گوگل کا پاکستان میں باقاعدہ دفتر کھلنا صرف ایک بڑی کمپنی کے دفتر کا افتتاح نہیں، بلکہ ہمارے نوجوانوں کیلئے ایک بڑا موقع بن سکتا ہے۔ پاکستان میں لاکھوں نوجوان مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر، فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور نئی ٹیکنالوجی سیکھ رہے ہیں، مگر اکثر انہیں عالمی کمپنیوں اور مواقع تک براہِ راست رسائی نہیں ملتی۔ یہ وہ کڑوا سچ ہے جس کا سامنا ہر دوسرے نوجوان کو ہے۔ لیپ ٹاپ ہے، انٹرنیٹ ہے، ہنر بھی ہے، مگر کلائنٹ باہر کا ہے، ادائیگی کا مسئلہ ہے، اور عالمی کمپنیوں سے رابطے کا کوئی پل نہیں۔ اب یہ پل بنتا دکھائی دے رہا ہے۔آخر ہوا کیا ہے؟
گزشتہ کچھ ماہ سے جو خبریں گردش کر رہی تھیں، اب وہ سرکاری سطح پر تصدیق ہو چکی ہیں۔ وفاقی وزیرِ آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ کے مطابق گوگل نے پاکستان میں اپنی رجسٹریشن مکمل کر لی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہری پور میں ٹیک ویلی پاکستان اور این آر ٹی سی کے اشتراک سے گوگل کروم بکس کی مقامی اسمبلی شروع کر دی گئی ہے، جہاں سالانہ تقریبا 6 لاکھ کروم بکس تیار کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اور سب سے اہم بات، کمپنی جولائی 2026 میں پاکستان میں اپنا باقاعدہ دفتر کھولنے جا رہی ہے۔گوگل کی جانب سے خود بھی یہ بات کہی گئی ہے کہ اس نے پاکستان میں کاروباری مواقع تلاش کرنے، اپنی مصنوعات کو مقامی مارکیٹ میں بہتر بنانے اور پاکستان کے تیزی سے بڑھتے ہوئے ٹیکنالوجی کے ماحولیاتی نظام کو سپورٹ کرنے کے لیے رابطہ دفتر قائم کیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق گوگل کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں مصنوعی ذہانت کی تربیت، استعدادِ کار میں اضافہ، اور زراعت و صنعت جیسے اہم شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ پی@شا کی نائب صدر نے بھی اسے پاکستان کی آئی ٹی صنعت کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا ہے۔یہ محض ایک دفتر نہیں، یہ ایک اعتماد کا ووٹ ہے۔اگر گوگل کی موجودگی آگے بڑھتی ہے تو عام پاکستانی کو کیا ملے گا؟ اس سوال کا جواب 5 یا 6 نکات میں نہیں، ایک پورے مستقبل میں چھپا ہے۔
نوکری سے بڑھ کر کیریئر:اب تک ہمارا نوجوان فائیور اور اپ ورک پر کلائنٹ ڈھونڈتا ہے۔ گوگل کے آنے کا مطلب ہے کہ اب پاکستان میں گوگل کلاڈ، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت کی انجینئرنگ، فروخت اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی براہِ راست نوکریاں پیدا ہوں گی ۔ سب سے بڑھ کر پاکستانی انجینئرز کو بیرونِ ملک جائے بغیر عالمی منصوبوں میں کام کرنے کا موقع ملے گا۔ یہ ذہین افرادی قوت کے بیرونِ ملک جانے کے رجحان کو روکنے کا پہلا قدم ہو سکتا ہے۔
ڈگری سے ہنر تک کا سفر:ہمارے یونیورسٹی سسٹم کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم 4 سال پرانی کتابیں پڑھا رہے ہیں، جبکہ دنیا 4 مہینے میں بدل رہی ہے۔ گوگل کے ساتھ گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس، گوگل اے آئی ایسنشلز، کلاڈ کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ایسے پروگرامز آ سکتے ہیں جو یونیورسٹیوں کے نصاب کا حصہ بنیں۔ جب ایک راولپنڈی یا بہاولپور کے طالب علم کو وہی سرٹیفیکیشن ملے گا جو ایک امریکی طالب علم کو ملتا ہے، تو مقابلہ برابر ہو جائے گا۔
سٹارٹ اپس کیلئے آکسیجن:پاکستان میں سٹارٹ اپس آئیڈیا کی کمی سے نہیں، سپورٹ کی کمی سے مرتے ہیں۔ فنڈنگ نہیں، رہنمائی نہیں، کلاڈ کا خرچہ برداشت نہیں ہوتا۔ گوگل کا سٹارٹ اپ فانڈرز پروگرام، کلاڈ کریڈٹس اور ابتدائی سرمایہ کاری کا نیٹ ورک جب یہاں فعال ہوگا تو ایک نوجوان کو اپنا آئیڈیا لے کر دبئی یا سنگاپور نہیں جانا پڑے گا۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد اور پشاور سے ہی وہ دنیا کے سرمایہ کاروں تک پہنچ سکے گا۔
عام دکاندار، کسان اور طالب علم کا فائدہ:ہم سمجھتے ہیں کہ گوگل صرف پروگرامرز کیلئے ہے، ایسا نہیں۔ حکومت اور گوگل کی بات چیت میں زراعت اور صنعت میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا ذکر اسی لیے آیا ہے۔ کل کو ایک کسان اپنی فصل کی تصویر سے بیماری کی تشخیص کر سکے گا، ایک چھوٹا دکاندار گوگل مائی بزنس کے ذریعے اپنی دکان کو گوگل میپس پر لا سکے گا، اور ایک سکول کے بچے کو 6 لاکھ میں سے ایک سستی کروم بک مل سکے گی جو اس کی آن لائن کلاسز کا ذریعہ بنے گی۔
ڈیجیٹل ادائیگیوں اور اعتماد کا مسئلہ:گوگل پے اور یوٹیوب سے آمدنی حاصل کرنے جیسے مسائل سالوں سے پاکستانی فری لانسرز کا مسئلہ ہیں۔ جب گوگل کا باقاعدہ دفتر ہوگا تو حکومت کے ساتھ مل کر ان ضابطہ جاتی مسائل کو حل کرنا آسان ہوگا۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر وزارتِ خزانہ نے ماسٹرکارڈ اور گوگل دونوں سے ڈیجیٹل ادائیگیوں پر بات کی ہے۔
میری خواہش اور اصل چیلنج:میری خواہش یہ ہے کہ بات صرف گوگل کے بورڈ لگنے تک محدود نہ رہے۔ یہاں پاکستانی نوجوانوں کی مصنوعی ذہانت اور انجینئرنگ ٹیمیں بنیں، یونیورسٹیوں کے ساتھ کام ہو، سٹارٹ اپس کو سہارا ملے اور ہمارے ٹیلنٹ کو دنیا تک پہنچنے کا راستہ ملے۔پاکستان میں نوجوان بھی ہیں، صلاحیت بھی اور ایک بہت بڑی ڈیجیٹل مارکیٹ بھی۔ 24 کروڑ کی آبادی، 60 فیصد نوجوان، اور 12 کروڑ انٹرنیٹ صارفین دنیا کی کوئی کمپنی اس مارکیٹ کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔لیکن یہاں ایک بڑا سوالیہ نشان بھی ہے۔
کیا ہم تیار ہیں؟گوگل تو آ گیا، لیکن کیا ہم نے اپنے نوجوانوں کو تیار کیا؟ کیا ہماری یونیورسٹیاں مصنوعی ذہانت پڑھانے کے لیے تیار ہیں یا اب بھی وہی 20 سال پرانے نوٹس چل رہے ہیں؟ کیا ہمارا انٹرنیٹ اتنا مستحکم ہے کہ ایک فری لانسر بغیر بجلی اور نیٹ کے تعطل کے اپنا منصوبہ مکمل کر سکے؟ کیا ہمارا ٹیکس نظام اتنا آسان ہے کہ ایک 22 سالہ لڑکا بغیر وکیل کے اپنی کمپنی رجسٹر کر سکے؟گوگل ایک دروازہ کھول سکتا ہے، اس دروازے سے گزرنا ہمیں خود ہے۔اس کے لیے تین کام فوری کرنے ہوں گے۔ پہلا، حکومت کو چاہیے کہ گوگل کے دفتر کو صرف ایک تشہیری تقریب نہ بنائے بلکہ اس کے ساتھ 10 سالہ ڈیجیٹل شراکت داری کا معاہدہ کرے، جس میں ہر سال ہزاروں اساتذہ کی تربیت اور لاکھوں طلبہ کی سرٹیفیکیشن شامل ہو۔دوسرا، پی@شا اور یونیورسٹیوں کو مل کر اپنا نصاب 6 ماہ کے اندر اپ ڈیٹ کرنا ہوگا۔تیسرا اور سب سے اہم، ہمارے نوجوانوں کو خود شارٹ کٹس چھوڑ کر اصلی ہنر سیکھنا ہوگا۔ چیٹ جی پی ٹی سے پوسٹ لکھوانا ہنر نہیں، مصنوعی ذہانت کے ٹولز بنا کر بیچنا ہنر ہے۔بورڈ تو لگ گیا ہے، اب اصل کام شروع کرنا ہے۔ ذمہ داری صرف گوگل کی نہیں، ہماری بھی ہے۔ کیا حکومت پالیسیوں میں آسانی دے گی؟ کیا یونیورسٹیاں اپنا نصاب بدلیں گی؟ اور کیا ہمارا نوجوان صرف یوٹیوب دیکھنے والا نہیں، بلکہ یوٹیوب اور مصنوعی ذہانت بنانے والا بنے گا؟اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔




تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں