکہ دفاعی تعاون کے ساتھ انٹیلی جنس کی سطح پر بھی پر تینوں ممالک ایک دوسرے کے مذید قریب آئیں گے ۔ ہماری سیکورٹی فورسز فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج سے موثر انداز میں نمٹ رہی ہیں یہ معاہدہ ہمارے عزم کو مذید تقویت دے گا۔ پاکستان اور سعودی عرب میں پہلے سے موجود دفاعی معاہدے میں ترکیہ کی شمولیت مقدس مقامات کی حفاظت یقینی بنائے گی ۔ اب ترکیہ کی دفاعی صلاحیت سعودی عرب کے کی حفاظت میں پیش پیش نظر آئے گی ۔ سعودی عرب اور ترکیہ اپنی دفاعی صنعت کو جدید بنانے کی جانب تیزی سے پیشرفت کرسکتے ہیں۔ سعودی عرب اپنی دفاعی صلاحیت کو بہتر بنا کر بیرونی ممالک پر انحصار کم کرے گا۔ پاکستان اور ترکیہ ڈرون ٹیکنالوجی میں نمایاں پیش رفت کے حامل ہیں ۔ سعودی عرب کا تعاون اس ٹیکنالوجی کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔ معاہدے کے نتیجہ میں خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہوسکتا ہے یعنی مسلم دنیا میں اجتماعی دفاع کا تصور عملی شکل میں آگے بڑھتا ہوا دکھائی دے رہاہے ۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ مصر سمیت دیگر مسلم ممالک بھی اس دفاعی معاہدے میں شامل ہوسکتے ہیں۔ایسا ممکن ہے کہ جاری پیش رفت کے نتیجے میں مستقبل میں کسی دشمن کا کسی اسلامی ریاست کے خلاف جارحیت کا منصوبہ آسانی سے پایہ تکیمل کو نہ پہنچ سکے۔ مذکورہ معاہدہ مشرق وسطی میں امریکی سیکورٹی کے کردار کے متبادل کے طور پر بھی دیکھاجا رہا ہے ۔ حالیہ ایران امریکہ جنگ میں جس طرح تہران نے مشرق وسطی میں موجود امریکی فوجی تنصبیات کو کامیابی سے نشانہ بنا یا ا س نے واشنگٹن کوسالانہ اربوں ڈالر دینے والے مسلم ممالک کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے ۔ ایران سے جاری کشیدیگی کے دوران امریکی اسلحہ کم پڑ جانے کی اطلاعات نے بھی دنیا کی اکلوتی سپرپاور ہونے کی دعوی دار مملکت کا بھرم توڈ کرکے رکھ دیا ۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو ایسی شروعات کا نام بھی دیا جاسکتا ہے جس میں طاقت کا نیا توازن نمودار ہوجائے ۔ روس یوکرین جنگ کے بعد امریکہ ایران لڑائی نے اقوام عالم کو اس چیلنج کے سامنے لاکھڑا کیا ہے کہ دفاعی صلاحیت کو جدید اور مضبوط کیسے بنایا جائے۔ ادھر گذشتہ سال پاکستان اور بھارت کی مختصر مگر اہم جنگ نے بھارت کے علاقائی عسکری قوت ہونے کا تاثر پامال کرکے رکھ دیا ۔ یقینا بھارتی جارحیت کا پاکستان کی جانب سیبھرپور جواب نہ صرف نئی دہلی کے لیے حیران کن تھا بلکہ علاقائی اور عالمی طاقتوں کے لیے بھی کئی لحاظ سے غیر متوقع رہا۔ ہماری تینوں مسلح افواج نے ثابت کردکھایا کہ وہ اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو موثر انداز میں سبق سیکھانے کی صلاحیت اور اہلیت رکھتی ہیں ۔ آج وزیر اعظم شبہازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان تیزی سے کامیابی کی منازل طے کررہا ہے ۔ ا سے قبل ہونیوالے پاکستان اور سعودی عرب دفاعی معاہدے میں بھارت میں صف ماتم بچھ گی تھی ۔ اب اس معاہدے میں ترکیہ کی شمولیت نئی دہلی کیلئے کسی ڈراونے خواب سے کم نہیں ۔ سعودی عرب میں لاکھوں بھارتی روزگار کے سلسلہ میں مقیم ہیں جو قابل زکر زرمبادلہ اپنے ملک بھیجتے ہیں ۔ زیادہ پرانی بات نہیں جب سعودی عرب نے بھارت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم ظاہر کیا تھا۔ بلاشب عالمی تعلقات میں یہ توقع کرنا خلاف حقیقت ہوگا کہ کسی ایک ملک کے ساتھ تجارتی تعلقات کسی دوسری ریاست کے ساتھ معاشی مفادات کی قیمت پر قائم کیے جائیں ۔ اگر مگر مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ جہاں بھارت کیلئے کسی طور پر نیک شگون نہیں سمجھا جارہا وہی پاکستان کیلئے استحکام ترقی اور سفارت کاری کے نئے مواقع لے کر آیا ہے۔ بقول اقبال
کھول آنکھ ، زمیں دیکھ ، فلک دیکھ فضا دیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں