بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Thursday, 13 August 2026 | پاکستان: 2 ر بیع الاول 1448

یومِ آزادی… عزمِ نو کا دن

Thursday, 13 August, 2026

14 اگست پاکستان کی قومی تاریخ کا ایک ایسا یادگار دن ہے جو ہمیں اپنے بزرگوں کی جدوجہد، قربانیوں اور قیامِ پاکستان کے عظیم مقصد کی یاد دلاتا ہے۔ یہ دن محض جشن اور خوشی کا موقع نہیں بلکہ اپنے ماضی کو یاد کرنے، حال کا جائزہ لینے اور مستقبل کیلئے نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کا دن بھی ہے۔پاکستان ایک طویل سیاسی جدوجہد اور بیشمار قربانیوں کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آیا۔ برصغیر کے مسلمانوں نے ایک ایسے وطن کا خواب دیکھا تھا جہاں وہ اپنی تہذیب، اقدار اور مذہبی آزادی کے ساتھ ایک باوقار زندگی گزار سکیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد قوم کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن پاکستانی عوام نے اتحاد، محنت اور عزم کے ساتھ ان چیلنجز کا مقابلہ کیا۔قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں حاصل کیا گیا یہ وطن آج ایک مضبوط اور باوقار ریاست کی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان نے مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ دفاع، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم، زراعت، صنعت اور کھیل سمیت کئی میدانوں میں پاکستانیوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بھی اپنی محنت اور کامیابیوں سے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔تاہم ہر قومی دن ہمیں یہ موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات پر غور کریں۔ پاکستان کو آج بھی معاشی استحکام، روزگار کے مواقع، معیاری تعلیم، بہتر صحت، توانائی اور دیگر شعبوں میں بہتری کی ضرورت ہے۔ یہ مسائل صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کیلئے اجتماعی توجہ کا تقاضا کرتے ہیں۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مستقل مزاجی، بہتر منصوبہ بندی اور قومی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی کی بنیادی ضمانت ہے۔ ہماری آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہی نوجوان پاکستان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ اگر انہیں معیاری تعلیم، جدید ہنر اور روزگار کے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سمیت نئے شعبوں میں مواقع تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے تیار کرنا ہوگا۔اسی طرح صحت کے شعبے میں بھی مسلسل بہتری کی ضرورت ہے ۔ سرکاری ہسپتالوں اور بنیادی مراکزِ صحت کو مزید مثر بنانا، عام شہری کو مناسب طبی سہولتیں فراہم کرنا اور صحت کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا قومی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے ۔ ایک صحت مند قوم ہی اپنی معاشی اور سماجی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں بروئے کار لا سکتی ہے۔معاشی استحکام بھی ملک کے روشن مستقبل کیلئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے پاس قدرتی وسائل، زرعی صلاحیت، باصلاحیت افرادی قوت اور ایک اہم جغرافیائی محلِ وقوع موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان وسائل کو موثر انداز میں استعمال کیا جائے، برآمدات میں اضافہ کیا جائے، سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے اور نوجوانوں کیلئے کاروبار اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں۔قومی ترقی کیلئے سیاسی استحکام اور اداروں کا مضبوط ہونا بھی ضروری ہے۔ جمہوری نظام میں اختلافِ رائے ایک فطری امر ہے لیکن قومی مفاد کے معاملات میں باہمی تعاون اور برداشت کا مظاہرہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں، ریاستی اداروں، میڈیا ، سول سوسائٹی اور عوام سب کو اپنے اپنے دائر کار میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ قومی مسائل کا حل باہمی گفت و شنید اور آئینی و قانونی راستوں سے ہی ممکن ہے۔یومِ آزادی ہمیں شہری ذمہ داریوں کا احساس بھی دلاتا ہے۔ وطن سے محبت صرف قومی پرچم لہرانے اور ملی نغمے سننے تک محدود نہیں۔ قانون کی پاسداری، ٹیکس کی ادائیگی، سرکاری و قومی املاک کا تحفظ، صفائی کا خیال، دوسروں کے حقوق کا احترام اور اپنے فرائض دیانت داری سے ادا کرنا بھی حب الوطنی کی اہم شکلیں ہیں۔ معاشرے میں مثبت تبدیلی اسی وقت آ سکتی ہے جب ریاست کے ساتھ ساتھ شہری بھی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔اس موقع پر قائداعظم کے اس تصور کو بھی یاد رکھنا چاہیے جس میں پاکستان کے تمام شہریوں کیلئے مساوی حقوق اور مذہبی آزادی کی بات کی گئی۔ ایک مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جہاں ہر شہری خود کو محفوظ، باعزت اور ملک کی ترقی میں برابر کا شریک محسوس کرے۔ باہمی احترام، برداشت اور رواداری ہمارے معاشرے کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے ۔ یومِ آزادی دراصل ماضی کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ مستقبل کی تعمیر کا عہد کرنے کا دن ہے۔ ہمیں اپنے ملک کی کامیابیوں پر فخر بھی کرنا چاہیے اور ان شعبوں میں بہتری کیلئے سنجیدہ کوشش بھی کرنی چاہیے جہاں مزید کام کی ضرورت ہے۔آج کا پاکستان کئی چیلنجز کے باوجود بے شمار امکانات رکھتا ہے۔ ہمارے نوجوان باصلاحیت ہیں، ہماری قوم مشکل حالات میں متحد ہو کر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ہمارے پاس ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم مایوسی کے بجائے امید، اختلاف کے بجائے مکالمے اور شکایت کے بجائے عملی کردار کو ترجیح دیں۔اس یومِ آزادی پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنے وطن کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔ حکومت اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں ادا کرے، ادارے مزید مضبوط ہوں اور شہری بھی قومی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔ پاکستان ہماری مشترکہ پہچان اور مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس کی ترقی اور استحکام میں ہی ہم سب کا مستقبل وابستہ ہے۔ یومِ آزادی کا سب سے خوبصورت پیغام یہی ہے کہ ہم اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی تعمیر و ترقی کیلئے متحد ہو جائیں۔
سٹیٹ بینک کاانتباہ
سٹیٹ بینک کا یہ انتباہ کہ ملکی اشیائے خوردونوش کی قیمتیں قریب کی مدت میں توقع سے زیادہ بڑھ سکتی ہیں،فوری توجہ کا مستحق ہے۔اپنی دو سالہ مانیٹری پالیسی رپورٹ میں،بینک نے بجا طور پر نشاندہی کی ہے کہ حالیہ غذائی افراط زر اب صرف گھر پر پیدا نہیں ہو رہا ہے۔یہ تیزی سے پاکستان کے کنٹرول سے باہر کی قوتوں کے ذریعے چلایا جا رہا ہے،خاص طور پر توانائی، کھاد اور مال برداری کے اخراجات کے ذریعے۔ٹرانسمیشن میکانزم سیدھا ہے۔خطے میں جنگ اور خلیج سے گیس کی سپلائی میں رکاوٹیں عالمی توانائی اور کھاد کی قیمتوں کو بڑھا رہی ہیں۔دونوں کاشت کی لاگت اور منڈیوں تک خوراک کی نقل و حمل میں براہ راست خوراک ملتی ہے۔یہ جھٹکا توانائی کی عالمی منڈیوں سے لے کر کھیتی باڑی تک اور آخر کار خوراک کی قیمت تک پہنچتا ہے۔جب تک یہ بازار میں پہنچتا ہے،یہ پہلے ہی بہت سے گھرانوں کے وسائل سے باہر ہو چکا ہوتا ہے۔مزید اہم بات یہ ہے کہ ملک کو توانائی اور کھاد کی اعلی قیمتوں کے ساتھ ساتھ زرعی برآمدات میں کمی کی وجہ سے خوراک کے تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔اس سے کھانے پینے کے مہنگے درآمدی بل کی مالی اعانت کیلئے درکار زرمبادلہ کی کمائی مزید کم ہو جاتی ہے۔بیرونی جھٹکا ان کمزوریوں کو بے نقاب کر رہا ہے جنہوں نے زراعت کے شعبے کو کئی دہائیوں سے دوچار کر رکھا ہے۔ملک کا آبپاشی کا نظام ناکارہ اور ناقص جدید ہے۔پانی کے نقصانات کافی ہیں، ذخیرہ کرنے کی گنجائش ناکافی ہے اور فصلوں کے انتخاب پانی کی زیادہ مقدار میں مرکوز رہتے ہیں۔زراعت کی پیداواری صلاحیت نے آبادی میں اضافے اور آب و ہوا کے اتار چڑھا کے ساتھ رفتار برقرار نہیں رکھی ہے۔چھوٹے کاشتکار خاص طور پر بے نقاب ہوتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کھاد، ایندھن یا ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اچانک اضافے کو جذب کرنے کی محدود صلاحیت ہوتی ہے۔فصل کی ناقص کٹائی یا ان پٹ قیمت کا جھٹکا زیادہ تر کیلئے تیزی سے قرض کا مسئلہ بن سکتا ہے۔آب و ہوا کی تغیر مشکل کو بڑھاتا ہے۔اگلے سال ال نینو ایونٹ کا امکان،جسے سٹیٹ بینک نے جھنڈا دیا ہے ، خوراک کی افراط زر کے نقطہ نظر کو پیچیدہ بناتا ہے۔مبینہ طور پر 46 فیصد آبادی کو بھوک جیسی صورتحال کا سامنا ہے،خوشنودی ایک عیش و آرام کی چیز ہے جسے ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ اشیائے خوردونوش کی افراط زر محض صارفی قیمت کے اشاریہ کا ایک اور جزو نہیں ہے۔غربت، غذائیت اور انسانی سرمائے پر اس کے براہ راست اثرات ہیں۔پاکستان علاقائی جنگوں کو نہیں روک سکتا اور نہ ہی توانائی کی عالمی قیمتوں کا تعین کر سکتا ہے۔تاہم، یہ اس حد تک کم کر سکتا ہے کہ بیرونی توانائی کا جھٹکا گھریلو خوراک کا بحران بن جاتا ہے۔سٹیٹ بینک نے وارننگ جاری کردی ۔ پالیسی سازوں کو اب عمل کرنا چاہیے ۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *