بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 14.8°C
Thursday, 29 October 2026 | پاکستان: 19 جمادی الاول 1448

کیا بچوں کی تربیت ضروری ہے یا مصنوعی ذہانت کا استعمال سکھانا

Thursday, 29 October, 2026

کیااچھا شہری بنے کیلیے بچوں کی تربیت ضروری ہے یا بچوں کو مصنوعی ذہانت ضروری ہے۔سنا کرتے تھے کہ بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے مگر اب نہیں۔ اب ماں کی درسگاہ کی جگہ گھریلو نوکرانیوں نے لے لی ہے۔ بچے کی ماں جب تک کام سیگھر نہیں پہنچتی نوکرانی ہی بچیکو کھلاتی پلاتی اور سکھاتی ہے۔ اج کے بچے ان حالات میں جواں ہو کر جو گل کھلا رہے ہیں وہ اب ہمارے سامنے ہیں۔ورنہ جب جائنٹ فیملی سسٹم ہوا کرتا تھا جس میں نوکرانی نہیں دادی نانی بچوں کا خیال رکھا کرتی تھی۔ اج کا جوڑا اکیلے گھر میں بغیر بزرگوں کے رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ جس سے اس کے فائدے کم نقصانات زیادہ ہیں۔ یہ سچ ہے کہ کسی بھی قوم کے مستقبل کا فیصلہ اس کے ایوانوں، عدالتوں، کارخانوں یا جامعات میں نہیں، بلکہ بڑی حد تک ان درس گاہوں میں ہوتا ہے جہاں بچے زندگی کا پہلا سبق سیکھتے ہیں۔ یہ سچ ہیپہلی سے پانچویں جماعت تک کا زمانہ بچے کی شخصیت کی تعمیر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارے ہاں تعلیم کو اکثر کتابیں یاد کرنے، امتحان میں اچھے نمبر لینے اور اگلی جماعت میں ترقی حاصل کرنے تک محدود کر دیا گیا ہے۔والدین کی خوشی بچے کے نمبروں سے وابستہ ہو چکی ہے اور اسکول کی کامیابی کا پیمانہ امتحانی نتائج بن جاتے ہیں۔تعلیم کا اصل مقصد صرف ذہین طالب علم پیدا کرنا نہیں، بلکہ ایسے شہری تیارکرنا ہے جو سچ بولیں، دوسروں کیحقوق کا احترام کریں، اپنی ذمہ داری سمجھیں، اختلاف برداشت کریں اور مشکل حالات میں درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھیں ۔ابتدائی عمر میں بچوں کو محبت کھیل، زبان، سوال کرنے کے مواقع اور مثبت رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ بچہ صرف استاد کے لیکچر سے نہیں سیکھتا، بلکہ اپنے تجربات، مشاہدات، کھیل اور بڑوں کے رویوں سے بھی بہت کچھ سیکھتا ہے۔بچوں کو اپنی عمر کے مطابق چھوٹی چھوٹی ذمہ داریاں دینا بھی ضروری ہے۔جیسے اپنا بستہ تیار کرنا، کتابیں سنبھالنا، کلاس روم کو صاف رکھنے میں حصہ لینا، پودوں کو پانی دینا اور ساتھیوں کی مدد کرنا بظاہر معمولی کام ہیں، لیکن یہی عادات آگے چل کر ذمہ دار شہری بننے میں مدد دیتی ہیں۔جاپان میں تعلیم کے ساتھ تربیت بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔جاپان کے بہت سے اسکولوں میں بچے اپنی جماعت اور مشترکہ جگہوں کی صفائی میں حصہ لیتے ہیں۔ بچوں کو اجتماعی سرگرمیوں، وقت کی پابندی، نظم و ضبط اور دوسروں کی ذمہ داریوں کا احترام کرنے کے مواقع دیے جاتے ہیں۔ پاکستان کو جاپان کی اچھی روایات سے ضرور سیکھنا چاہیے۔ ہمارے اسکولوں میں بھی صفائی، نظم و ضبط، اجتماعی ذمہ داری اور خود انحصاری کو عملی سرگرمیوں کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ بچوں کو صرف یہ نہ بتایا جائے کہ صفائی نصف ایمان ہے، بلکہ انہیں اپنے ماحول کو صاف رکھنے کی عملی تربیت بھی دی جائے۔ پہلی جماعت کے بچے کو زبان، بنیادی حساب، آداب، اعتماد اور اپنے جذبات کا اظہار سکھانا چاہیے۔ دوسری جماعت میں تعاون، دوسروں کی مدد اور چھوٹی ذمہ داریوں پر توجہ دی جا سکتی ہے۔ تیسری جماعت میں سائنسی مشاہدے، سوال کرنے اور آسان تجربات کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ چوتھی جماعت میں تحقیق، دلیل اور معلومات کی تصدیق کی عادت پیدا کی جائے، جبکہ پانچویں جماعت تک بچے کو ڈیجیٹل دنیا، آن لائن حفاظت، بنیادی سائنسی سوچ سے واقف کرانا مفید ہوگا۔ دنیا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ بچے بھی اس ٹیکنالوجی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ کیا پہلی سے پانچویں جماعت کے بچوں کو AI سکھانا چاہیے؟ میری رائے میں بچوں کو اس ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر دور رکھنا بھی درست نہیں اور کم عمری ہی میں اس کا عادی بنا دینا بھی مناسب نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اے آئی کا تعارف عمر، ذہنی استعداد اور تعلیمی ضرورت کے مطابق کرایا جائے۔پہلی اور دوسری جماعت میں بچے کو بنیادی طور پر زبان، کتاب، کھیل، مشاہدے اور عملی تجربات کے ذریعے سیکھنے کا موقع ملنا چاہیے۔ کمپیوٹر سوالوں کے جواب دینے میں مدد کرتا ہے، لیکن اس کی ہر بات درست نہیں ہوتی۔تیسری جماعت میں استاد کی نگرانی میں بچوں کو یہ دکھایا جا سکتا ہے کہ اے آئی کسی جانور، پودے یا نظامِ شمسی کے بارے میں معلومات کیسے فراہم کرتا ہے۔ پھر بچے کتاب اور استاد کی مدد سے ان معلومات کی تصدیق کریں۔ چوتھی اور پانچویں جماعت میں اے آئی کو ایک معاون تعلیمی وسیلے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مثلا مشکل لفظ کا آسان مطلب سمجھنا، ریاضی کے سوال کے مختلف مراحل جاننا ۔لیکن یہاں ایک بنیادی اصول یاد رکھنا ضروری ہے: بچے کا اپنا ذہن AI کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ اگر بچہ ہر سوال کا جواب مشین سے حاصل کرے گا، ہر مضمون اسی سے لکھوائے گا اور خود سوچنے کی کوشش نہیں کرے گا تو ٹیکنالوجی اس کی مدد کرنے کے بجائے اس کی آزادانہ سوچ کو کمزور کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ مصنوعی ذہانت غلط معلومات بھی دے سکتی ہے۔ اس لیے بچوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ کسی جواب کو قبول کرنے سے پہلے اسے کتاب، استاد یا قابلِ اعتماد ذریعے سے جانچنا چاہیے یاد رہیاستاد کی جگہ مشین نہیں لے سکتی ۔یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مصنوعی ذہانت معلومات فراہم کر سکتی ہے، لیکن بچے کو انسان بننے کی تربیت اس سے نہیں ملتی۔ بچے کو استاد کے کردار، والدین کی محبت، دوستوں کے ساتھ میل جول، کھیل، عملی تجربات اور معاشرتی تعلقات کی ضرورت رہتی ہے۔بچے کو احترام کا حقیقی سبق اس وقت ملے گا جب بچہ اپنے سے کمزور شخص کے ساتھ اچھا سلوک ہوتے دیکھے گا۔اسی لیے ٹیکنالوجی کو تربیت کا متبادل نہیں سمجھا جائے ، بلکہ ایک معاون وسیلہ سمجھنا چاہیے۔اس کام کیلیے ہر شہری کو اپنا حصہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ جیسے اسلام آباد میں ایک شہری صائمہ بتول جعفری اپنے ساتھیوں کی مدد سے ایف ٹن سروس روڈ کے گرین بیلٹ میں عام بچوں کو ننگے پاں بیڈ منٹن نہ صرف سکھاتے ہیں بلکہ مقابلے بھی کراتے ہیں۔یہ سلسلہ کافی عرصہ سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس سال بھی اس کھلی جگہ پر جیتنے والوں میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔ اس مرتبہ مہمان خصوصی ڈاکٹر اکرام علی ملک چیرمین فیڈرل بورڈ انٹرمیڈیٹ سیکنڈری ایجوکیشن۔ اسلام آباد تھے۔ اس موقع پر اپ نے کھیلنے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے۔آپ سب سے ملے اور مشورے دئے اور لئے بھی۔ بیڈ منٹن آزادی کا فیسٹیول تین دن جاری رہا۔ صائمہ بتول شجر کاری مہم میں بھی بچوں کے ساتھ ملکر پھل دار پودے لگا چکی ہیں۔ لگاتی رہتی ہیں۔ملک کیہر قسم کے ایونٹ کو اجاگر کرتی رہتی ہیں۔ اس موقع پر شہر کی اعلی شخصیات اپ کا ساتھ دیتی ہیں۔ سچ کہا ہے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔اج کا یہ کالم ان سے متاثر ہو کر لکھا ہے۔جس طرح یہ بچوں کا خیال کرتے ہوئے انہیں اچھا شہری بنانے کی کوشش کرتی ہیں اپ کو بھی اس میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے بچوں کو اچھی تربیت دینے میں شامل ہوں ۔آج کا بچہ محض ایک طالب علم ہی نہیں، بلکہ مستقبل کا سیاست دان، سائنس دان، جج، وکیل، ڈاکٹر، استاد اور حکمران ہے۔ ہمیں ایسے بچے تیار کرنے ہیں جو کمپیوٹر استعمال کرنا جانتے ہوں، مگر اس کے غلام نہ بنیں جو سائنس کو سمجھتے ہوں، مگر اخلاق کو نہ بھولیں جو ذہین ہوں مگر دوسروں کو حقیر نہ سمجھیں اور جو کامیاب ہوں مگر اپنی ذمہ داریوں سے منہ نہ موڑیں۔اے آئی ہمیں مستقبل کی رفتار دے سکتی ہے، سائنس ہمیں سوچنے کا طریقہ سکھا سکتی ہے، لیکن ایک بہتر انسان بنانے کیلئے محبت، تربیت، کردار بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اور یہی وہ تعلیم ہے جس کی پاکستان کو اشد ضرورت ہے، اور یہی وہ سرمایہ ہے جس پر کسی قوم کا حقیقی مستقبل تعمیر ہوتا ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *