آج پوری دُنیا کے ایوانوں سے ایک ہی آواز بلندہورہی ہے”شکریہ پاکستان ۔ پاکستان زندہ باد”۔بلاشبہ وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمدشہبازشریف،سپہ سالار ، فیلڈ مارشل ،آرمی چیف حافظ جنرل سیدعاصم منیرکی کاوشیں انتہائی قابل تحسین اور پاکستان کیلئے باعث فخر ہیں ۔نہ صرف امریکہ ایران بلکہ پوری دُنیااِس اہم پیشرفت پرپاکستان کو بھرپور خراج تحسین پیش کررہی ہے ۔جنگ عظیم دوئم کے بعددُنیاکی تاریخ میں یہ بہت بڑی پیشرفت ہے کہ جب اقوام عالم بے یقینی کی صورتحال سے دوچارتھیں،دُنیاکی معیشت ہچکولے کھارہی تھی اورچین،روس،عرب ،افریقہ،وسط ایشیاء سمیت پوری دُنیاکی نگاہیں صرف اورصرف پاکستان پر مرکوز تھیں ۔ الحمداللہ۔پاکستان کی بھرپورکاوشیں رنگ لائیں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت منعقد ہونیوالی پہلی اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اجلاس سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا ہے۔اجلاس کی کامیابی کے بعدامریکہ اورایران دونوں ممالک کی قیادتوں نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف اورفیلڈمارشل آرمی چیف حافظ جنرل سیدعاصم منیر سمیت وفاقی وزیرداخلہ سیدمحسن نقوی کوبھرپورخراج تحسین پیش کیا۔اِسی طرح مذاکرات اور ثالثی کے حوالے سے قطرکی کاوشیں بھی قابل تحسین رہیں۔مذاکرات کے پہلے دورمیں 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے روڈ میپ پر اتفاق، سیاسی نگرانی کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کا قیام، اور مزید تکنیکی مذاکرات کے آغاز کا فیصلہ شامل ہے۔جس پر دوطرفہ دورپرکام شروع کر دیا گیا ہے ۔ پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیہ کے مطابق مفاہمتی یادداشت کے پیراگراف 5 میں مذکور مدت کے لیے فریقین کے درمیان ایک مواصلاتی رابطہ لائن بھی قائم کی گئی ہے تاکہ غلط فہمیوں اور حادثات سے بچا جا سکے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنایا جا سکے ۔ فریقین نے ایک ڈی کنفلکشن سیل کے قیام پر اتفاق کیا ہے، جس میں فریقین اور جمہوریہ لبنان شامل ہوں گے اور جسے ثالث ممالک کی معاونت حاصل ہوگی، اس کا مقصد لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے، تمام امور پر تکنیکی مذاکرات ہفتے کے بقیہ دنوں میں برگن اسٹاک ریزورٹ میں جاری رہیں گے۔اعلامیہ کے مطابق ثالثی کرنیوالے ممالک اس بات کو یقینی بنانے کیلئے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے کہ مذاکرات مثبت اور تعمیری ماحول میں آگے بڑھتے رہیں اور بالآخر ایک حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ قاہرہ میں جاری پاکستان ، مصر،سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کے چوتھے مشاورتی اجلاس میں بھی پاکستان کے کردارکی بھرپورستائش کی گئی ۔ وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ فریقین کی جانب سے کئے گئے وعدوں پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے۔انتہائی حوصلہ افزاء بات ہے کہ امریکہ نے ایران کے کچھ منجمداثاثوں کوبھی بحال کردیاہے جبکہ ایرانی تیل کے حوالے سے بھی امریکا نے ایرانی خام تیل،پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کیلئے لائسنس جاری کر دیاہے۔امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق لائسنس میں ایران کو خام تیل کی ترسیل اور فروخت کی اجازت 21 اگست 2026 تک ہوگی ۔ لائسنس کے تحت ایرانی خام تیل، پیٹرو کیمیکل اور پٹرولیم مصنوعات کی امریکا میں درآمد کی اجازت بھی ہوگی تاہم ایرانی تیل کی شمالی کوریا، کیوبا اور یوکرین ترسیل کی اجازت نہیں ہوگی۔اسلام آباد مفاہمتی یاداشت کے پہلے دورکی تکمیل اور کامیابی کے ساتھ ہی جہاں دُنیابھرکی معیشت کے حوالے سے بھی مثبت خبریں آناشروع ہوچکی ہیں وہیں ایرانی صدر مسعود پزشکیان پاکستان کاخصوصی طور پر شکریہ اداکرنے کیلئے پاکستان پہنچ چکے ہیں ۔ ایرانی صدردورہ پاکستان پرجہاں صدرآصف علی زرداری،وزیر اعظم محمدشہبازشریف ، چیئرمین سینٹ ،سپیکرقومی اسمبلی سمیت پاکستانی قیادت سے ملاقات میں شکریہ ادا کررہے ہیں وہیں ایرانی صدر کا یہ دورہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان حالیہ صورتحال میں پاکستان کے کردار کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔اِس میں کوئی شک نہیں کہ آج اقوام عالم بھی دُنیامیں امن کے حوالے سے قربانیوں اور کاوشوں پرپاکستان کی معترف ہیں ۔اُمیدواثق ہے کہ جس نیک نیتی سے پاکستان عالمی امن بحالی کے حوالے سے کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہے بہت جلد اسلام آباد مفاہمتی یاداشت کے دوسرے دورکے موقع پرمزیدمراحل عبورکرلئے جائیں گے اورپاکستان مکالمے، سفارت کاری اور ایک پُرامن و دیرپا حل کے حصول کیلئے اپنا دیانت دارانہ اور مخلصانہ کردارادا کرتا رہے گا۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں