لاہور کے وزٹ میں بنگلہ دیکھا،بتایا گیا کہ یہ کور کمانڈر ہاﺅس ہے۔ وہاں چاک وچوبند سیکورٹی کے دستے بھی نظر آئے!یہ بھی بتایا کہ یہاں چڑیا پر نہیں مار سکتی۔9 مئی کے بعد پتہ چلا کہ وہ بنگلہ تو جناح ہاوس ہے۔ بانی محمد علی جناح نے یہ گھر خود خریدکیا تھا۔ پتہ نہیں کیوں اسے جناح ہاﺅس کے بجائے کور کمانڈر ہاﺅس بنادیا گیا۔اگر اسے بدلنا تھا تو کم از کم چیف آف آرمی سٹاف ہاﺅس بناتے، چیف جسٹس آف پاکستان کی رہائش گاہ بناتےیا محترمہ فاطمہ جناح ڈینٹل سینٹر بنا دیتے ! جہاں عورتوں بچوں کا مفت علاج ہوتا۔ اگر 9 مئی کا واقعہ پیش نہ آتا تو سچ پوچھیں یہ جناح ہاﺅس گم ہی تھا۔اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔یہ کریڈٹ تو کور کمانڈر اور ان کے اہل خانہ کو جاتا ہے جھنوں نے ثابت کیا کہ یہ گھر ہمارا نہیں، سامان بھی سرکاری تھا۔ جسے لوٹنا ہے لوٹ کر لے جائیں ہمیں پرواہ نہیں۔ہم کسی کی جان نہیں لیں گے اور نہ اپنی دیں گے جبکہ اس گھر میں رہنے والے دفاع کے ضامن پنجاب کے ہر گھر کے محافظ کا یہ گھر تھا۔کہا جاتا ہے چند غنڈہ عناصر کو آتے دیکھ کر اپنی ذاتی اشیا اٹھا کر گھر بیوی بچوں سمیت شرافت کامظارہ کرتے ہوئے غنڈوں سے منہ لگائے بغیر گھر کے دروازے کھلےچھوڑ کر چل دیئے۔پھر غنڈوں نے کھانا،فروٹ کھایا اور کچھ یہ ساتھ بھی لے گئے کسی کے ہاتھ پینٹ ا? اور کسی کے ہاتھ مور آیا۔گھر میں داخل ہونے جو چیز ساتھ لے جا نہ سکے اسے توڑا پھر جلایا ایسا کرنے سے کسی نے روکنا گوارہ نہیں کیا۔مال مفت دل بے رحم پر عمل ہوتا ہوا دکھائی دیا۔ اگر مکین خود ہی سیسہ پلائی دیوار بن کر سامنے کھڑے ہو جاتے تو کیا تھا۔چرند پرند بھی اپنے سے بڑے دشمن کو گھونسلے میں داخل نہیں ہونے دیتے۔اگر گھر کے مکین ان سے مقابلہ کرتے اپنا فرض نبھاتے تو آج فوج اور اپنا نام روشن کرتے،سزا سے بچ جاتے۔ اب اس گھر کی حالت دربار جیسی ہے۔ لوگ یہاں ٹولیوں کی شکل میں حاضری دینے آتے ہیں۔ نعرے مارتے ہیں، سلفیاں بناتے ہیں۔ گزارش ہے اس واقعہ کے بعد بانی پاکستان کے گھر کو اصلی حالت میں محفوظ کیا جائے یہاں کسی کورہنے نہ دیا جائے۔ بے شک ہم سب کا اللہ محافظ ہے۔ اس تاریخی وراثت کو فلاحی امور کےلئے اوپن رکھا جائے۔ہر سال9مئی کو اس جگہ پھول اور رات کو چراغاں کیا کریں۔ 9 مئی ہمارے لئے شرم اور دشمن کےلئے خوشی جبکہ اداروں کےلئے سوچنے سمجھنے اور سبق حاصل کرنے کا دن تھا اس روز ایسے ایسے واقعات رونما ہوئے جن پر کبھی کسی نے سوچانہ تھا۔نشان حیدر کے حامل شہید کے مجسمے کو گرایا۔ایم ایم عالم کے ماڈل جہاز کو جلایا گیا۔جلا کر اربوں کا نقصان کیا۔جن کی وجہ سےایسا ہوا وہ اس پارٹی کو چھوڑ کر نئی جماعت میں شامل ہو چکے ہیں۔ان پرالیکشن کی پابندی لگائی جائے۔ ان سے نقصان پورا کیا جائے۔ ان واقعات کو دیکھ کر دل خون کے آنسو رویا۔ایم ایم عالم جب زندہ تھے تو بھی مشکل حالات سے دو چار رہے اور اب 9مئی کو ان کے جہاز کے ساتھ لگتا ہے انہی کی باقیات نے ان کےساتھ وہی سلوک کیا جھنوں نے ان کی زندگی میں ان کی سروس کے دوران ان کے ساتھ برا سلوک اپنائے رکھا تھا۔ ہسٹری کے ورلڈ ریکارڈ ہولڈر ایم ایم عالم کو 1982میں قبل از وقت ریٹائر کر کے زیرو کر دیاگیا تھا وہ اس وقت ائیر کموڈور تھے۔ ایم ایم عالم کی پنشن سمیت تمام مراعات روک لی گئیt تھیں،ایم ایم عالم کہا جاتا ہے ایک سچے درویش صفت انسان تھے، ان کا کوئی ذاتی گھر نہیں تھا۔ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد چک لالہ ائیر بیس رالپنڈی میس میں رہے، وہ ایک کمرے تک محدود تھے، کتابیں تھیں، عبادت کرتے اور ان کی تلخ حقیقت پر مبنی باتیں ہوا کرتی تھیں۔حکومت کوشش کر کے نوجوان افسروں کو ان سے دور رکھتی تھی لیکن اس کوشش کے باوجود بھی اگر کوئی جوان افسر ان تک پہنچ جاتا تھا تو اس کے کوائف جمع کر لیے جاتے تھے اور بعد ازاں اس پر خصوصی نظر رکھی جاتی تھی چنانچہ نوجوان افسر بھی ان سے پرہیز کرنے لگے۔جنرل ضیاء الحق کے بعد ائیر فورس نے انھیں پنشن اور دیگر مراعات دینے کی کوشش کی لیکن انھوں نے لینے انکار کر دیا، وہ خوددار انسان تھے، وہ فاقہ کاٹ لیتے تھے لیکن کسی سے شکایت نہیں کرتے۔ مدت بعد ایک ایسا شخص ائیر چیف بن گیا جس نے ان کی کمان میں کام کیا تھا۔اس نے ان کے تمام دوستوں کو درمیان میں ڈالا، دو درجن لوگوں نے ان کی منت کی اور یوں وہ ریٹائرمنٹ کی طویل مدت بعد صرف پنشن لینے پر رضا مند ہوئے ۔ پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو ایم ایم عالم نے ان پر بھی تنقید شروع کی جس پرخفیہ ادارے پھر ایکٹو ہوئے، ایک بار پھر ان کی گفتگو ٹیپ ہوئی ۔ ٹیپ اعلیٰ شخصیت کوسنائی گئی جس کے بعد انہیں راولپنڈی سے کراچی پہنچا دیا گیا، وہ انتقال تک فیصل بیس میں ہی رہے۔ 18 مارچ 2013 کو اس جہاں فانی سے کوچ کر گئے ۔ 9 مئی کو چوراہے پر رکھے ایم ایم عالم کے ایک ماڈل جہاز کو نقصان پہنچانے پر ہماری قومی کی غیرت جاگ اٹھی تو اس کے ساتھ اپنوں کے لگے زخم بھی جاگ اٹھے۔ 9 مئی کے واقعات پر قانون موجود ہے مگر سزا کا عمل سست ہے ۔ آئن سٹائن اپنے نفسیاتی معالج کو کہتے تھے کہ ذہین ترین افراد کیساتھ نفسیاتی پرابلم بہت زیادہ ہوتی ہیں وہ کبھی خوش نہیں رہ سکتے۔ نوبل انعام یافتہ مصنف ایمس ہمنگوے کا مشہور مقولہ ہے کہ بہادر مارے جاتے ہیں ذہین پاگل ہو جاتے ہیں اور دنیا بیوقوفوں سے بھری رہتی ہے جبکہ انگریز کہتا ہے جہالت بڑی نعمت ہے۔شعور آپ کو تکلیف میں ڈالے رکھتا ہے اور یہ وہ تکلیف ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے۔اس تکلیف میں آپ اکیلے ہی ہوتے ہیں۔ 9 مئی کے بعد لگتا ہے ” دنیا ہمارے ایٹم بم سے کم اور کشکول سے زیادہ ڈرنے لگی ہے”





