راﺅ طاہر پاکستان میں ہر سال مون سون کا موسم معمولات زندگی پر بری طرح اثر انداز ہوتا ہے شدید بارشوں کی وجہ سے ندی نالوں میں طغیانی آجاتی ہے اور کچے مکانات گر جاتے ہیں بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب کے باعث پانی کا زور دار بہا یا ریلا اپنے ساتھ سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے جہاں سے بھی سیلابی ریلہ گزرتا ہے وہاں تباہی یقینی ہوتی ہے جب بھی ہمیں سیلاب کا سامنا کرنا پڑا ہے تو ہزاروں کی تعداد میں لوگ لقمہ اجل بن گئے لاکھوں افراد بے گھر ہو جاتے ہیں اور مالی نقصان کا اندازہ فوری طور پر لگانا بہت مشکل ہوتا ہے سیلاب معاشی طور پر ملک کو بہت نقصان پہنچا کر پستی کی جانب لے جاتا ہے علاوہ ازیں وسیع پیمانے پر متاثرین میں کئی وبائی بیماریاں بھی پھوٹ پڑتی ہیں جس کے نتیجے میں بھی بھاری تعداد میں اموات ہوتی ہیں پاکستان میں قدرتی آفات کی شدتوں اور تعداد میں ماضی کی نسبت بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے گزشتہ چند سالوں سے موسمیاتی تبدیلی کے باعث واضح تبدیلی سامنے آرہی ہے بارش جو یقینا اللہ کی رحمت ہے ملک کے کم و بیش سب ہی علاقوں میں اکثر و بیشتر شدید تباہی اور بربادی کا سبب بن جاتی ہے ملک میں مون سون جاری ہے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مون سون کا دورانیہ تین ماہ کا ہوتا ہے اس وقت مون سون کا پانچواں سپیل چل رہا ہے ماہ جولائی میں پورے میں 7 فیصد کم بارشیں ہوئی ہیں جبکہ این ڈی ایم اے کے اعداد وشمار کے مطابق یکم جولائی سے 31جولائی تک بارشوں اور ان کے سبب ہونے والے حادثات میں99 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ قدرتی اور موسمی حالات کا ترقی یافتہ ممالک بھی پوری مقابلہ نہیں کر پاتے جبکہ پاکستان میں سرے سے اس ضمن میں کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آتی ہمارے ملک میں بیش تر تباہ کاری قدرتی آفات کی وجہ سے کم اور ناقص منصوبہ کی وجہ سے زیادہ ہوتی ہے دنیا کے بہت سے ملکوں میں جہاں ہمارے ہاں سے کہیں زیادہ بارشیں ہوتی ہیں ایسے مسائل کیوں سر نہیں اٹھاتے؟ اس کی وجہ مقامی حکومتوں کا فعال نظام تمام شہری سہولتوں کی ہمہ وقت دستیابی فعال و مستعد سرکاری مشینری سرکاری فنڈز کا درست استعمال کرپشن کی مکمل روک تھام اچھی کارکردگی پر حوصلہ افزائی اور ذمے داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی پر قرار واقعی باز پرس کا نظام ہے ملک میں بارشوں اور سیلاب وغیرہ سے نبٹنے کے لئے تھوک کے حساب محکمے موجود ہیں جن کے افسران اور ملازمین تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں لیکن ان کی کارگردگی نہ ہونے کے برابر ہے اور یہ تمام کے تمام زنگ آلود ہوچکے ہیں ماہرین موسمیات نے دو ماہ قبل ہی رواں سال معمول سے 35 فیصد زیادہ بارشیں ہونے کی وارننگ جاری کردی تھی مگر اس کے باوجود صوبوں کی سطح پر ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے انتظامات دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ حکام نے اس الرٹ کو بھی معمول کی کارروائی سمجھا تھا گلوبل وارمنگ موسمیاتی تغیر کے باعث بارشوں میں اضافہ اور سیلاب کے خطرات بڑھتے جارہے ہیں پاکستان کا موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے متاثرہ ممالک میں چھٹا نمبر ہے لاہور سمیت پنجاب کے بعض شہروں میں ریکارڈ ساز بارش کی وجہ سے بھی مشکلات میں اضافہ ہوا مگر غیر معمولی بارشوں کے ان سلسلوں کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں دیکھنے کی اشد ضرورت ہے حقیقت یہ ہے کہ ہم ماحولیاتی تغیرات کی زد پر ہیں جن میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے مگر نقصانات اٹھانے میں ہم سر فہرست ہیں قحط جنگلات کی آگ گلیشیرز کا پھٹنا شدید ترین حدت اور بارشوں کا شدید اور نہ ختم ہونے والا سلسلہ پاکستان ایک عرصے سے ہر نوع کی ماحولیاتی آفات کا نشانہ بنا ہوا ہے عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں جنم لینے والی ان آفات سے نمٹنے کے لئے عالمی برادری خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک کی توجہ مالی امداد کے ان وعدوں کی جانب مبذول کروانے کی ضرورت ہے جو قریبا ایک دہائی سے ماحولیات کی عالمی کانفرنسوں میں تواتر سے کئے جارہے ہیں مگر ان پر عمل کی نوبت کبھی نہیں آسکی حالیہ طوفانی بارشیں دراصل سیلاب موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کی کڑی یاد دہانی ہے اس سے تباہی کے خدشے کو محدود رکھنے اور شدید موسمی واقعات سے نمٹنے کی تیاری زمین کے استعمال کی بہتر منصوبہ بندی اور پائیدار ترقی کے ایسے طریقے اختیار کرنے کی ضرورت واضح ہوتی ہے جن میں ماحول اور لوگوں کی بہتری کو مقدم رکھا جائے ماہرین ماحولیات ملک میں شدید بارشوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی ومالی نقصانات کا بنیادی سبب ناقص انفراسٹرکچر کو ٹھہراتے ہیں اگر موسمیاتی تغیرات کے پیش نظر یا 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد بارشی پانی کو محفوظ کرنے کا بندوبست کرلیا جاتا تو آئے روز ہونے والی ہلاکتوں اور نقصانات کو کس قدر کم کیا جاسکتا تھا یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان کے موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے کا سلسلہ رکنے والا نہیں اور مستقبل میں ہمیں مزید قدرتی آفات کا سامنا کرنا پڑے گا حکومت پاکستان عالمی اداروں کی رپورٹوں جائزوں اور سفارشات کو مد نظر رکھتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی کے مختلف پہلوں بشمول اہم پالیسی اور آب و ہوا سے متعلقہ مداخلتوں کو حل کرنے کی حکمت عملی اپناتے ہوئے پالیسی فریم ورک تیار کرنے کے لئے سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ٹھوس اقدامات کرے تاکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ان مسائل پر قابو پایا جاسکے جن میں ہر گزرتے دن کے کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے اب بھی وقت ہے حکومت اور متعلقہ ادارے موسمیاتی تبدیلی بارش اور سیلاب سے پیش آنے والے خطرات سے بر وقت خبردار کرنے کے بجائے بارش اور سیلاب سے نمٹنے کے لئے ٹھوس حکمت عملی تیار کریں ملک بھر میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے اور اس کی نکاسی کا موثر نظام متعارف کروایا جائے تاکہ تباہی پھیلانے کی بجائے یہ پانی ملک کی جملہ آبی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کام آسکے ملک بھر میں صوبائی سطح پر ہر دو تین ماہ کے بعد گندے نالوں کی صفائی کو یقینی بنایا جائے علاوہ ازیں حکومت چھوٹے آبی ذخیروں کی تعمیر پر خصوصی توجہ دے ملک میں بارشوں کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے ڈیمز موجود نہیں جس کے باعث لاکھوں گیلن پانی سمندر میں جا گرتا ہے عالمی ماہرین مستقبل میں خشک سالی و قحط کا بارہا انتباہ جاری کررہے ہیں ایسے میں آج کا محفوظ کیا گیا پانی ہی کل ہمارے کام آئے گا۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں