بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Tuesday, 28 July 2026 | پاکستان: 14 صفر 1448

اسلامی نظریاتی کونسل کی گولڈن جوبلی

Saturday, 1 March, 2025

پاکستان اسلام کے نام پر بننے والا دنیا میں پہلا ملک ہے جسکی بنیاد ہی کلمہ طیبہ تھی جب لے کے رہیں گے پاکستان کا نعرہ عروج پر تھا تو اس وقت پاکستان کا مطلب کیا لاالہ اللہ کی صدائیں بھی ہر طرف سے آرہی تھی ملک بن گیا اور ہم بگڑنا شروع ہوگئے ایک طرف تعلیم کی کمی تھی تو دوسری طرف مذہب سے دوری تھی اور رہی سہی کسر اشرافیہ کی لوٹ مار اور کرپشن نے پوری کردی جسکے بعد ہم ایک جذباتی قوم بن گئے جس نے جدھر لگایا اسی طرف چل پڑے اور تو اور ہم تفرقہ بازی میں اس قدر آگے نکل گئے کہ پھر کوئی مسجد محفوظ رہی اور نہ ہی کوئی امام بارگاہ اپنے جسم پر بارود باندھ کر دھماکہ کرنے والا پہلے نعرہ تکبیر لگاتا اور پھردرجنوں نمازیوں کو شہید کردیتا اقلیت ہمیں آپس میں لڑتے ہوئے دیکھ کر سہم گئی ہم نے بغیر کسی تحقیق کے اپنی عدالت لگائی اور پھر لوگوں کو مارنا شروع کردیا اس خطرناک صورتحال سے نمٹنے کے لیے جہاں ملک کے بہت سے اداروں نے اپنا کردار ادا کیا وہاں اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی نہ صرف بہت محنت کی بلکہ ہماری بیوقوفیوں کی وجہ سے دیگر ممالک کے ساتھ جو ہمارے تعلقات خراب ہورہے تھے اسے بھی معمول پر لانے میں اہم کردار ادا کیا سیالکوٹ واقعہ کے بعد سری لنکا کے ساتھ اسلامی نظریاتی کونسل نے جس خوش اسلوبی کے ساتھ معاملات کو حل کیا وہ بھی ایک مثال ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل کے اس وقت چیئرمین علامہ راغب نعیمی صاحب ہیںجو نہ صرف اسلامی معاملات بلکہ سیاسی معاملات کو بھی پوری طرح سمجھتے ہیں انکے والد صاحب علامہ سرفراز نعیمی شہید صاحب بھی پورے عالم دین تھے انکے مدرسہ جامعہ نعیمیہ سے فارغ التحصیل سینکڑوں علماءکرام اس وقت نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر کے 192ممالک میں اسلام کے سفیر بن کر محبت و امن کا درس دے رہے ہیں اسلامی نظریاتی کونسل کو بنے ہوئے 50سال سے زائد ہو گئے ہیں اور اب اسکی گولڈن جوبلی منائی جارہی ہے میں سمجھتا ہوں کہ علامہ راغب نعیمی صاحب سمیت اس کونسل کے تمام اراکین بھی اپنی گولڈن عمر میں ہیں اور اسی حوالہ سے انکی گولڈن جوبلی کی تقریبات کا آغاز بھی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ہوگیا ہے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پورجو درخشندہ روایات کی امین ہے اور اس میں ابتدا ہی سے مسلم اور غیر مسلم طلبہ اور ملازمین کام کرتے آ رہے ہیںاس یونیورسٹی کو سابق چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب نے چارچاند لگائے رکھے اور اپنے دور میں اسے صف اول کی یونیورسٹی بنا دیا اب ڈاکٹر کامران کی سربراہی میں یہ یہ یونیورسٹی اپنے تاریخی سفر پر گامزن ہے اس جامعہ میں طلبہ کی تربیت کے ساتھ ساتھ معاشرتی مسائل کے حل کے لیے بھی کامیاب کوششیں کی جاتی رہی ہیںگذشتہ روز پروفیسر ڈاکٹر شیخ شفیق الرحمن ڈین فیکلٹی آف اسلامک اینڈ عریبک اسٹڈیز ، ڈاکٹر سجیلہ کوثرچیئر پرسن شعبہ ادیان عالم و بین المذاہب ہم آہنگی اور ان کی ٹیم نے اسلامی نظریاتی کونسل کی پہلی قومی کانفرنس کا انعقاد کیااس کانفرنس کا مرکزی موضوع ”پاکستان میں بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ میں اسلامی نظریاتی کونسل کا کردار ”تھا۔ اس تقریب میں علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل، ملک اللہ بخش کلیار ممبر اسلامی نظریاتی کونسل، ڈاکٹر انعام اللہ ڈائریکٹر جنرل ریسرچ اسلامی نظریاتی کونسل اور مفتی غلام ماجد سینئیر ریسرچ آفیسر اسلامی نظریاتی کونسل نے بطور مہمان شرکت کی اس تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر ضیاءالرحمن، ڈاکٹر محمد خبیب، ڈاکٹر محمد سعید شیخ، پاسٹرمنور شہزاد عمر، نصیر احمد ناصر،علی گیلانی، عدیل چنڑ سمیت طلبہ، اساتذہ اور ملک کے معتبر ترین مسلم اور مسیحی اسکالرزسمیت یونیورسٹیز و کالجز کے پروفیسروں کے ساتھ ساتھ علاقہ کے باثر لوگوں نے بھی شرکت کی یہ کانفرنس جنوبی پنجاب کے لیے ایک تاریخی حیثیت کی حامل رہی ہے۔ علامہ راغب حسین نعیمی کونسل کے بارے میں بتایا کہ ہم ریاست مدینہ کے آئین یعنی مواخات مدینہ اور میثاق مدینہ کی رو سے وطن عزیز کی پالیسیوں کو مرتب کرنے کی سفارشات پیش کرتے ہیں اور ہمیں مذہبی طور پر اپنے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے متحد ہونا ہے تاکہ لا مذہبیت سے معاشرے کو بچایا جا سکے کونسل اب مختلف قانون ساز اداروں، قومی و بین الاقوامی جامعات اور تحقیقی مراکز سے رابطے میں آئے گی تاکہ تحقیق کے کام میں آسانی ہو پروفیسر ڈاکٹر شیخ شفیق الرحمن نے صدارتی خطبہ میں پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران کی نیابت کرتے ہوئے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا شعبہ ادیان عالم کی ساری ٹیم کی کاوشوں کو سراہااور بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے اسلامیہ یونیورسٹی اور ریاست بہاول پور کی کاوشوں کو واضح کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ کانفرنس ایک تاریخی کانفرنس ہے جو اسلامی نظریاتی کونسل کی گولڈن جوبلی تقریبات کے حوالے پاکستان بھر میں منعقد ہونے والا پہلا پروگرام ہے۔ ڈاکٹر سجیلہ کوثر نے اپنے شعبہ ادیان عالم و بین المذاہب ہم آہنگی کی کارکردگی کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے اس شعبہ کو بنے ہوئے صرف 2سال ہوئے ہیں اور اس دوران ہم نے متعدد سیمینار، بین الاقوامی کانفرنس اور انٹرفیتھ ڈائیلاگ بھی کروائے ہیں شعبہ کا مقصد معاشرے میں اس پیغام کو عام کرنا ہے کہ ہم سب مل جل کر ایسا معاشرہ تخلیق کریں جو امن و آتشی کا گہوارہ ہواسلامی نظریاتی کونسل کے ڈی جی ڈاکٹر انعام االلہ نے بتایا کہ کونسل نے اپنی حیثیت اور آئین پاکستان کے دائرے میں اقلیتی برادری کے حقوق کے تحفظ کرنے کی بھر پور کوششیں کی ہیں جس میں ہم سرخرو ہوئے اور اس معاملے میں یہ خیال بدرجہ اتم رکھا جاتا ہے کہ تمام سفارشات قرآن و سنت کے عین مطابق ہوں اس طرح کونسل مسلمانوں اور غیر مسلم برادری کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔مسیحی برادری کی نیابت کرتے ہوئے پاسٹر منور شہزاد عمر نے بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالہ سے شعبہ ادیان عالم اور اسلامی نظریاتی کونسل کے کردار کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مل جل کر ایک ایسا معاشرہ تخلیق کرنا ہے جہاں امن ہماری معاشرتی خوشحالی کا ضامن ہو۔اگر ہم اسلامی نظریاتی کونسل کی بات کریں تو یہ پاکستان کا ایک آئینی ادارہ ہے جوایوب خان کے دور حکومت میں اسلامی جمہوریہ پاکستان 1962 کے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت یکم اگست 1962 کو اسلامی نظریاتی کونسل کی مشاورتی کونسل کے طور پر قائم کیا گیا تھا جس نے کونسل کی تشکیل (آرٹیکل 199 – 203) اس کے افعال (آرٹیکل 204) اسلامی تحقیق کے قواعد و ضوابط (204) اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت قائم کیا تھاجسکے بعد اسلامی نظریاتی کونسل کو 1973 کے آئین کے آرٹیکل 228 میں اسلامی نظریاتی کونسل کے طور پر دوبارہفعال کیا گیا تھا کونسل کا دفتر لاہور میں واقع تھا جہاں یہ 26 ستمبر 1977 تک کام ہوتا رہا پھر ستمبر 1995 کو کونسل اپنی عمارت میں منتقل ہو گئی 1962 سے اب تک کونسل نے 190 اجلاس منعقد کیے اور پاکستان کے قوانین پر نظر ثانی کی، متعدد قانون سازی کی سفارش کی اور 90 سے زائد رپورٹیں پیش کیں یہ کونسل حکومت اور پارلیمنٹ کو اسلامی مسائل پر قانونی مشورہ دینے کا ذمہ دار ہے کونسل کے مندرجہ ذیل کام ہیں پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو قرآن و سنت کے مطابق قوانین کی سفارش کرنا،پارلیمنٹ، حکومت پاکستان، صدر پاکستان، یا گورنر کو کونسل کو بھیجے گئے کسی بھی سوال پر مشورہ دینا کہ آیا کوئی مجوزہ قانون اسلام کے احکام کے خلاف ہے یا نہیں،موجودہ قوانین کو اسلامی احکام کے مطابق لانے کے لیے سفارشات پیش کرنا،پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے رہنمائی مرتب کرنا کونسل ایک سالانہ عبوری رپورٹ پیش کرنے کی بھی ذمہ دار ہے جس پر پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں اس کی وصولی کے چھ ماہ کے اندر بحث کی جاتی ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *