پاکستان کی سیاست میں بعض اوقات ایسے موڑ آتے ہیں جب سیاسی اختلاف محض سیاسی اختلاف نہیں رہتا بلکہ قانونی اور آئینی سوال بن جاتا ہے۔ قومی سیاست ہو یا وکلا کی باروں کی سیاست کرنے والے نہ قانون کی پرواہ کرتے ہیں اور نہ آئین کی۔ یہ پرواہ صرف اپنی اور اپنے خاندان کی کرتے ہیں۔یہ پرواہ کرتے ہیں پیسوں کی۔ نہ یہ لوگ قانون کو مانتے ہیں اور نہ آئین کو۔ اس موضوع پہ پھر کبھی قلم کا استعمال کرتے ہوئے لکھنے کی کوشش کروں گا۔ ان سیاسی فنکاروں سے اتنی سے عرض کروں گا کہ کچھ شرم ہوتی ہے کچھ حیا ہوتی ہے۔ لیکن جہاں قانون نہیں ہوتا آئین نہیں ہوتا وہاں یہی کچھ ہوتا ہے جو ہو رہا ہے۔ آج خیبر پختونخوا کے حوالے سے بھی ایک بنیادی سوال زیرِ بحث ہے کہ کیا صوبے میں ایسے حالات پیدا ہو چکے ہیں کہ گورنر راج ناگزیر ہو جائے، یا آئین کے اندر رہتے ہوئے صوبائی حکومت چلانے کے ابھی دوسرے راستے موجود ہیں؟ اس سوال کا جواب جذبات، سیاسی نعروں یا بیانات سے نہیں بلکہ آئینِ پاکستان سے تلاش کرنا چاہیے۔ گورنر راج کب لگ سکتا ہے؟آئین پاکستان کا آرٹیکل 234اس صورتِ حال سے متعلق ہے جب صوبے میں آئینی مشینری ناکام ہو جائے۔ اگر صدرِ پاکستان اس بات سے مطمئن ہوں کہ ایسی صورت پیدا ہو گئی ہے جس میں صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا رہی یا سکتی تو صدر ایک فرمان جاری کر سکتے ہیں۔یہ اقدام گورنر کی رپورٹ کی بنیاد پر بھی ہو سکتا ہے لیکن یہاں ایک بنیادی قانونی نکتہ سمجھنا ضروری ہے محض سیاسی اختلاف، وفاق اور صوبے کی کشیدگی، احتجاج، دھرنا یا امن و امان کی خرابی اپنے آپ میں آرٹیکل 234 کے نفاذ کا خودکار جواز نہیں بنتی اس میں اصل سوال یہ آتا ہے کہ کیا حالات اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ صوبائی حکومت کو آئین کے مطابق چلانا ممکن نہیں رہا ؟ یہ ایک بہت بڑا آئینی معیار ہے۔کیا دہشت گردی گورنر راج کا خود کار جواز ہے؟ خیبر پختونخوا کو گزشتہ کئی برسوں سے دہشتگردی اور امن و امان کے سنگین مسائل کا سامنا ہے لیکن آئینی اعتبار سے دہشت گردی اور گورنر راج کو ایک ہی چیز سمجھنا درست نہیں۔ اگر امن و امان کا مسئلہ شدید ہو تو آئین اور قانون میں دوسرے انتظامات بھی موجود ہیں۔ اسی طرح آرٹیکل 232 کے تحت ایسی غیر معمولی صورتِ حال میں ایمر جنسی کا آئینی راستہ موجود ہے جب اندرونی بدامنی صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو جائے۔اس لیے ہر بدامنی کو لازماً گورنر راج کا نام دینا آئینی بحث کو سادہ بنا دینے کے مترادف ہوگا۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا وزیراعلیٰ کی اکثریت اہم ہے؟ادب سے جواب یہ ہے کہ بالکل اہم ہے۔ آئین میں صوبائی حکومت کی بنیاد اسمبلی کی اکثریت پر ہے۔اگر کسی وزیراعلیٰ کی اکثریت کے بارے میں سوال پیدا ہو تو اس کا ایک آئینی راستہ اعتماد کا ووٹ لینا ہوتا ہے۔اسی طرح اسمبلی کے اندر تحریکِ عدم اعتماد بھی ایک آئینی راستہ ہے۔یعنی اگر مسئلہ یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ کے پاس اب اکثریت نہیں رہی تو پہلے یہ سوال اسمبلی کے اندر حل کیا جا سکتا ہے یہی پارلیمانی جمہوریت کا بنیادی اصول ہے کہ حکومت کا وجود اسمبلی کے اعتماد سے وابستہ ہو۔ سوال یہ ہے کہ گورنر راج کو آخری راستہ کیوں سمجھا جاتا ہے؟ اس لیے کہ صوبائی حکومت عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے وجود میں آتی ہے۔گورنر راج میں صوبے کے منتخب انتظامی نظام کے اختیارات غیر معمولی آئینی طریقے سے منتقل ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے آئین نے اس اختیار کو غیر محدود نہیں رکھا لہٰذا آرٹیکل 234 کے تحت اس فرمان کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے۔ اس کی مدت بھی آئینی حدود کے تابع ہے اور اسے مستقل انتظام کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ گورنر راج کو سیاسی اختلافات کا معمول کا حل سمجھنا آئینی تصور سے مطابقت نہیں رکھتا۔کے پی کے کی موجودہ صورتحال اور موجودہ سیاسی ماحول میں وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان اختلافات، امن و امان کی صورتحال اور سیاسی کشیدگی کے باعث گورنر راج کا معاملہ زیرِ بحث ہے کہ کیا وفاقی حکومت کے بعض ذمہ داران کی طرف سے یہ موقف سامنے آیا کہ گورنر راج کے لیے قانونی بنیاد موجود ہے، جبکہ دوسری جانب وفاقی سطح سے یہ موقف بھی سامنے آ چکا ہے کہ فوری طور پر گورنر راج نافذ کرنے کا ارادہ نہیں۔اس لیے آج کی تاریخ میں یہ کہنا کہ گورنر راج لازما ًلگے گا ایک سیاسی پیش گوئی ہوگی، آئینی نتیجہ نہیں۔ آئینی طور پر اصل سوال یہ ہے کہ کیا آرٹیکل 234 میں بیان کردہ وہ مخصوص صور تحال حقیقتاً وہاں موجود ہے جس میں صوبائی حکومت آئین کے مطابق چلانا ممکن نہ رہا تو اگر صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان اختلاف ہے تو مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ اگر وزیر اعلیٰ کی اکثریت پر سوال ہے تو اسمبلی کا فورم موجود ہے۔ اگر وزیراعلیٰ اعتماد کھو چکے ہیں تو عدم اعتماد کی آئینی کارروائی موجود ہے۔اگر امن و امان کا مسئلہ ہے تو آئینی اور قانونی ادارے اپنے اپنے دائر اختیار میں کارروائی کر سکتے ہیں۔اور اگر صورتِ حال واقعی اس نہج تک پہنچ جائے کہ آئینی مشینری ناکام ہو جائے تو پھر آئین کا آرٹیکل 234اپنا کردار ادا کر سکتا ہے یعنی آئین نے صرف ایک دروازہ نہیں رکھا ہوتابلکہ یہ کئی آئینی راستے فراہم کرتا ہے۔ اصل امتحان سیاست کا نہیں، آئین کا ہے پاکستان کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب سیاسی بحران آئینی حدود سے باہر نکلتا ہے تو نقصان صرف حکومت یا ایک جماعت کا نہیں ہوتا، پورے نظام کا ہوتا ہے۔ لہذا خیبر پختونخوا کے موجودہ حالات میں بھی اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ گورنر راج کس کے حق میں ہے یا کس کے خلاف؟اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا آئین کا آرٹیکل 234 اپنی تمام شرائط کے ساتھ پورا ہوتا ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو آئین اپنا راستہ دکھاتا ہے۔اگر جواب نہ میں ہے تو پھر اسمبلی، اعتماد کا ووٹ، عدم اعتماد، مذاکرات اور دیگر آئینی ذرائع موجود جمہوریت کی خوب صورتی یہی ہے کہ اختلاف کو حکومت ختم کرنے کے بجائے آئینی طریقے سے حل کیا جانا ضروری ہے آخر میں خیبر پختونخوا ہو یا پاکستان کا کوئی دوسرا صوبہ، منتخب حکومت کو تبدیل کرنے کا اختیار کسی سیاسی خواہش سے نہیں بلکہ آئین سے پیدا ہوتا ہے۔ گورنر راج کوئی سیاسی ہتھیار نہیں بلکہ آئینی مشینری کی ناکامی کی صورت میں ایک غیر معمولی انتظام ہے۔اس لیے فیصلہ بیانات کی بنیاد پر نہیں بلکہ آئین کی زبان، زمینی حقائق اور پارلیمانی عمل کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ آج خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا سوال ضرور موجود ہے، لیکن یہ کہنا کہ گورنر راج ضرور لگے گا،ایسا کہنا قبل از وقت ہوگا۔پاکستان کے آئین میں ابھی بھی کئی راستے موجود ہیں اور شاید جمہوریت کی اصل طاقت بھی یہی ہے کہ بحران کا حل آئین کے اندر تلاش کیا جائے، آئین سے باہر نہیں۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں