بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 25.7°C
Friday, 12 June 2026 | پاکستان: 27 ذوالحجۃ 1447

گردے کی بیماری اور ہیٹ سٹوک سے بچاو ¿

Saturday, 1 July, 2023

یہ عادت ہے کہ ہر کال کو سننے کی کوشش ضرور کرتا ہوں اگر مصروفیات کی وجہ سے کال اٹینڈ نہ ہو تو جوابا فون ضرور کرتا ہوں ۔ آج بھی ایک اجنبی نمبر سے پیار بھری کال آئی ۔ یاد آیا کالر سے دوسال قبل روڈ پر حادثاتی ملاقات ہوئی تھی ۔وہ صاحب فیملی کے ساتھ مری جا رہے تھے ، راستے میں انکی کار کا ٹائر پنچر ہو گیا ۔عام کار ہوتی تو یہ کوئی مسئلہ نہ تھا لیکن لگثری گاڑی میں ایشو ہو جاتا ہے ۔یہ ٹائر خاص چاپی سے کھلتا ہے وہ چاپی ان صاحب کے پاس نہ تھی ۔پھر کیا تھا پریشانی میں خود گاڑی سے باہر کھڑے تھے۔ میں نے کار روک کر پوچھا کیا کسی مدد کی ضرورت ہے کہا یہاں کوئی میکنک کی شاپ ہے ۔ غرض انہیں میکنک کے پاس لے گیا ۔اس نے کہا سر جب تک چابی نہیں ہو گی اپ کا مسلہ حل نہیں ہو سکتا ۔ کہا لاہور سے گھر والے چاپی لیکر چل پڑے ہیں چار گھنٹے گزارنے مشکل ہیں ۔کہا اگر ہمیں کسی ہوٹل میں ڈراپ کر دیں تو مشکور ہوں گا۔ پھر میں نے ایسا ہی کیا ۔ میرا نمبر لیا بتایا کہ میں برطانیہ میں معالج ہوں ۔
اس حادثاتی ملاقات کو دوسال ہو چکے تھے آج جب فون آیا تو مجھے کھانے پر گپ شپ کے لئے بلا لیا۔ میں نے بتایا کہ وکالت کے ساتھ کالم بھی لکھتا ہوں کہا کبھی گردوں کی بیماری پر بھی لکھیں جو پاکستان میں عام ہے پھر اس پر ان سے سیر حاصل گفتگو ہوئی جو کچھ بیان کیا وہ انکا ذاتی تجربہ تھا۔ میرے لئے یہ اہم اس لئے تھا کہ میری امی جان اللہ کوپیاری ان گردوں کی وجہ سے ہوئی تھیں ۔لہذا ضروری سمجھا کہ عام ادمی کو معلومات دی جائے۔ بتایا کہ اگر آپ خواہش رکھتے ہیں کہ گردے کی بیمار ی کا شکار نہ ہوں تو اس کیلئے ضروری ہے کہ آپ پیشاپ کی حاجت محسوس کرتے ہی واش روم چلے جائیں ۔اگر لیٹ کریں گے تو یورین کا بلیڈر کمزور ہوتا جائے گا ۔یورین بلیڈر میں دیر کے بعد اس میں بکٹریا پیدا کر دیتا ہے جوگردے کی بیماریاں کو جنم لیتا ہے۔جب یورین واپس کنڈنی کی طرف جاتا ہے تو گردوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔لہذا ایسے نہ ہونے دیں ۔ نمک کا استعمال کم کریں ۔نمک سے بلڈ پریشر زیادہ ہوتا ہے اس سے گردوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ کہا گوشت کا استعمال کم کریں خوارک میں بہت زیادہ پروٹین بھی گردوں کے لئے خطرناک ہے۔سوڈا بھی کیفین کی وجہ بھی گردوں کے لئے خطرناک ہے ۔اس سے پرہیز کریں!کہا کم پانی پینے کی عادت گردوں کو خراب کرتی ہے۔ روز کم از کم دس گلاس پانی کے پینا لازم ہیں۔ صبح اور دن کے اوقات میں پانی زیادہ پیا کریں اور رات کو کم۔ سات بجے کے بعد کھانا کم کھائیں ۔کبھی بھی ٹھنڈے پانی سے میڈیسن نہ لیں ۔ کھانے کے فوری بعد اور میڈیسن لینے کے فوری بعد سویا نہ کریں۔پوچھا آجکل سخت گرمی ہے ۔اکثر لوگ گرمی برداشت نہیں کر پاتے اور مر جاتے ہیں۔ اس پر بطور معالج کیا کہیں گے! کہا ہم سب دھوپ میں گھومتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کو دھوپ کی لو لگ جانے کی وجہ سے اچانک موت واقع ہو جاتی ہے۔
اس لئے کہ ہمارے جسم کا درجہ حرارت ہمیشہ 37 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے، اس درجہ حرارت پر ہی ہمارے جسم کے تمام اعضاء صحیح طریقے سے کام کر تے ہیں۔پسینے کے طور پر پانی باہر نکال کر جسم 37 سینٹی گریڈ درجہ حرارت برقرار رکھتا ہے، مسلسل پسینہ نکلتے وقت پانی پیتے رہنا انتہائی مفید اور ضروری ہے. اس کے علاوہ بھی پانی بہت کارآمد ہے، جسم میں پانی کی کمی ہونے پر ہمارا جسم پسینے کے ذریعے ہونے والے پانی کے اخراج کو روکتا ہے. جب باہر درجہ حرارت 45 ڈگری سے زائد ہو جاتا ہے اور جسم کا کولنگ سسٹم رک جاتا ہے، تب جسم کا درجہ حرارت 37 ڈگری سے زیادہ ہونے لگتا ہے لیکن جب جسم کا درجہ حرارت 42 سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے تب خون گرم ہونے لگتا ہے اور خون میں موجود پروٹین پکنے لگتا ہے۔اس دوران سانس لینے کے لئے ضروری پٹھے بھی کام کرنا بند کر دیتے ہیں.جس سے جسم کا پانی کم ہو جانے سے خون گاڑھا ہونے لگتا ہے، بلڈ پریشر بھی کم ہو جاتا ہے، دماغ تک خون کی رسائی رک جاتی ہے اور انسان کوما میں چلا جاتا ہے اور اس کے جسم کے ایک کے بعد ایک عضو کام کرنا بند کر دیتے ہیں، اور اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔گرم موسم میں مسلسل پانی پیتے رہنا چاہئے، اس سے ہمارے جسم کا درجہ حرارت 37 برقرار رہ پائے گا۔ درجہ حرارت 40 ڈگری کے آس پاس ہوگا تو موسم کی یہ سختی جسم میں پانی کی کمی اور لو لگنے والی صورتحال پیدا کرتی ہے۔ خود کو پانی کی کمی میں مبتلا ہونے سے بچائیں.۔بلا ناغہ کم از کم 3 لیٹر پانی ضرور استعمال کریں۔ گردے کی بیماری والے کم از کم 6 سے 8 لیٹر پانی پینے کی کوشش کیا کریں۔ جہاں تک ممکن ہو بلڈ پریشر پر نظر رکھیں۔کسی کو بھی لو لگنا یعنی ہیٹ اسٹروک ہو سکتا ہے.ٹھنڈے پانی کا شاور لیں . گوشت کا استعمال بند یا کم از کم کریں. پھل اور سبزیاں کھانے میں زیادہ استعمال کریں.گرمی کی لہر کو سنجیدہ لیں. ایک غیر استعمال شدہ موم بتی کو کمرے سے باہر رکھیں، اگر موم بتی پگھل جاتی ہے تو یہ سنگین صورت حال ہے۔
سونے کے کمرے اور دیگر کمروں میں 2 نصف پانی سے بھرے اوپر سے کھلے برتنوں کو رکھ کر کمرے کی نمی برقرار رکھی جا سکتی ہے .۔ایسا کرنے سے بھی گرمی سے بچا جا سکتا ہے۔کھانے پینے اور رہنے میں احتیاط بھرتنے میں تندرست رہ سکتے ہیں۔

رائے کا اظہار کریں

ضروری خانے * سے نشان زد ہیں