(گزشتہ سے پیوستہ)
زمان اور مکان اس ناول کی بنت میں اساسی حیثیت رکھتے ہیں۔ناول کا زمان بیسویں صدی کے نصف آخر کے بائیس سال ہیں ،یعنی 1976 سے لے کر 1996 تک ، اور مکان کوکن اور اس کے اطراف ہیں۔ بمبئی کا بے حد مصروف اور معمور شہر بھی کوکن کے جنگلات جتنا وسیع ، گنجلک اور پرشور مقام ہے ۔ فرق صرف ایک ہے، اگر کوکن کے جنگلات کے بوڑھے درختوں اور آسمان پر تیرنے والے بادلوں پر بھوت رہائش پذیر ہیں ، تو بمبئی ہر طرح اور ہر رتبے کے انسانوں سے بھرا ہوا شہر ہے ۔اس شہر میں بھوتوں کےلئے کوئی گنجائش نظر نہیں آتی ۔یہ ایک متحرک اور مصروف شہر ہے ۔اس شہر میں رہنے والوں کو اتنا زیادہ کام کرنا پڑتا ہے کہ کوئی بھوت اپنے تساہل اور اپنی سستی کو کسی شہر کی رونق کی نظر نہیں کر سکتا۔ کوکن کے سرسبز جنگلات ، ندیاں ، دریا ، پہاڑیاں اور وادیاں اپنے جمال کی فراوانی کی وجہ سے اپنے اندر ایک خاص کشش رکھتی ہیں ۔ یہ کشش پرندوں ، جنگلی جانوروں ، انواع و اقسام کی تتلیوں اور انسانوں کے علاوہ بھوتوں کو بھی اپنا اسیر بنا لیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کوکن کے جنگلات کے درختوں پر اور کوکن پر تیرنے والے بادلوں پر بھوت بڑے شوق سے رہائش اختیار کر لیتے ہیں ، اور گاہے گاہے گریہ بھی کرتے رہتے ہیں، ناول نگار کی تحقیق کے مطابق بارش اداس بھوتوں کے آنسو ہوتے ہیں۔میں ابھی تک یہ جان نہیں پایا کہ ؛ بھوت کے ذکر کےساتھ ہی ہمارا دھیان فوراً پریت کی طرف کیوں چلا جاتا ہے ۔ یہ جانتے ہوئے کہ بھوت ہمارے خوف اور توہمات سے ،جبکہ پریت ہماری جبلت اور خواہش سے تعلق رکھتی ہے ، رحمان عباس نے یہاں کے اسرار و رموز کو نہایت مہارت سے اپنے ناول کی فضا بندی کےلئے استعمال کیا ہے۔ نژداں اڑتالیس عنوانات میں منقسم ناول ہے ،جبکہ اس کے آخری عنوان کےساتھ دو انجام بھی شامل ہیں ۔ واقعات کی زمانی ترتیب میں تغیئر کی تکنیک نے یاد کی زنبیل میں سے نکلنے والے خزانے کو ماہ و سال کی پیہم تبدیلی کے ساتھ ناول کے عجائب گھر کی زینت بنا دیا ہے۔ زمانی تغیئر کی اس تکنیک کی وجہ سے اس دلچسپ ناول کا آغاز اسکے آخری باب سے ہوتا ہے، گویا ناول کے آخری عنوان کا پہلا صفحہ اس ناول کے طلسم کدے کا دروازہ ”اداسی جو دوسری اداسیوں سے الگ تھی“کے عنوان سے کھول رہا ہے۔یہ پیراگراف شریفہ نامی کردار سے متعلق ہے ۔ شریفہ کے کردار کا ہمہ جہتی ارتقا اس ناول کا نمایاں موضوع ہے لیکن یہ واحد کردار نہیں ۔ ناول میں ماریہ، کلثوم ، رخسانہ اور شبنم کے کردار بھی ملتے ہیں۔مرد کرداروں میں شمبھو کے کردار کا ارتقا اور انجام حد درجہ معنی خیز معلوم ہوتا ہے ،اسی طرح سلیمان سیٹھ جیسے ہشیار شکاری کا کردار ہے، کہ جسکی اپنی نظر کرم منتظر اور التفات کی آرزو مند اس پر سوار ہوکر اسکی داڑھی تک کو کھینچتے ہوئے کان پر کاٹ لیتی ہے۔اور پھر شاردہ دیدی کی مختلف مساعی اور کشف المحجوب قسم کے افکار و خیالات بھی حیران کرتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ناول نگار زندگی کی پیچیدہ گرہیں کھولنے اور انسانی فطرت کے سربستہ راز عیاں کرنے کےلئے عورت کے مطالعے ، مشاہدے اور تجزیے کو معاون بنا رہا ہے ۔عمومی طور پر رحمان عباس کے ناول کی عورت ایک مکمل اور بیشتر اوقات حاوی اور فیصلہ کن کردار کا مظاہرہ کرتی نظر آتی ہے۔وہ الجھے ہوئے سماج، بکھری ہوئی اقدار اور نفسیاتی طور پر سہمے ہوئے اور بزعم خود”بہادر،منہ پھٹ اور ہتھ چھٹ“ مردوں کے مقابل اپنے جینے کے راستے کشادہ کرتی نظر آتی ہے ۔شاردہ دیوی نژداں کا ایک دلچسپ ، حیران کن اور مثالی کردار معلوم ہوتا ہے ۔دھرم ، مذہب اور عقیدے کی مجروح کی گئی کمیونٹی کو نجات کی راہ دکھانے والی اور فاصلاتی نظام تعلیم کے ذریعے علم و شعور حاصل کرنےوالی شاردہ دیدی کے خیالات بڑے واضح اور قابل فہم نظر آتے ہیں، وہ کہتی ہے کہ؛…ہر آدمی کنورٹیڈ یا جبراً کنورٹیڈ ہے ۔ بچہ بے مذہب پیدا ہوتا ہے ، شعور حاصل کرنے سے پہلے اسے مذہب کا اسیر بنا دیا جاتا ہے ۔ یہ بچپن کا بدترین استحصال ہے ۔ ہم سب بدلتے رہتے ہیں، خود تصور مذہب اور تصور خدا بھی بدلتا رہا ہے۔ بدلنا انتخاب سے زیادہ فطرت کا ایک قانون ہے ۔ ہر مذہب کا خالق سیاست کا ایندھن ہے ۔ مذہب کے نام پر ذات پات کا نظام تشکیل دیا گیا تھا جس نے صدیوں ہمارا استحصال کیا ۔ چنانچہ ہم نے مذہب اور دیوتاں کو خیر باد کہہ دیا۔”شاردہ دیدی دلت کمیونٹی کو بدنصیبوں کے چنگل سے نکالنے کےلئے مسلسل جدوجہد میں مصروف ہے۔ ناول کا مرکزی کردار مسلمان ہے اور اس کی قریبی دوست اور مرکز التفات پیہم ، ماریہ مسیحی کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہے لیکن یہ دونوں مذہب ، دھرم اور عقیدے کی سطح سے بہت اوپر اٹھ کر انسانیت کے رشتے کی اہمیت کے قائل اور معترف ہو چکے ہیں۔ان کےلئے شاردہ دیدی سے گفتگو سننے ،سمجھنے اور سیکھنے کی ایک صورت ہوا کرتی تھی۔ایک بار دوران گفتگو شاردہ دیدی کا فکر مندی سے کیا گیا استفسار یہاں وہاں کی مسلم کمیونٹی کے حوالے سے بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ؛ “ہم دلتوں کی ذلت بھری زندگی کا سبب ذات پات کا نظام ہے،کیا مسلمانوں کی بربادی کی وجہ تعلیم سے دوری اور مذہب کی ناقص تعبیر ہے؟۔ہم دلتوں کو تعلیم اور حقوق سے محروم کرنے کےلئے مذہب کا استعمال ہوا ،تمہیں تو معلوم ہو گا۔ یہ ضروری نہیں ایک کا مذہب صرف دوسرے کے مذہب کا دشمن ہو، ایک کا مذہب اسکے اپنے ماننے والوں کا بھی دشمن ہو سکتا ہے۔بیسویں صدی کے نصف آخر میں مذہب ، دھرم اور عقیدے کے نام پر پرامن اور علم دوست انسانوں کو انتشار و افتراق اور باہم منافرت کا شکار کرنے کا چلن عروج پر رہا ۔ اس علت نے مجموعی طور پر انسان کی ذلت میں اضافہ کیا۔نژداں ایک بڑے کینوس کا ناول ہے ۔اس نے بیسویں صدی کی ستر، اسی اور نوے کی دہائیوں میں اس خطے کے انسان کے اجتماعی ذہنی اور سماجی احوال کو نہایت دلچسپ اسلوب میں پیش کیا ہے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں