فیفا ورلڈ کپ میں اسپین نے جیت کر دنیا میں دھوم مچا رکھی ہے۔فیفا ورلڈ کپ میں پاکستان کا نام بھی روشن ہوا ہے۔ یہ فخر اور عزت کی بات ہے کہ فیفا ورلڈ کپ میں کھیلے جانے والا فٹبال پاکستان کا بنایا ہوا تھا۔اچھا ہوتا اگر یہ فٹ بال پاکستان کے میدانوں میں بھی دکھائی دیتا۔فیفا ورلڈ کپ کا فائنل اسپین نے جیتا نہیں چھینا ہے جبکہ نیتن یاہو جیسوں کی کوشش تھی کہ مصر کی طرح اسکو بھی اسپین سے چھین لیا جائے مگر اسپین کے کھلاڑیوں نے ہمت جوش و جذبے سے ایک گول کی جیت سے یہ تاریخی فتح حاصل کی۔ اسپین نے ورلڈ کپ جیت کر بہت سی کہانیوں کو جنم دیا ہے۔ پہلی کہانی جس نے سب کو متاثر کیا وہ اسپین کے سب سے کم عمر مسلم فٹ بال کھلاڑی کی ہے۔ جس کا تعلق غریب گھرانے سے ہے۔ فٹبال کھیل بہت پرانا ہے۔شروع میں فٹبال چین میں کھیلی جاتی تھی،جسے کوجو (Cuju) کہا جاتا تھا لیکن جدید فٹ بال ایسویشن کے قوانین انگلینڈ میں بنائے گئے۔ 1863 میں فٹ بال ایسوسی ایشن (FA) قائم ہوئی اور اس کھیل کے باقاعدہ قوانین مرتب کیے گئے۔ اسی وجہ سے جدید فٹ بال کا بانی ملک انگلینڈ ہی ہے۔جس نے اس فیفا ورلڈ کپ میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ شروع میں انگلینڈ میں مختلف انداز کا فٹ بال مقبول تھا پھر سن 1904 میں فیفا کا قیام عمل میں آیا۔1930 پہلا فیفا ورلڈ کپ یوراگوئے میں ہوا اور یوراگوئے نے یہ کپ جیتابھی، اگر کرکٹ اور فٹ بال کا مجموعی طور پر موازنہ کیا جائے تو تقریبا ًہر اہم پیمانے پر فٹ بال کرکٹ سے آگے ہی نہیں بہت آگے ہے۔ کرکٹ انٹرٹینمنٹ ہے جبکہ فٹ بال ایک گیم ہے۔ آج فٹ بال دنیا ساری میں مقبول کھیل ہے۔تقریبا ً5 ارب افراد کسی نہ کسی مرحلے پر فٹ بال دیکھتے ہیں جبکہ کرکٹ ورلڈ کپ کے ناظرین تقریباً 2 سے 2.6 ارب ہیں۔ اس وقت فٹ بال دنیا کا سب سے مہنگا کھیل سمجھا جاتا ہے، کیونکہ بڑے فٹ بال کلبوں کی مالیت کئی ارب ڈالرز میں ہے۔اس کا اندازا اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں کے ٹرانسفر فیس 200 ملین یورو سے بھی زیادہ ہے۔کئی فٹ بال کھلاڑی سالانہ 100 ملین ڈالر سے زیادہ کماتے ہیں۔فیفا ورلڈ کپ اور یورپی لیگز سے اربوں ڈالر کی آمدنی انہیں حاصل ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں کرکٹ میں بھی انڈین پریمیئر لیگ (IPL) اور چند دیگر لیگز بہت منافع بخش ہیں لیکن مجموعی عالمی مالی حجم فٹ بال سے پھر بھی بہت کم ہے۔ دنیا میں فیفا (FIFA) کے 211رکن ممالک ہیں اور فٹ بال ایسوسی ایشنز ہیں جو اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے بھی زیادہ ہیں۔ تقریبا ًہر براعظم میں فٹ بال سب سے زیادہ مقبول ترین کھیلوں میں شمار ہوتا ہے۔اس لئے دنیا کا سب سے زیادہ مقبول کھیل فٹ بال ہے۔اس لئے کہ سب سے زیادہ مالیاتی حجم والا کھیل بھی فٹ بال ہی ہے۔ عالمی سطح پر فٹ بال
مقبولیت اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔2026 فیفا ورلڈ کپ میں انعامی رقم بڑھا دی گئی تھی۔ فاتح ٹیم کو 50 ملین امریکی ڈالر اور مجموعی انعامی فنڈ تقریبا ً871 ملین امریکی ڈالر ملے ہیں۔ اسپین کے نوجوان مسلم کھلاڑی جس کی اب ہر طرف شہرت کے چرچے ہیں۔اس کی کہانی کچھ یوں ہے اسپین کا لامین یامال مسلمان جو فٹ بال کا سب سے کم عمر کھلاڑی ہے ۔ اس سے پوچھا گیا کہ اتنی کم عمری میں اسپین کی ٹیم کی بڑی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھانے کا دباؤ وہ کیسے لیتے ہیں۔کہا میرے والد گھر کا خرچہ چلانے کیلئے سڑکوں سے چیزیں چن کر لاتے تھے، وہ دباؤ تھا۔ مجھے تو صرف فٹ بال کھیلنی تھی کہا جاتا ہے کہ اس کی پیدائش سے پہلے ان کے کم عمر والدین کرایہ ادا نہ کر سکے۔ اس مشکل وقت میں دو پڑوسی، جن کے نام لامین اور یامال تھے، آگے آئے اور اسکی فیملی کی مالی مدد کی۔ اس احسان کے بدلے اس کے والد نے عہد کیا کہ اگر ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو وہ اس کا نام انہی دونوں پڑوسیوں کے نام پر رکھیں گے۔ اسی لیے ان کا پورا نام لامین یامال ہے، جو اس احسان کی ہمیشہ یاد دلانے والی ایک زندہ نشانی ہے، لامین یا مال عربی نام ہیں عربی زبان میں ان ناموں کے معنی امانت دار اور خوبصورتی کے ہیں۔کہا جاتاہے جب لامین تقریبا پانچ برس کا تھا تو ان کے والدین الگ ہو گئے۔ ان کی والدہ نے اسپین کے شہر گرانولیرس میں ایک فوڈ ریسٹورنٹ کی معمولی تنخواہ پر کام کرتے ہوئے بیٹے کی پرورش کی۔ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ یہی ملازمت لامین کے فٹبالر بننے کی وجہ بنی۔ اسی کام کے دوران ان کی والدہ کی ملاقات کلب کے یوتھ کوآرڈینیٹر کی بیٹی سے ہوئی جو بعد میں لامین کے پہلے فٹبال کلب کا ذریعہ بنی۔ جب والدہ نے فیس ادا نہ کر سکنے کی پریشانی ظاہر کی تو کلب کے ذمہ دار نے کہا “اگر یہ بچہ کھیلنا چاہتا ہے، تو پیسے کبھی بھی رکاوٹ نہیں بنیں گے۔بچپن میں لامین کہا کرتے تھے”اگر میں فٹبالر بن گیا، تو آپ کو زندگی بھر کسی چیز کی فکر نہیں کرنی پڑے گی۔صرف سات سال کی عمر میں انہوں نے بار سلونا کی اکیڈمی میں شمولیت اختیار کر لی اور صرف پندرہ برس کی عمر میں ثابت کر دیا کہ ان کا وعدہ سچا تھا۔آج 19 سال کی عمر میں، لامین یامال دنیا کے سب سے بڑے فٹ بال مقابلے میں اسپین کی نمائندگی کر چکے ہیں ۔فیفا ورلڈ کپ کے جیتنے کے بعد اس نے اپنی والدہ اور چھوٹے بھائی کے ہمراہ عمرہ ادا کیا۔ اب یہ ایک جامعہ مسجد کی تعمیر کا کام بھی شروع کریں گے۔ کہا اللہ تعالیٰ نے اتنی کم عمری میں ہی میرے تمام خواب پورے کر دئے ہیں جو انہوں نے اپنے رب سے مانگے تھے۔کھیل کے دوران اس نے دنیا بھر میں اربوں ناظرین کی اسکرینوں پر 304 کا اشارہ چمکاتا رہا تاکہ کہیں نہ کہیں وہ دو پڑوسی بھی فخر سے محسوس کریں گے کہ ان کے ایک چھوٹے سے احسان کی گونج پوری دنیا تک پہنچ گئی ہے۔
حکومت پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پاکستان کے بنائے گئے فٹ بال سے یہ ورلڈ کپ کھیلا گیا۔اب رانا مشہود احمد خان چیرمین وزیر اعظم یوتھ پروگرام سے گذارش ہے کہ جس انداز سے پاکستان کے یوتھ پروگرام کو آپ چلا رہے ہیں اس پر ہم سب کو فخر ہے۔ اپ فٹ بال کو یوتھ پروگرام کے تحت سرکاری سکولوں کالجوں میں فٹبال کھیل کو لازمی قرار دیں اور اس کھیل کی سرپرستی بھی کریں۔ اسی طرح ملک کے پرائیوٹ ادارے اور رہائشی سوسائٹیاں بھی فٹبال گراؤنڈ اور ٹیمیں بنائیں اور دوسری ٹیموں سے مقابلے منعقد کیا کریں۔ یہ گیم دوسری گیموں کی نسبت سب سے سستی گیم ہے۔ ایک فٹبال سے بائیس کھلاڑی کھیلتے ہیں۔کھیل کا دورانیہ نوے منٹ کا ہوتا جس میں تیس منٹ کا وقفہ شامل ہے۔ہر کھلاڑی کا فٹ ہونا اس گیم کی لازمی شرط ہے۔ کون ٹیم جیتی اور ہاری ہے اس کا رزلٹ بھی نوے منٹ کے کھیلنے سے فوری مل جاتا ہے۔لہذا فٹبال پر توجہ دی جانے۔ ہمارے ہاں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے یہ ملک اگر فیفا ورلڈ کیلئے فٹبال بنا سکتا ہے تو فٹبال ٹیم کیوں نہیں۔ اس کی مثال اگر دیکھنا چاہتے ہیں تو اسلام آباد کے ایف ٹن کی گرین بیلٹ میں ایک رائٹر، وکیل شاعرہ محترمہ صائمہ بتول جعفری جس نے اسلام آباد کی گلیوں سڑکوں کے ننگے پاؤں والے بچوں میں بیر فٹ بیڈمنٹن کا کھیل متعارف کرایا شناخت دی اور اب ان میں مقابلے اور انعامات تقسیم ہوتے ہیں آپ نے ایسا اپنے ہم خیال ساتھیوں سے ملکر اس چراغ کو آندھیوں سے بچا کر روشن رکھے ہوئے جاری و ساری ہے۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔فٹبال کو کسی میدان میں پھینک کر تو دیکھیں بائیس نہیں پچاس کھیلنے والے آ جائیں گے۔اس کھیل سے میدان آباد ہونگے۔محبتیں بڑھیں گی لہذا دیر نہ کریں اس کھیل سے پاکستان کا نام روشن کریں۔ پاکستان زندہ باد۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں